شاعر : مومن خان مومن۔

تعارفِ غزل 
یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام مومن خان مومن ہے۔

تعارفِ شاعر 

مومن اردو کے ان چند باکمال شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی بدولت اردو غزل کی شہرت اور مقبولیت کو چار چاند لگے۔ مومن نے اس صفن کو ایسا عروج بخشا اور ایسے استادانہ جوہر دکھائے کہ غالب جیسا خود نگر شاعر ان کے ایک شعر پر اپنا دیوان قربان کرنے کو تیار ہو گیا۔ مومن صنف غزل کے صف اوّل کے شاعر ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری کی دوسری اصناف،قصیدے اور مثنوی میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان کا اصل میدان غزل ہے جس میں وہ اپنی طرز کے واحد غزل گو ہیں۔

(غزل نمبر ۱)

ناوک انداز جدھر دیدہء جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بےجاں ہوں گے

تشریح : مندرجہ بالا شعر میں مومن اپنے محبوب کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کے محبوب کی نگاہیں تیر کی طرح ہیں کہ وہ جس طرف اٹھ جائیں تو ادھر بیشمار لوگ گھائل ہو جاتے ہیں۔مومن مزید فرماتے ہیں کہ ان کے محبوب کی نگاہیں جس طرف اٹھتی ہیں ادھر بہت سے لوگ نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے چلے جاتے ہیں۔

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کرلے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں مومن شب ہجراں یعنی جدائی کی رات سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے جدائی کی رات تیرا اور ہمارا مدتوں ساتھ رہا ہے۔تو نے ہمیں ہر روز تڑپایا ہے، چین نہ لینے دیا ہے لیکن اب ہم اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں تو پھر تیرا ٹھکانہ کہاں ہو گا۔ تو پھر تو کسے تڑپائے گی۔

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر مومن شرمندہ و نادم لہجے میں فرماتے ہیں کہ جب ہمیں محبت نہیں ہوئی تھی تو ہمیں اسکی کتنی چاہ تھی لیکن محبت کر کے ہمیں کیا حاصل ہے فقط بے آرامی اور بے سکونی کی ۔ہمیں تو محبت کی سوغات بس بے چینی ہی ملی ہے اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں محبت کی چاہ و خوائش ہے۔

منتِ حضرتِ عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندہء احساں ہوں گے؟

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں مومن حضرت عیسیٰ کے مردے زندہ کرنے والے معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زندگی نے ہمیں بہت خجل و خور کیا ہے۔ ہمیں اس دنیا میں اور رہنے کی کوئی خوائش بھی نہیں ہے ۔ہم زندگی سے اس قدر تنگ ہیں کہ اس بے رحم زندگی کے لئے ہم حضرت عیسیٰ کا احسان کبھی نہیں لیں گے۔

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں وہی خارِ مغیلاں ہوں گے

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ موسم بہار کی آمد ہے اور اس موسم کی خوشبو سے تر ٹھنڈی ہوائیں جذبہ شوق کو ابھارنے کے لئے کافی ہوتی ہیں ۔اور یہ ہی حال ہمارا بھی ہے لیکن اس موسم میں ہمارے زخم پھر سے ہرے ہو گئے ہیں اور ہم ان زخموں سے چور جنگل جنگل صحرا صحرا پھرتے رہیں گے۔

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں مومن بڑی حسرت سے فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی تمام تر زندگی تو اپنے مجازی محبوب کے در کے آگے گزار دی ۔اپنی جوانی تو اپنے مجازی محبوب پر لٹا دی ۔اور جب آخری وقت آگیا ہے تو عشق حقیقی کی طرف مائل ہونے لگے ہیں لیکن کیا فائدہ عشق حقیقی کا اصّل مزہ تو جوانی میں ہے۔

(غزل نمبر ۲)

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ میرا محبوب بہت ظالم اور سنگ دل ہے۔ پہلے پہل تو وہ ہماری طرف دیکھتا تک نہیں تھا لیکن اب ہماری آہ و بکا سن کر ہماری طرف متوجہ ہونے کی عنایت تو ضرور کی ہے لیکن اب ہمیں سنگ دل محبوب نے تڑپانا و ستانا شروع کر دیا ہے جیسے یہ اسکا پسندیدہ مشغلہ ہو۔ اور جیسے اسے ہمیں ستانے میں لطف آتا ہو۔

موۓ آغاز الفت میں ہم افسوس
اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں مومن رنج کے انداز میں فرماتے ہیں کہ ہم محبت کی ابتدا میں ہی اپنے محبوب کے رویہ سے دلبراشتہ ہو گئے ، محبوب کی بے توجہی اور نامناسب رویہ نے ہمیں جلد ہی اس سے دور کر دیا۔ اس لئے محبوب کی ہمیں مزید ستانے کی خوائش اس کے دل میں ہی رہ گئی۔

چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا
گئی برباد سب محنت صبا کی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ میرے محبوب کی گلی سے گزر کر باغ کا راستہ آتا ہے۔لیکن میرے محبوب کے کوچے میں ایسا سحر ہے کہ جو اس گلی جاتا ہے وہیں ٹھہر جاتا ہے۔ اس کے قدم وہاں ہی جم جاتے ہیں اور باغوں سے تیرتی ہوئی خوشبو سمیٹتی ہوائیں بھی وہ سحر توڑنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ان ہواؤں کی محنت ہمیشہ رائگاں رہتی ہیں کیوں کہ محبوب کے کوچے سا سحر تو عاشق کے لئے کہیں بھی موجود نہیں۔

مجھے اے دل تری جلدی نے مارا
نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنی جلد بازی پر نادم ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا محبوب ہر کام میں دیر کا عادی ہے یہاں تک کہ محبت کرنے میں بھی لیکن ہماری بے چینی اور بربادی کی اصّل وجہ تو ہماری جلد بازی ہے .ہمارے دل نے ہی انتظار نہ کیا اور اسی وقت ہی محبت کا جواب محبت سے مانگا اور جب ہمیں وقت پر ہی جواب نہ مل سکا تو ہم نے جلد بازی کی۔ اس میں میرے محبوب کا تو کوئی قصور نہیں کیوں کہ اس کے مزاج میں ہی آہستگی شامل ہے۔

کہا اس بت سے جب مرتا ہے مومنؔ
کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر طنزیہ انداز میں فرماتے ہیں کہ ہم نے ساری زندگی محبوب کے در کی ٹھوکریں کھائی اور جب زخموں سے میرا وجود پارہ پارہ ہو گیا اور میں مرنے لگا تو لوگوں نے اس ستم گر سے کہا ہے کہ مومن کی کچھ تو خبر گیری کرو۔ تمہاری وجہ سے اسکا یہ حال ہے تو اس ستم گر نے بڑی بے نیازی سے کہہ دیا اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ جیسی اللّه کی مرضی ۔ہر کوئی اپنی موت مرتا ہے۔

سوال نمبر 1 : ذیل کے اشعار کی تشریح شاعر کے حوالے کے ساتھ کیجیے :

مینہ تو پوچھار کا دیکاح ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں میر نے اپنے آنسوؤں کی کثرت کو بارش سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ میر وہ انسان ہے جس کی ساری زندگی محرومی میں گزری ہے اور انہی محرومیوں نے ان کی طبیعت اتنی اداس کر دی ہے کہ جس طرح موسلا دھار بارش ہوتی ہے اسی طرح ہر وقت ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔

حیف! کہتے ہیں ہوا گلزار تاراجِ خزاں
آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بے گانہ تھا

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام خواجہ میر درد ہے۔

تشریح :
اس شعر میں شاعر نے استعارہ کا استعمال کیا ہے اور یہ شعر نادر شاہ کے ہاتھ ہونے والی دہلی کی تباہی کا کے بارے میں استعارہ ہے، جہاں حملوں نے اس باغ جیسے شہر کو ویرانے میں بدل دیا تھا۔شاعر کہتے ہیں کے خزاں کے اس موسم نے اس باغ کی بہار چھین لی ہے اور اس باغ میں میرا بھی کوئی تھا۔ وہ بھی لوٹ گیا ہے۔ جہاں سارا باغ اس خزاں کا شکار ہوچکا ہے وہاں میرا وہ عزیز بھی کہاں بچا ہوگا۔

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام اسد اللہ خاں غالب ہے۔

تشریح :
اس شعر میں شاعر محبوب کو بری و ذمہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ مجھے تم سے کوئی گلا شکوہ نہیں ہے میری زندگی میں جو دکھ درد تکلیف اور پریشانیاں آئی ہیں ان کا ذمہ دار میں تمہیں نہیں سمجھتا۔ یہ سب کو میری قسمت میں ایسے ہی لکھا ہوا تھا اور اس کو یوں ہی ہونا تھا ہماری قسمت میں ہی وصل کی گھڑیاں لکھ دی گئی تھی تو بھلا کیونکر ہمارا ملن ہوپاتا۔ یہ قسمت کا ہی کھیل ہےکے ہمیں تم سے ٹھوکر ملی۔

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غم ہائے نہانی اور ہے

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام اسد اللہ خاں غالب ہے۔

تشریح :
اس شعر میں شاعر نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ شاعر کہتا ہے میں نے کتابوں میں سنا ہے کے جہنم کی آگ بہت سخت گرم ہے۔ جس کا برداشت کرنا نامکمن ہے مگر میرا خیال ہے کہ دنیا میں اس کہیں زیادہ گرمی ان دل کے جذبات کی ہے، جو انسان دل کے تہہ خانوں میں چھپا کررکھتا ہے اور وہ اس کو جلا کر بھسم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور اس گرمی کے سامنے مجھے دوزخ کی گرمی کم ہی لگتی ہے۔

منتِ حضرتِ عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندہء احساں ہوں گے؟

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام مومن خان مومن ہے۔

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں مومن حضرت عیسیٰ کے مردے زندہ کرنے والے معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زندگی نے ہمیں بہت خجل و خور کیا ہے۔ ہمیں اس دنیا میں اور رہنے کی کوئی خوائش بھی نہیں ہے ۔ہم زندگی سے اس قدر تنگ ہیں کہ اس بے رحم زندگی کے لئے ہم حضرت عیسیٰ کا احسان کبھی نہیں لیں گے۔

مجھے اے دل تری جلدی نے مارا
نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی 

تعارفِ غزل 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام مومن خان مومن ہے۔

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنی جلد بازی پر نادم ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا محبوب ہر کام میں دیر کا عادی ہے یہاں تک کہ محبت کرنے میں بھی لیکن ہماری بے چینی اور بربادی کی اصّل وجہ تو ہماری جلد بازی ہے .ہمارے دل نے ہی انتظار نہ کیا اور اسی وقت ہی محبت کا جواب محبت سے مانگا اور جب ہمیں وقت پر ہی جواب نہ مل سکا تو ہم نے جلد بازی کی۔ اس میں میرے محبوب کا تو کوئی قصور نہیں کیوں کہ اس کے مزاج میں ہی آہستگی شامل ہے۔

سوال نمبر 2 : میر ، درد، غالب اور مومن کی شامل نصاب غزلوں میں سے چار ایسے شعر منتخب کیجیے جو آپ کو پسند ہوں اور اپنی پسندیدگی کی وجہ بھی بیان کیجیے۔

جواب :

مجھے میر تقی میر کا یہ شعر پسند ہے۔

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

اس شعر کے پسند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو اپنے آپ پر، اپنے اونچے عہدے پر، اونچے حسب نصب پر غرور ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ سب کسی کام کا نہیں، یہ دولت عیش و عشرت سب پانی کا بلبلہ ہے آپ یہ ہے کل نہیں ہوگی۔ آج تمہارے پاس ہے تو تم حاکم بنتے ہو کل یہ کسی اور کے پاس ہوگی تو کیا کرو گے جس اونچائی پر تم مان کرتے ہو وہاں کل صرف خساروں کا ماتم ہوگا۔

مجھے میر درد کا یہ شعر پسند ہے۔

حیف! کہتے ہیں ہوا گلزار تاراجِ خزاں
آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بے گانہ تھا

اس شعر کے پسند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شعر میں شاعر نے استعارہ کا استعمال کیا ہے اور یہ شعر نادر شاہ کے ہاتھ ہونے والی دہلی کی تباہی کا کے بارے میں استعارہ ہے، جہاں حملوں نے اس باغ جیسے شہر کو ویرانے میں بدل دیا تھا۔شاعر کہتے ہیں کے خزاں کے اس موسم نے اس باغ کی بہار چھین لی ہے اور اس باغ میں میرا بھی کوئی تھا۔ وہ بھی لوٹ گیا ہے۔ جہاں سارا باغ اس خزاں کا شکار ہوچکا ہے وہاں میرا وہ عزیز بھی کہاں بچا ہوگا۔

مجھے غالب کا یہ شعر پسند ہے۔

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غم ہائے نہانی اور ہے

اس شعر کے پسند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شعر میں شاعر نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ شاعر کہتا ہے میں نے کتابوں میں سنا ہے کے جہنم کی آگ بہت سخت گرم ہے۔ جس کا برداشت کرنا نامکمن ہے مگر میرا خیال ہے کہ دنیا میں اس کہیں زیادہ گرمی ان دل کے جذبات کی ہے، جو انسان دل کے تہہ خانوں میں چھپا کررکھتا ہے اور وہ اس کو جلا کر بھسم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور اس گرمی کے سامنے مجھے دوزخ کی گرمی کم ہی لگتی ہے۔

مجھے مومن کا یہ شعر پسند ہے۔

مجھے اے دل تری جلدی نے مارا
نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی 

اس شعر کے پسند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شعر میں شاعر اپنی جلد بازی پر نادم ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا محبوب ہر کام میں دیر کا عادی ہے یہاں تک کہ محبت کرنے میں بھی لیکن ہماری بے چینی اور بربادی کی اصّل وجہ تو ہماری جلد بازی ہے .ہمارے دل نے ہی انتظار نہ کیا اور اسی وقت ہی محبت کا جواب محبت سے مانگا اور جب ہمیں وقت پر ہی جواب نہ مل سکا تو ہم نے جلد بازی کی۔ اس میں میرے محبوب کا تو کوئی قصور نہیں کیوں کہ اس کے مزاج میں ہی آہستگی شامل ہے۔