ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بڑھیا کا بیٹا فوج میں ہوتا تھا اس نے اپنی ماں کو خط بھیجا۔بڑھیا پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھی وہ اپنے بیٹے کا خط لے کر دروازے کے سامنے بیٹھ گئی کہ کوئی راستے سے گزرے اور اسے خط پڑھ کر سنا دے۔ وہاں سے ایک فوجی کا گزر ہوا بڑھیانے اسے خط پڑھنے کو بولا تا خط دیکھ کر وہ رونے لگا۔

بڑھیا یہ سمجھ کر کہ خط میں کوئی بری خبر ہے وہ بھی رونے لگی۔ ایک پھیری والے کا وہاں سے گزر ہوا تو ان کو روتا دیکھ کر وہ بھی رونے بیٹھ گیا۔ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا جو ان تینوں ( بڑھیا ،فوجی اور برتن بیچنے والے) کو روتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے رونے کی وجہ دریافت کی تو بڑھیا نے خط کا بتایا جبکہ فوجی نے بتایا کہ وہ اس لیے رو رہا تھا کہ اس نے بچپن میں پڑھائی پر توجہ نہ دی۔اس لیے کوشش کے باوجود وہ خط نہ پڑھ سکا اور پڑھائی کے غم میں رو رہا تھا۔

Advertisement

پھیری والے نے بتایا کہ ایک سال پہلے کی بات ہے میں اپنے برتن بیچنے کے لیے نکلا تھا۔ راستے میں ٹھوکر لگی اور سارے برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ فوراً نئے برتن خریدنے تھے اور انھیں بیچ کر نقصان کی بھرپائی کرنی تھی۔ اس لیے تب رونے کا موقع نہیں مل سکا۔اج انھیں روتا دیکھا تو سوچا میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر رولوں۔جب اس شخص نے خط لے کر پڑھا تو آخر میں سب ہنسنے لگے کہ کہ خط میں کوئی دکھ والی بات نہ تھی بلکہ یہ لکھا تھا کہ بڑھیا کا بیٹا امجد اگلے مہینے چھٹی لے کر گھر آرہا ہے۔