Advertisement

ایہام سے مراد یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنیٰ پیدا کرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں، ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہو ایہام کہلاتا ہے۔ بعض ناقدین نے ایہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چار معنی ہوتے ہیں جب کہ ایہام میں ایسا نہیں ہوتا۔

Advertisement

اردو شاعری میں ایہام گوئی

ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراء کے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔

Advertisement

اسباب

ایہام گوئی کے بارے میں رام بابو سکسینہ اور محمد حسین آزاد دونوں کا خیال ہے کہ اردو کی ابتدائی شاعری میں ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اہم سبب ہندی دوہوں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی کے نزدیک اس زمانے میں فارسی شعراء کا دربار اور شعر و ادب کی محفلوں میں بہت اثر تھا۔ یوں بھی ادب میں دہلی والے فارسی روایات برتتے تھے۔ اس لیے یہ بہت ممکن ہے کہ متاخرین شعرائے فارسی کے واسطے یہ چیز عام ہوئی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک سبب ایہام گوئی کا ہندی دوہے ہیں اور دوسرا سبب متاخرین شعرائے فارسی سے متاثر ہو کر اس دور کے شعراء نے اپنی شاعری کی بنیاد ایہام پر رکھی۔

Advertisement

ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک ہر بڑے شاعر کی طرح دیوان ولی میں بھی بہت رنگ موجود تھے۔ خود ولی کے کلام میں ایہام گوئی کا رنگ موجود ہے۔ اگرچہ ولی کے ہاں یہ رنگ سخن بہت نمایاں نہیں لیکن ہر شاعر نے اپنی پسند کے مطابق ولی کی شاعری سے اپنا محبوب رنگ چنا۔ آبرو، مضمون، ناجی اورحاتم نے ولی کے ایہام کے رنگ کو چنا۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایہام کی ایک بڑی وجہ ولی کے کلام میں موجود ایہام گوئی کا رنگ بھی تھا۔

ان تین اسباب کے علاوہ ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اور اہم سبب محمد شاہی عہد کی درباری اور مجلسی زندگی تھی۔ یہ دور بر صغیر کا نہایت بحرانی دور رہا۔ محمد شاہ گو بادشاہ تو بن گیا تھا لیکن اس میں وہ صلاحیتیں موجود نہ تھیں جو گرتی ہوئی حکومت کو سنبھال سکتیں۔ یوں اس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے عیش و عشرت اور رقص و سرور کاسہارا لیا۔ یوں طوائفوں اور بھانڈوں کی محفلیں جمنے لگیں۔ اس قسم کی مجلسی فضا میں جہاں حسن و عشق کا تصور انفرادی کی بجائے اجتماعی جذبے کی صورت اختیار کر لے تو پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے پیرائے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایہام، رعایت لفظی، ذومعنی اور پہلو دار معنی، ضلع جگت، چٹکلے اور پھبتیاں وغیرہ ایسی محفلوں میں سب کو مزا دینے لگیں۔ یوں اس دور کے تہذیبی موسم اور معاشرتی زمین ایہام گوئی کے پھلنے پھولنے کے لیے نہایت مناسب تھی۔

Advertisement

مختصراً ان اسباب کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ہندی دوہوں کا اثر ،فارسی کے شعرائے متاخرین کی روایت دیوان ولی میں ایہام گوئی کے رنگ کی موجود گی اور محمد شاہی عہد کی مجلسی اور تہذیبی زندگی ایہام گوئی کے رجحانات کے عام کرنے میں معاون و مدگار ثابت ہوئی۔

ایہام گو شعرا

ایہام گوئی کے سلسلے میں آبرو، ناجی، مضمون ،یکرنگ، فائز اور حاتم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

Advertisement

آبرو
شاکر ناجی
شرف الدین مضمون
مصطفےٰ خان یک رنگ
شاہ حاتم

اردو شاعری پر اثرات

ایہام گوئی کی بدولت شاعری پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات پڑے۔ ایہام گویوں کی کوشش سے سینکڑوں ہندی اور مقامی الفاظ اس طور سے استعمال ہوئے کہ اردو زبان کا جزو بن گئے۔ نہ صرف الفاظ بلکہ ہندی شاعری کے مضامین، خیالات اور اس کے امکانات بھی اردو شاعر ی کے تصرف میں آ گئے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ ایہام گوئی کے رجحان سے جہاں اردد زبان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اس کے کچھ منفی اثرات بھی ظاہر ہوئے۔

Advertisement

جب ایک مخصوص فضا میں ایہام کا رواج ہوا جہاں الفاظ کی بازیگری کو استادی سمجھا جانے لگا تو شاعری صرف الفاظ کے گورکھ دھندے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ لفظ تازہ کی تلاش میں متبذل اور بازاری مضامین بھی شاعری میں گھس آئے۔ نیز جب شاعر لفظوں کو ایہام کی گرفت میں لانے کی کوشش میں مصروف رہے تو پھر شاعری جذبہ و احساس سے کٹ کر پھیکی اور بے مزہ ہو جاتی ہے اور یہی حال اس دور میں شاعری کا ہوا۔

ایہام گوئی کے خلاف رد عمل

ایہام گو شعراء کے بعد جو نیا دور شروع ہوا اس میں مظہر، یقین، سودا ،میر تقی میر، خواجہ میر درد،وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے ایہام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ اس دور میں ان لوگوں نے ایہام گوئی کی بندشوں کو شدت سے محسوس کیا ان کے سبب خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آجاتی تھی۔ یوں ایہام گوئی میں زیادہ شعر کہنا مشکل تھا۔ لیکن ایہام گوئی ترک کرنے کے بعد شعراء کے دیوان خاصے ضخیم ہونے لگے۔ شعراء کی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ اس نئے دور میں ایہام گوئی کے خلاف اس قدر احتجاج کیا گیا کہ شاہ حاتم جو ایہام گو شاعر تھے انہوں نے اس روش کو ترک کر دیا اور اپنے دیوان سے ایہام کے شعر نکال دیے۔

Advertisement
WikipediaSource
Advertisement

Advertisement

Advertisement