Advertisement

میرےآقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے”من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر” یعنی "جس نے جان بوجھ کر نماز کو چھوڑا تو یقیناً اس نے کفر کیا۔۔۔۔” مفتیان کرام تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ مومن اور کافر کے درمیان جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ مومن نماز پڑھتا ہے اور کافر نماز نہیں پڑھتا۔

Advertisement

میرے عزیز دوستو! ہماری زندگی سے سکون ختم ہونے کی سب سے بڑی وجہ نماز ترک کرنا ہے۔ ہماری زندگی سے آج جو اطمینان بالکل ختم ہوگیا ہے وہ نماز ترک کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس لیے نماز چھوڑنے کو،”دنیا و آخرت میں ناکامی کا ذریعہ بھی بتایا گیا ہے” ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک گاؤں سے گزر ہوا جہاں کثرت سے درخت تھے،نہریں جاری تھیں، لوگ بڑے خوشحال اور مہمان نواز تھے، لوگوں نے آپ کا خیرمقدم کیا ،خوب خدمت کی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کی اس طرح فرمانبرداری اور فراخ دلی کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے۔

Advertisement

پھر تین سال کے بعد آپ کا گزر اسی گاؤں سے ہوا تو اب دیکھتے ہیں کہ درخت‌ کم ہو گئے ہیں اور سخت خشک‌ بھی ہوگئے ہیں۔ نہریں بھی بند ہیں گاؤں اجڑ چکا ہے۔ آپ حیران تھے کہ آخر اتنی مختصر سی مدت میں کیا ہوگیا۔ اتنی دیر میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے اللہ کے بندے یہاں سے ایک بے نمازی کا گزر ہوا تھا جس نے چشموں سے پانی پیا تھا اس کی نحوست کا یہ اثر ہوا کہ درخت مرجھا گئے،نہرین خشک ہوگئیں اور گاؤں ویران ہوگیا۔تو دیکھا آپ نے کہ ایک بے نمازی کی نحوست کی وجہ سے پورے گاؤں کے خوشحال لوگ اللہ پاک کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔

اسی طرح ایک شخص کی بہن کا انتقال ہوگیا، غفلت میں اس کی رقم کی تھیلی قبر میں گرگئی، جب سب لوگ اسے دفن کرکے چلے گئے تو اسے اپنی تھیلی یاد آئی۔ تمام‌ لوگوں کے چلے جانے کے بعد وہ قبر کے پاس پہنچا اور قبر کھودنے لگا مگر یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ قبر میں شعلے بھڑک رہے ہیں۔ یہ دیکھتے ہی اس نے قبر پر مٹی ڈال دی اور انتہائی غمگین حالت میں روتا ہوا ماں کے پاس پہنچا۔ پھر ماں سے پوچھا کہ میری بہن کی کیسی عادات تھیں کہ اس کی قبر میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں؟ یہ سن کر ماں بھی رونے لگی اور کہا تیری بہن نماز میں سستی کرتی تھی اور نمازوں کے اوقات گزر جانے کے بعد دیر سے پڑھتی تھی یعنی نماز قضا کر کے پڑھتی تھی۔ تو اسے ظاہر ہوا کہ نماز قضا کر کے پڑھنے والے کو بھی عذاب ہوگا اور جو شخص سرے سے نماز پڑھتا ہی نہ ہو اس کے عذاب کی کیا انتہا ہوگئی۔استغفر اللہ العظیم۔

Advertisement

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نمازوں کی پابندی کرنے والا بنائے اور اور دنیا اور آخرت کے تمام عذابوں سے محفوظ فرمائے اور لوگوں میں نماز کے متعلق بیداری پیدا کرنے والا بنائے۔۔۔۔ آمین آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement