تحقیق کا مطلب ہے حقائق کی تلاش اور چھان بین۔ محقق شعر و ادب کے ان گوشوں سے ہمیں واقف کراتا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ادبی تحقیق میں عام طور پر ان شاعروں، ادیبوں یا کتابوں اور ان سے متعلق ادوار اور علاقوں کو موضوع بنایا جا تا ہے جن کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔

تحقیق کے ذریعے اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ نامعلوم حقائق دریافت کیے جائیں اور معلوم حقائق کی جانچ پرکھ کر کے غلطیوں کی تصحیح کی جائے۔ محقق کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ و مشاہدہ وسیع ہو، زبان پر عبور ہو، محتاط رویے کا مالک ہو، ذہن تجزیاتی ہو اور اس میں نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ان خوبیوں کے ساتھ اس میں ایمانداری، معروضیت اور غیر جانبداری کی خصوصیات کا ہونا بھی ضروری ہے۔

تحقیق اور تنقید میں نہایت گہرا رشتہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ تنقیدی صلاحیت کے بغیر محقق ادھورا ہے اور حقیقی وصف کے بغیر نقاد نامکمل۔ کسی ادیب ،شاعر یا ادبی تخلیق کے بارے میں تحقیق کرنے سے قبل یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس کی اہمیت کیا ہے، اس پر تحقیق کرنا ضروری ہے یانہیں۔ اس پر تحقیق ادب میں کسی اضافے کا موجب بن سکتی ہے یا نہیں۔

اردو میں ابتدا میں تحقیق پر توجہ نہیں دی گئی۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے فروغ حاصل ہوا اور کئی اعلی پائے کے محققین منظر عام پر آئے۔ اردو میں تحقیق کے ابتدائی اشارے میر تقی میر کے تذکرے” نکات الشعراء“ میں ملتے ہیں۔ سرسید احمد خاں کی ” آثار الصنادید“ ایک اہم تحقیقی کارنامہ ہے جس میں انھوں نے دہلی کی تمام تاریخی عمارتوں کی تاریخ پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مستقل باب میں دہلی کے مشاہیر کا تذکرہ کیا ہے۔

تحقیق کے ضمن میں گارساں دتاسی کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے ’’ تاریخ ادبیات ہندوی و ہندوستانی تحریر کی۔ اشپر نگر کی مرتب کردہ شاہان اودھ کے کتب خانے کی فہرست 1850 میں شائع ہوئی۔ مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی تصنیف آب حیات میں ادبی ولسانی تحقیق پر توجہ دی۔

اردو میں تحقیق کا با قاعدہ آغاز حافظ محمود شیرانی سے ہوتا ہے۔ ان کے بعد دیگر افراد نے بھی اس جانب توجہ دی۔ مولوی عبدالحق، محی الدین قادری زور، نصیرالدین ہاشمی، مسعود حسن رضوی ادیب،امتیاز علی خاں عرشی ،قاضی عبدالودود، مالک رام، رشید حسن خاں، نورالحسن ہاشمی ،مختارالدین آرزو مسعود حسین خاں، گیان چند جین، ابومحمد سحر ،عبدالقوی دسنوی ، تنویر احمد علوی اور حنیف نقوی کا شمار اردو کے اہم محققین میں ہوتا ہے۔