آٹھ مصرعوں پر مشتمل ایک فرانسیسی صنف ہے جو بہت بعد میں اردو میں متعارف ہوئی۔ یہ صنف اپنی مخصوص اور متعین بیت سے پہچانی جاتی ہے۔ اس میں موضوع کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ ترائیلے کے آٹھ مصرعوں میں پہلا ، تیسرا اور پانچواں مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا اور چھٹا مصرعہ بھی ہم قافیہ ہوتا ہے مگر پہلے، تیسرے اور پانچویں مصرعوں کے قافیوں سے الگ ہوتا ہے۔

اردو کے ترائیلے نگاروں میں عطا محمد شعلہ کے علاوہ مظہر امام اور نریش کمار شاد کے نام بھی آتے ہیں۔عطا محمد شعلہ کا ترائیلے ملاحظہ کیجیے:

آگے سوچیں تو مہ و مہر کی عمروں سے طویل
پیچھے دیکھیں تو ہو اک پل کا تماشا جیسے
ہےکھڑی بیچ میں اک عمر گریزاں کی فصیل
آگے سوچیں تو مہ و مہر کی عمروں سے طویل
پیار کرنے کو تڑپ اٹھیں کبھی اتنی جمیل
کبھی ماہر فن نے کوئی بت ہو تراشا جیسے
آگے سوچیں تو مہ و مہر کی عمروں سے طویل
پیچھے دیکھیں تو ہو اک پل کا تماشا جیسے