کسی تحریر، تخلیق ، تصنیف یا کسی متن کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں۔ ترجمہ رنگ و نسل، زبان و مذہب اور جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے اجنبی انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اس طرح دوسری زبانوں کے ادب اور افکار و علوم سے آگہی حاصل ہو جاتی ہے۔

ترجمہ ایک مشکل فن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس زبان سے ترجمہ کیا جا رہا ہے اور جس میں ترجمہ ہو رہا ہے، مترجم کو دونوں زبانوں پر قدرت حاصل ہو۔ ترجمے کے یہ محرکات قابل ذکر ہیں۔

  • مذہبی ضرورت اور تقاضے
  • ترقی یافتہ اقوام کی تہذیب
  • علوم وفنون اور ادبیات سے آگاہی کی خواہش
  • زبان و ادب کی ترقی وتوسیع
  • اقتصادی ، معاشی ، سیاسی اور صحافتی ضروریات۔

ترجمہ کے مختلف طریقے ہیں۔ لفظی ترجمہ، آزادتر جمہ تخلیقی ترجمہ وغیرہ۔اردو کے ابتدائی عہد میں فارسی، عربی اور سنسکرت سے اردو میں ترجمے کیے گئے۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں اردو نثر ونظم میں ترجمے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

انیسویں صدی میں فورٹ ولیم کالج اور دلی کالج سے ترجموں کو مزید فروغ حاصل ہوا۔ 1903 میں انجمن ترقی اردو کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت یورپین زبانوں، عربی فارسی اور سنسکرت سے کئی کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ 1921 میں وحیدالدین سلیم نے وضع اصطلاحات نام کی کتاب لکھی جو ترجمے کے سلسلے میں بڑی معاون ثابت ہوئی۔ دارالترجمہ عثمانیہ، حیدرآباد کے تحت مختلف درجات کی تقریباً ساڑھے چار سو کتابیں اردو میں ترجمہ کی گئیں۔

آزادی کے بعد مرکزی حکومت کے قائم کردہ اداروں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، دہلی ساہتیہ اکادمی اور نیشنل بک ٹرسٹ، دہلی وغیرہ نے بھی بہت سی کتابوں کے ترجمے کرائے اور مختلف علوم کی اصطلاحیں بھی تیار کیں۔مرکزی حکومت نے تعلیم تحقیق اور تربیت کے لیے یکم ستمبر 1961 ء کو این سی آر ٹی نام کا ادارہ قائم کیا ہے۔ اس ادارے نے اسکولی سطح پر تمام مضامین کی نصابی کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کرائے۔ یہ وہ واحد ادارہ ہے جو قومی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کے لیے ہندی انگریزی میں لکھی گئی درسی کتب کو اردو قالب میں پیش کرتا ہے۔