یہ بھی ترکیب بند کی طرح ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں آخری گروہ کے شعر یا مصرعہ ہر بند میں بار بار دہرایا جاتا ہے جسے ٹیپ کا شعر کہتے ہیں جبکہ ترکیب میں ہر ٹیپ میں نیا شعر ہوتا ہے۔

ترجیع بند کی مثال میں مولانا جمیل الرحمٰن قادری کا ایک کلام پیش خدمت ہے؀

نہ کیوں کر مدینے پہ مکہ ہو قرباں
کے ہی جلوہ گر اس میں محبوب یزداں
برستے ہیں ہر وقت انوار سبحاں
ہے ہر ایک گوشہ وہاں کا گلستاں
عجب دل کشا ہے مدینے کی گلیاں
معطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں
وہ گلیاں جہاں پر ملک سرجھکائیں
وہ گلیاں کہ عاشق کے دل میں سمائیں
وہ گلیاں کہ ہیں جنکی پیاری ادائیں
کسی کو ہنسائیں کسی کو رلائیں
عجب دلکشا ہے مدینے کی گلیاں
معطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں

یا

ترجیع بند کی تعریف

ترجیع کے معنی لوٹانے کے ہوتے ہیں۔ ترکیب بند میں ٹیپ کا شعر ہر بند میں نیا ہوتا ہے جب کہ ترجیع بند میں ٹیپ کے شعر کی تکرار ہوتی ہے۔ بعض نظموں میں ٹیپ کے شعر کے بجائے ٹیپ کا مصرع ہی بار بار دہرایا گیا ہے۔ مجاز کی نظم آوارہ ترجیع بند کی ایک مثال ہے۔ اس کے ہر بند کے آخر میں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں کی تکرار ہوئی ہے۔ اسی طرح نظیر اکبر آبادی کی نظم برسات کی بہار میں بھی ترجیع بند میں ہے۔ اس کے ہر بند میں کیا کیا بچی ہے یاروں برسات کی بہار میں مصرع کی تکرار ہے۔