Advertisement

تضمین لفظ ضمن سے بنا ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی چیز کی تہ میں رکھنا۔ اصطلاحی معنی میں اپنے یا کسی اور شاعر کےکلام پر مضمون کی مطابقت اور ردیف وقوافی کی پابندی کے ساتھ مزید مصرعوں یا بندوں کے اضافے کو تضمین کہتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی مشہور شعر کو اپنی نظم کے آخر میں استعمال کیا جا تا ہے اور کبھی کسی مصرعے پر پیش مصرعہ لگا دیتے ہیں۔ اس کی تیسری شکل یہ ہوتی ہے کہ کسی شعر کے پہلے مصرعے پر ردیف و قوافی کی پابندی کے ساتھ تین مصرے اور لگا دیے جاتے ہیں۔مومن نے شیفتہ کے مقطعے کی تضمین یوں کی ہے :

Advertisement
مومن کو دیکھ چشم میں آیا لہو اتر
یہ حال تھا کہ مضطر و حیراں تھے چارہ گر
کہتا تھا اک رفیق کو برباد دیکھ کر
”ایسی ہی بے قراری رہی متصل اگر
اےشیفتہ، ہم آج نہیں بچتے شب تلک.

تضمین کیے ہوۓ شعر یا مصرعہ کو واوین میں لکھا جا تا ہے۔ غالب کہتے ہیں :

Advertisement
غالب اپنا بھی عقیدہ ہے بقول ناسخ ”
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

واوین میں لکھا ہوا مصرعہ ناسخ کا ہے جس کی تضمین غالب نے کی ہے اور ان کے مصرعے پر پیش مصرعہ لگایا ہے۔ اردو کے بڑے شاعروں میں فارسی اور عربی شعر یا مصرعے پر بھی تضمین کی مثالیں بکثرت ہیں۔ کسی شاعر کی پوری غزل کے اشعار پر بھی تضمین کی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے سودا کی تضمین تضمین برغزل میر۔

Advertisement