Advertisement

کہا جاتا ہے کہ علوم دو طرح کے ہوتے ہیں،ایک علمِ لفظ اور دوسرا علم ہندسہ۔ جو لوگ علم ہندسہ میں کمال حاصل کرتے ہیں وہ سائندان( Scientist) کہلاتے ہیں اور جو لوگ علم لفظ میں کمال حاصل کرتے ہیں وہ”سائیں” کا درجہ پاتے ہیں۔

علم قدرت کی عطاؤں میں سب سے بڑی عطا ہے۔ دولت اور شہرت حادثاتی طور پر اور بنا مشقت بھی ہاتھ لگ سکتے ہیں۔لیکن علم بن طلب عطا ہونا ناممکن نہیں ہے۔علم ،انسان کو بصیرت عطا کرتا ہے جبکہ تعلیم رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کا نام ہے۔

انگریزی میں تعلیم کی تعریف یوں کی جاتی ہے۔
To bring positive change
in behavior.

تعلیم کے ذریعے ہم ڈگریاں حاصل کرسکتے ہیں اور اُن ڈگریوں کی بنیاد پر نوکریاں اور عہدے حاصل کرسکتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے ایسی تعلیم کا خلاصہ اپنے اس شعر میں یوں بیان کیا ہے۔

کہیں کیا، احباب کیا کار نمایاں کرگئے
بی اے کیا،نوکر ہوئے پنشن ملی اور مر گئے

کسی بھی معاشرے میں کسی شخص کا حقیقی مقام و مرتبہ اس کی تعلیم سے نہیں بلکہ اس کے علم سے ہی متعین ہوتا ہے۔ روایتی تعلیم کسی فرد کو وہ مقام نہیں دلاسکتی جو اس کے علمی مقام سے حاصل ہوسکتا ہے۔

Advertisement

ایسی تعلیم جو نوجوان نسل کے رویوں میں مثبت کی بجائے منفی تبدیلی لانے کا باعث بنے،سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ اسی موضوع سے مناسبت رکھنے والا ایک قول غور طلب ہے:

Advertisement

” There are obviously two types of education, one should teach us how to live and other how to make aliving.”

Advertisement

یعنی ایک تعلیم کے ذریعے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہم معاشرے میں کس انداز سے زندگی بسر کریں اور دوسری تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس تعلیم کے حصول کے بعد ہم اس کے ذریعے پیسہ کس طرح کمائیں؟

تحریرشمع ناصر
Advertisement

Advertisement