تمثیل کے لغوی معنی ہیں مثال دینا ، مطابقت قائم کرنا۔ ڈرامے کی صنف کو بھی تمثیل کہا جا تا ہے۔ غیر مادی یا غیر مرئی چیزوں کو مرئی شکل میں پیش کرنا تمثیل کہلاتا ہے۔ تمثیل میں عموماً اخلاقی اصلاح کے نقطۂ نظر سے ذہنی تصورات کو مجسم کر کے کرداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی نیکی ، بدی، لالچ ، حسد عشق، غلامی ، عیاری، ہمت ، بزدلی وغیرہ تمثیل کے کردار ہوتے ہیں جنھیں عام انسانی کرداروں کے طور پر پیش کیا جا تا ہے۔

تمثیل بیانیہ کہانی کا قدیم ترین اسلوب ہے۔ مذہبی واقعات اور دیوی دیوتاؤں کے قصوں میں اس کی بہت سی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پچ تنتر اور انوار سہیلی کی کہانیاں تمثیلی کہانیاں ہیں۔ گوتم بدھ سے متعلق جاتک کہانیوں میں بھی تمثیل کا رنگ غالب ہے۔ انجیل اور قرآن کے بعض بیانات تمثیلی خصوصیت رکھتے ہیں۔

اردو میں ملا وجہی کی ‘سب رس تمثیل کی نمایاں مثال ہے جس میں قصۂ حسن و دل کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے تمام کردارتمثیلی ہیں۔ سرسید کے بعض مضامین اور محمد حسین آزاد کے نیرنگ خیال کے مضامین بھی تمثیل کا اعلی نمونہ ہیں۔ مولوی نذیر احمد کے ناولوں میں بہت سے کردار اپنے ناموں کی وجہ سے تمثیلی کردار کہلاتے ہیں مثلاً توبتہ النصوح میں ظاہر دار بیگ کا کردار۔

سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتحپوری کے افسانوں میں بھی تمثیل کی کارفرمائی دیکھی جاسکتی ہے۔ نئے لکھنے والوں نے خالص تمثیل کو نمونہ بنا کر بہت سے ایسے افسانے لکھے ہیں جن میں تمثیل کا رنگ پایا جا تا ہے مثلاً انتظار حسین ، جوگندر پال ، غیاث احمد گدی، اقبال مجید، سلام بن رزاق اور انور خاں وغیرہ کے کئی افسانے تمثیلی نوعیت کے ہیں۔ شاعری میں بھی کہیں کہیں تمثیل کا رنگ نظر آتا ہے۔