Advertisement
  • نظم : نعت
  • شاعر : ماہر القادری
توؐ مقصدِ تخلیق ہے، توؐ حاصلِ ایماں
جو تجھ سے گریزاں، وہ خدا سے ہے گریزاں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب حضرت محمدﷺ سے محبت ہے۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ ہر شخص کے ایمان کا حاصل یہی ہے کہ وہ آپﷺ پر یقین رکھے۔ شاعر لکھتے ہیں کہ جو آپ ﷺ کی ذات سے گریزاں ہے دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بھی گریزاں ہے کیونکہ اللہ کو ماننے والے شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ کے محبوب پر بھی ایمان لائے۔

Advertisement
کردار کا یہ حال صداقت ہی صداقت
اخلاق کا یہ رنگ کہ قرآں ہی قرآں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سراپائے صداقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی زبان مبارک سے کوئی جھوٹی بات نہ کہی۔ ہمیشہ ہر جگہ سچ بولا۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ آپﷺ کا اخلاق اتنا اعلیٰ تھا کہ اس کی گواہی قرآن میں بھی موجود ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ قرآن میں جو کچھ موجود ہے وہ آپﷺ کے اخلاق ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر عمل قرآن پاک کی ترجمانی کرتا ہے۔

کیا نام ہے، شامل جو ہے تکبیر و اذاں میں
اس نام کی عظمت کے ہیں قربان دل و جاں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ کا نام بھی اس قدر عظیم ہے کہ تکبیر و اذاں میں اس نام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شامل کیا گیا ہے۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے نام مبارک کی شان ایسی ہے کہ ہر مسلمان کا دل اور جان آپﷺ کے نام پر بھی قربان ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہمیں آپﷺ سے اتنی محبت ہے کہ ہم ان کے نام کی خاطر اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔

اشکوں سے ترے، دین کی کھیتی ہوئی سیراب
فاقوں نے ترے، دہر کو بخشا سر و ساماں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوٶں کی وجہ سے دین کی کھیتی سیراب ہوئی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فاقوں کی وجہ سے ہی اس دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوا ہے اور اس دنیا کو زندگی گزارنے کے لیے ساماں میسر ہوا ہے۔ اس شعر میں شاعر کا مقصد یہ ہے کہ آپﷺ کی اٹھائی گئی تکلیفوں اور مشقت کی وجہ سے ہی اس دنیا کو فائدہ ہوا ہے اور اس دنیا کو زندگی گزارنے کے طریقہ کا علم ہوا ہے۔

انسان کو شائستہ و خوددار بنایا
تہذیب و تمدن، ترے شرمندۂ احساں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا میں آنے سے پہلے انسانوں میں تمیز و تہذیب کا فقدان تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں آکر اللہ کے حکم سے دین کی تعلیم لوگوں کو دی اور جینے اور رہن سہن کا صحیح طریقہ بتایا اور ان کو صراط مستقیم پر لائے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ کی ذات نے انسان کو شائستہ بنایا اور شاعر کہتے ہیں کہ تہذیب و تمدن جیسی چیزیں آپﷺ کی ذات کے مرہونِ منت ہی ہیں۔

رحمت کا یہ عالم ہے، مروت کا یہ انداز
ماہر سا گنہگار ہے، وابستہ داماں

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

تشریح

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ کی رحمت اور مروت کا یہ عالم ہے کہ مجھ جیسا گنہگار بھی آپﷺ کے دامن سے وابستہ ہے۔ شاعر کہتے ہیں آپﷺ اتنے رحیم اور عظیم ہیں کہ آپؐ اپنی امت کے گنہگار سے گنہگار شخص کے حق میں بھی دعائیں کرتے تھے اور اس کی مغفرت کی التجاء کرتے تھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ کا سراپا ہم سب کے لیے رحمت و شفقت کا باعث ہے۔

سوال 1 : نعت کے متن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالات کے دیے ہوئے جوابات میں سے درست جواب کے شروع میں (درست) کا نشان لگائیں۔

۱ : جس نظم میں رسول اکرم ﷺ کی تعریف کی جائے اسے کیا کہتے ہیں۔

Advertisement
  • ٭حمد
  • ٭نعت(✓)
  • ٭منقبت
  • ٭قصیدہ

۲ : اس نعت کے شاعر کا نام کیا ہے؟

  • ٭علامہ اقبال
  • ٭مولانا حالی
  • ٭ماہر القادری(✓)
  • ٭عبدالعزیز خالد

۳ : اس نعت میں ردیف کیا ہے؟

Advertisement
  • ٭ایماں
  • ٭احساں
  • ٭داماں
  • ٭ردیف موجود نہیں(✓)

۴ : مندرجہ ذیل میں سے کون سا لفظ نعت کا قافیہ ہے؟

  • ٭گریزاں(✓)
  • ٭فاقوں
  • ٭اذاں
  • ٭اشکوں

سوال 2 : مندرجہ ذیل شعر کی تشریح کریں۔

کردار کا یہ حال، صداقت ہی صداقت
اخلاق کا یہ رنگ کہ قرآں ہی قرآں

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ماہر القادری ہے۔

Advertisement

اس نعت میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سراپائے صداقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی زبان مبارک سے کوئی جھوٹی بات نہ کہی۔ ہمیشہ ہر جگہ سچ بولا۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ آپﷺ کا اخلاق اتنا اعلیٰ تھا کہ اس کی گواہی قرآن میں بھی موجود ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ قرآن میں جو کچھ موجود ہے وہ آپﷺ کے اخلاق ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر عمل قرآن پاک کی ترجمانی کرتا ہے۔

Advertisement

سوال 3 : مندرجہ ذیل شعر کا مرکزی خیال لکھیں۔

انسان کو شائستہ و خؤددار بنایا
تہذیب و تمدن ترے شرمندہ احساں

اس شعر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ آپﷺ کی ذات نے انسان کو شائستہ بنایا اور شاعر کہتے ہیں کہ تہذیب و تمدن جیسی چیزیں آپﷺ کی ذات کے مرہونِ منت ہی ہیں۔

سوال 4 : اس نعت میں استعمال ہونے والے قافیوں کی نشاندہی کریں۔

جواب : ایماں ، گریزاں ، قرآں ، جاں ، سر و ساماں ، احساں ، داماں۔

Advertisement

سوال 5 : مندرجہ ذیل الفاظ کا مفہوم لکھیں :

حاصل :ملنا ، فائدہ
گریزاں :بھاگنے والا
صداقت :سچا ہونا
عظمت :بزرگی
سیراب :پانی سے بھرا ہوا یا لبریز

سوال 6 : اس نعت میں سے اپنی پسند کے دو شعر لکھیں اور اپنی پسند کی وجہ بھی بیان کریں۔

کردار کا یہ حال صداقت ہی صداقت
اخلاق کا یہ رنگ کہ قرآں ہی قرآں

وجہ پسندیدگی

اس شعر میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا بیان ہے اور یہ شعر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہء حسنہ کے واقعات ذہن میں آجاتے ہیں۔

Advertisement
انسان کو شائستہ و خؤددار بنایا
تہذیب و تمدن ترے شرمندہ احساں

وجہ پسندیدگی

اس شعر میں شاعر یہ کہتے ہیں کہ آپﷺ کی ذات نے انسان کو شائستہ بنایا اور شاعر کہتے ہیں کہ تہذیب و تمدن جیسی چیزیں آپﷺ کی ذات کے مرہونِ منت ہی ہیں۔

Advertisement

سوال 7 : کسی اور شاعر کی کوئی نعت اپنی ڈائری میں لکھیں اور اس کے قافیوں کی نشان دہی کریں۔

نظم : نعت
شاعر : امیر مینائی

خلق کے سرور ، شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلِ داور ، خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم

نورِ مجسم ، نیرِ اعظم ، سرورِ عالم ، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم ، خضر کے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم

بحر ِ سخاوت ، کانِ مروت، آیۂ رحمت ، شافعِ امت
مالکِ جنت ، قاسم ِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم

رہبر ِ موسی ، ہادیٔ عیسی ، تارکِ دنیا ، مالکِ عقبی
ہاتھ کا تکیہ ، خاک کا بستر صلی اللہ علیہ وسلم

مہر سے مملو ریشہ ریشہ ، نعت امیرؔ ہے اپنا پیشہ
وِرد ہمیشہ رہتا ہے اکثر صلی اللہ علیہ وسلم

قافیہ

  • محشر
  • پیمبر
  • رہبر
  • کوثر
  • بستر
  • اکثر
Advertisement

Advertisement

Advertisement