Advertisement

غزل

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
میرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفات
بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے
ہاں، یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزا
آپ کچھ اس سے بھی بڑھ کر پُر جفا ہو جائیے
جی میں آتا ہے کہ اس شوخ تغافل کیش سے
اب نہ ملیے پھر کبھی،اور بے وفا ہو جائیے
دل سے یاد روزگار عاشقی دیجے نکال
آرزوئے شوق سے نا آشنا ہو جائیے
ایک بھی ارماں نہ رہ جائے دل مایوس میں
یعنی آخر بے نیاز مدعآ ہو جائیے
بھول کر بھی اس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاد
اس قدر بیگانۂ عہد وفا ہو جائیے
ہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگر
اس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے
چاہتا ہے مجھ کو تو بھولے نہ بھولوں میں تجھے
تیرے اس طرز تغافل کے فدا ہو جائیے
کشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرتؔ جی میں ہے
چھٹ کے ان جھگڑوں سے مہمان قضا ہو جائیے

تشریح

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے

غزل کے مطلعے میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب وہ جو آپ نے کرم کرنے کا عہد کیا تھا، وعدہ کیا تھا، اس عہد کو توڑ دیجیے۔ ہم سے اجنبی جیسا سُلوک کیجئے۔ اب حضور جائیے بھی نظر ناراض ہوتے ہیں تو ہوجائیے۔

Advertisement
میرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفات
بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے

میری اس بات،میرے اس حیلے پر کہ آپ ہم پر ظلم کر رہے ہیں قطع دھیان مت دیجیے بلکہ آپ پہلے سے بھی زیادہ بے مروت ہو جائیے۔

Advertisement
ہاں، یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزا
آپ کچھ اس سے بھی بڑھ کر پُر جفا ہو جائیے

ہاں ہاں میری بے اثر وفا کی یہی سزا ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ جفائیں ہم پر روا رکھیں۔

Advertisement
جی میں آتا ہے کہ اس شوخ تغافل کیش سے
اب نہ ملیے پھر کبھی،اور بے وفا ہو جائیے

شاعر کہتا ہے کہ اب میرے دل میں یہی آتا ہے کہ اس شوخ اور بے پروا محبوب سے اب کبھی دوبارہ نہ ملیں اور اس کی طرح ہم بھی اس سے بے وفائی کریں۔

دل سے یاد روزگار عاشقی دیجے نکال
آرزوئے شوق سے نا آشنا ہو جائیے

اس دل سے عاشقی کا شغل نکال دیں اور محبت کی خواہش سے بالکل انجان ہو جائیں۔

Advertisement
ایک بھی ارماں نہ رہ جائے دل مایوس میں
یعنی آخر بے نیاز مدعآ ہو جائیے

کوئی بھی خواہش اس دل میں باقی نہ رہے اور اپنے مُدعا سے بالکل بے پرواہ ہو جائیں۔

بھول کر بھی اس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاد
اس قدر بیگانۂ عہد وفا ہو جائیے

شاعر کہتا ہے کہ وفا کے وعدے سے ہم اس قدر بے گانہ ہو جائیں گے کہ کبھی بھولے سے بھی اس کو یاد نہ کریں گے۔

Advertisement
ہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگر
اس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے

شاعر کہتا ہے کہ ہائے رے یہ دل کی بے اختیاری کہ یہ تو سب کچھ درست ہے۔لیکن اس ناز و ادا کے پُتلے سے ہم کیوں کر خفا ہو جائیں؟ گویا نہیں ہو سکتا۔

چاہتا ہے مجھ کو تو بھولے نہ بھولوں میں تجھے
تیرے اس طرز تغافل کے فدا ہو جائیے

شاعر محبوب سے مخاطب ہے کہتا ہے کہ تو یہ چاہتا ہے کہ تو مجھ کو بھول جائے اور میں تجھے نہ بھولوں۔ ہائے اﷲ تیرے تغافل کے انداز پر قربان ہو جانے کو جی چاہتا ہے۔

Advertisement
کشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرتؔ جی میں ہے
چھٹ کے ان جھگڑوں سے مہمان قضا ہو جائیے

مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ غموں کی اس کشمکش سے حسرتؔ اب دل میں ہی آتا ہے کہ ان تمام جھگڑوں،جھملیوں سے چھٹ جائیں اور قضا کے مہمان ہو جائیں، یعنی موت کو گلے لگا لیں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement