تیری یاد سے ہم ایسے بے زار ہوئے ہیں
عصر؍نو کہتے ہیں ہم تار تار ہوئے ہیں

کچھ تو نکال اس مسئلے کا حل تو
تیرے لئے ہم بڑے دشوار ہوئے ہیں

ساکت نہ رہ کچھ تو کر اے میرے ہم دم
تیرے ہجر سے ہم بڑے پر یشان ہوئے ہیں

ہے علم مجھے اس وقتی جدائی کا لیکن
پھر نہ جانے کیوں تماشا ئ ہوئے ہیں

تو آ ، بیٹھ،مسکرا اور ذرا پوچھ میرا حال
تیرے بنا اپنا کیا حال بنا ۓ ہوئے ہیں