Advertisement

سوال:- جاں نثار اختر کی حالات زندگی اور شاعرانہ خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔

نام : سید جاں نثار حسین رضوی
تخلص : اختر
پیدائش : 1914ء خیرآباد (یوپی) میں پیدا ہوۓ۔
وفات : 1976ء میں بمبئی میں انتقال ہوا۔
اعزاز : "سوویت لینڈ نہرو” ایوارڈ سے نوازا گیا۔
والد : مضطر خیرآبادی (یہ بھی مشہور شاعر تھے)

Advertisement
  • پیدائش: 1914ء خیرآباد، آبائی وطن "گوالیار” (یوپی) میں پیدا ہوۓ۔
  • تعلیم: اختر نے دسویں جماعت تک تعلیم گوالیار کے وکٹوریہ کالجئیٹ ہائی اسکول میں حاصل کی۔ پھر علی گڑھ سے B.A. M.A. کا امتحان پاس کیا۔
  • ملازمت: وکٹوریہ کالج میں اردو کے لیکچرر ہوۓ۔ وطن کی تقسیم کے بعد بھوپال چلے گئے وہاں حمیدیہ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر ہوے۔ کچھ دنوں بعد ممبئی چلے گئے۔ہے اور بمبئی میں کئی فلموں کے لیے گیت بھی لکھیں۔
  • وفات: 1976ء میں بمبئی میں انتقال ہوا۔

شعری مجموعے: "سلاسل” "تارِ گریباں”نزرِبتاں” "جاوداں” "گھر آنگن” "خاکِ دل” اور "پچھلے پہر” ان کے شعری مجموعے ہیں۔
رباعی و قطعات کے مجموعے:
"گھر آنگن” ہے۔

Advertisement

شاعرانہ خصوصیات:

جاں نثار اختر کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جو زندگی کے بارے میں شاعری نہیں کرتے بلکہ شاعری کو زندگی بنا کر گزارتے ہیں۔ جاں نثار اختر نے غزلیں، نظمیں، رباعیات اور قطعات بھی کہیں۔ وطنی، قومی، سیاسی نظموں میں جاں نثار اختر کے جزبات اور لب و لہجے کا احساس ہوتا ہے۔

جاں نثار اختر اپنے ماحول اور معاشرے سے متاثر ہوکر اپنے جزبات اور احساسات اور تجربات کو غزلوں، نظموں، رباعیات اور قطعات کے اشعار میں پیش کیے۔

جاں نثار اختر بے پناہ صلاحیت کے مالک تھے۔ لیکن زندگی کی ناکامیوں نے ایک عرصے تک انہیں پسپا رکھا۔ اور جب کامیابیوں نے ان کے قدم چومے تو ان کا ایک خاص لہجہ سامنے آیا۔
جاں نثار اختر نے جو کچھ دیکھا اسے سچے اور کھرے احساس کے ساتھ بیان کیا۔ ان کے لہجے میں تازگی اور معصومیت ہے۔ ان کا لہجہ ان کے تمام معاصرین سے بالکل الگ ہے۔ بنیادی طور پر جاں نثار اختر غزل کے شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے نظمیں بھی کہیں۔
جاں نثار اختر کا شمار دورِ جدید کے ممتاز غزل گو شعراء میں ہوتا ہے۔

Advertisement

سوال1: مندرجہ ذیل غزل کے اشعار کی تشریح کیجئے۔

جب لگے زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے
  • معنی:- قتل : محبوب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
  • رسم : عادت/ رواج

حوالہ: یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

تشریح: غزل کے اس مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ جب محبوب اپنے عاشقوں پر ظلم و ستم کرتا تھا، تو اس زمانے میں سچے عاشق اپنے محبوب کی خوشی کے لیے دعا کرتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب نہ ایسے عاشق ہیں اور نہ ایسے محبوب، اس لیے شاعر کہتا ہے کہ آج کے زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی تمام رسموں کو ختم کر دیا جائے۔
(اس شعر میں شاعر نے محبوب کو قاتل کہا ہے)

Advertisement
  • محاورہ : رسم اٹھانا
  • مطلب : عادت کے خلاف کرنا
  • جملے : آج کے زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ تمام رسموں کو اٹھا دیا جائے۔
دل کا وہ حال ہوا ہے غمِ دوراں کے تلے
جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے
  • معنی:- غمِ دوراں : زمانے کا غم
  • لاش : مردہ جسم/ میت/ جنازہ

حوالہ: یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

تشریح:اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ زمانے کے غم کی وجہ سے ہمارے دل کا یہ حال ہو گیا ہے کہ اب اِس دل میں نہ تڑپ باقی رہی نہ جان باقی رہی۔ محبت کی ناکامی نے ہمارے دل کو پوری طرح توڑ دیا ہے۔ اب ہماری حیثیت چٹانوں کے بیچ دبی ایک لاش کی طرح ہو گئی ہے۔ (یعنی اب دل کسی کام کا نہیں رہا۔)
اس میں شاعر نے "غم زدہ دل” کو "لاش” سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement
ہم نے انسانوں کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا
کیا بُرا ہے جو یہ افواہ اُڑا دی جاۓ

معنی:- افواہ : غلط خبر اڑانا یا پھیلانا

حوالہ: یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

تشریح: اس شعر میں شاعر یہ افواہ پھیلانے کی بات کہہ رہا ہے کہ ہم نے عوام کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا ہے تاکہ یہ سن کر غم زدہ لوگ کچھ وقت کے لیے ان پریشانیوں اور دکھوں کو بھلا دے۔
(یعنی اس شعر میں شاعر نے ہمارے ملک کے سیاسی، سماجی ٹھیکیداروں پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ لوگ عوام کی بھلائی کے نعرے تو لگاتے ہیں، لیکن ان کے حق میں کچھ نہیں کرتے)

  • محاورہ : افواہ اڑانا
  • مطلب : غلط خبر پھیلانا
  • جملے : زید نے عبیر کے تعلق سے افواہ اڑائی کے عبیر امتحان میں ناکام ہو گیا۔
ہم کو گزری ہوئی صدیاں تو نہ پہچانیں گی
آنے والے کسی لمحے کو صدا دی جائے

معنی : صدیاں : سینکڑوں
صدا : گونج/ آواز

Advertisement

حوالہ:یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

تشریح: شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ جو صدیاں پہلے گزر چکی ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، وہ ہمیں کیسے پہچانیں گی کہ ہم کون ہیں، ہم نے کیا-کیا۔ اس لیے بہتر تو یہ ہے کہ آنے والے کسی لمحے کو آواز لگائی جاۓ۔ (یعنی وہ ایسا لمحہ ہو جو ہماری پہچان بن جائے اور ہم اس سے پہچانیں جاۓ۔ کہ ہم نے بھی دنیا میں آکر کچھ کیا ہے۔ )
اس شعر میں شاعر نے لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ جو وقت گزر گیا اس وقت کا رونا نہ رویا جائے بلکہ آنے والے وقت کی قدر کریں تاکہ کامیابی حاصل ہو۔

Advertisement
انھیں گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی
کیوں نہ کھلتے ہوۓ زخموں کو دعا دی جائے

معنی: گل رنگ : گلابی رنگ
دریچوں : کھڑکی

حوالہ:یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ آج یہ زخم ہے کل بھر جائیں گے۔ یہ دکھ، تکلیفیں سب ختم ہو جائے گی اور زندگی میں جو اندھیرا ہے وہ سحر (صبح) میں بدل جائے گی۔
(یعنی ایک ایسی صبح ہوگی جو خوشیوں سے بھری ہوگی، اور ہماری زندگی خوشیوں سے بھر دیگی۔اس لیے ہمیں پریشانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔)

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے، غزل کا فن کیا ہے
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

حوالہ: یہ شعر ہماری نصاب میں شامل ہے اور جاں نثار اختر کی غزل سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

تشریح:اس شعر میں شاعر نے غزل کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ غزل کسے کہتے ہیں، غزل کا فن کیا ہے یہ لوگ ہم سے آکر پوچھیں۔ در اصل غزل لفظوں میں آگ چھپانے کے مترادف ہے۔ (یعنی غزل ایسی ہو کہ جسے پڑھ کر یا سن کر آدمی تڑپ جاۓ۔ ایسا معلوم ہو کہ کسی نے آگ لگا دی ہے۔ تبھی اصل معنی میں غزل ہوگی۔

Advertisement

⭕️ مشقی سوالات و جوابات:

سوال1: غزل کے پہلے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

جواب: شاعر کہنا چاہتا ہے کہ اب تک اردو شاعری میں قاتل (محبوب) کو دعا دی جاتی تھی، اب اس رسم کو ختم کر دینا چاہیے۔

سوال2: زخم، قاتل، لاش، غم کے مناسبت کو کیا کہیں گے؟

جواب: ایسے الفاظ کو صنعتِ مراعات النظیر کہیں گے۔ (شعر میں کسی ایک لفظ کی مناسبت سے دوسرے الفاظ کو لانا مراعات النظیر یا مناسبتِ لفظی کہتے ہے۔)

Advertisement

سوال3: گل رنگ دریچوں سے کیا مراد ہے؟

جواب: "گل رنگ دریچوں سے” شاعری کی مراد ہے "تازہ زخم” جو سرخ یا گلابی ہوتی ہیں، جن سے خون ٹپکتا رہتا ہے۔ کیونکہ زخموں کا منہ کھلا ہوتا ہے، اور دریچے کے دروازے بھی کھلے ہوتے ہیں، اس لیے زخموں کا رنگ اور ان کا منہ کھلا ہونے کی وجہ سے گل رنگ دریچے کہا ہے۔

Advertisement

⭕️ مختصر ترین سوالات کے جوابات:

س1۔ جاں نثار اختر کا اصل نام کیا ہے؟

جواب: سید جاں نثار حسین رضوی ہے۔

Advertisement

س2۔ جاں نثار اختر کے والد کا نام کیا ہے؟

جواب: مضطر خیرآبادی ہے۔

س3۔ جاں نثار اختر کے شعری مجموعوں کے نام لکھوں؟

جواب: سلاسل، تار گریباں، نزربتاں، جاوداں، خاک دل، پچھلے پہر ان کے شعری مجموعہ ہیں۔

Advertisement

س4۔ جاں نثار اختر کو کون سا اعزاز پیش کیا گیا؟

جواب: سوویت لینڈ نہرو اعزاز پیش کیا گیا۔

س5۔ جاں نثار اختر کا شمار کن دور کے شعراء میں ہوتا ہے؟

جواب: اختر کا شمار دور جدید کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔

Advertisement

س6۔ جاں نثار اختر کی قطعات کے مجموعہ ہے؟

جواب: گھر آنگن

س7۔شاعر نے غزل کے دوسرے مصرعے میں "غم زدہ دل” کو کس سے تشبیہ دی ہے؟

جواب: "لاش” سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement
تحریرطیب عزیز خان محمودی⭕️
Advertisement

Advertisement