Advertisement
  • باب نمبر 11:حصہ نظم
  • سبق کا نام:-غزل: جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
  • شاعر کا نام:جاں نثار اختر

اشعار کی تشریح:

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

تشریح:

یہ شعر جاں نثار اختر کی غزل کا پہلا شعر یعنی مطلع ہے اس شعر میں شاعر محبت کی پرانی روایات کو ترک کرنے کا درس دے رہے ہیں۔اردو شاعری کی پرانی روایت ہے کہ محبوب نے ہمیشہ عاشق پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں۔دوسری جانب عاشق نے بھی ان مظالم کو ہنس کر سہا ہے اور محبوب سے گلا کرنے کی بجائے اس کے مظالم پر بھی دعا ہی دی ہے۔مگر یہاں شاعر نے اس قدیم روایت کو ترک کرنے کا کہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محبوب ظلم ڈھاتا ہے تو اسے قاتل کہا جائے اس کو دعا دینے کی رسم کو ترک کر دیا جائے۔ کیوں کہ اب نیا زمانہ ہے اور نئے تقاضوں کے مطابق چلا جائے۔

دل کا وہ حال ہوا ہے غمِ دوراں کے تلے
جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

تشریح:

اس شعر میں شاعر اپنے دل کو ایک لاش سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ زمانے نے مجھ پر اتنے ظلم و ستم ڈھائے ہیں کہ میرے دل کی حالت ایسی ہو چکی ہے جیسے کوئی لاش چٹانوں تلے دبی ہوئی ہو۔ محبوب کی جدائی کی تڑپ اور زمانے کے غموں نے شاعر کے دل کی کیفیت ایک لاش کی مانند کر دی ہے۔

ہم نے انسانوں کے دٗکھ درد کا حل ڈھونڈھ لیا
کیا برا ہے جو یہ اَفواہ اُڑا دی جائے

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے انسانوں کو ایک طرح سے جھوٹا بہلاوا یا تسلی دینے کی کوشش کرتے ہو کہا ہے کہ ہم نے انسانوں کی تکالیف اور دکھوں کا حل تلاش کر لیا ہے۔ مگر ساتھ ہی اس بات کو افواہ بھی کہہ دیا ہے کیوں کہ انسانی تکالیف اور اس کے تمام تر دکھوں کا مداوا تقریباً ناممکن سی بات ہےمگر شاعر کہتا ہے کہ اگر ذرا دیر کے لئے یہ افواہ اڑا دی جائے تو یہ بری بات بھی نہیں کہ لوگون کو تسلی کے کچھ لمحے میسر آ جائیں گے۔

Advertisement
ہم کو گزری ہوئی صدیاں تو نہ پہچانیں گی
آنے والے کسی لمحے کو صدا دی جائے

تشریح:-

اس شعر میں شاعر نے لوگوں کو وقت کی قدر کا احساس دلاتے ہوئے کہا ہے کہ جو وقت یا صدیاں گزر چکی ہیں اسے ہم نہیں بدل سکتے ہیں مگر جو لمحے ہمارے ہاتھ میں موجود ہیں ان کے ذریعے ہم آنے والے اپنے وقت کو ضرور بدل سکتے ہیں۔اور کچھ نیا اور بڑا کارنامہ انجام دے کر ہم خود کو آنے والے لمحوں کے لئے ضرور امر کر سکتے ہیں۔ یعنی گزرے وقت کا رونا رونے کی بجائے موجودہ اور آنے والے وقت کی قدر ضروری ہے۔

انہی گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی
کیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے امید کا دامن نہ چھوڑنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری زندگی کے وہ دریچے جن میں کچھ رنگ موجود ہیں وہیں سے ہمارے غموں کا مداوا ہو گا۔اس لیے زندگی میں جو تکالیف اور مصیبتیں موجود ہیں یا جو کھلتے ہو ئے زخم ہیں انہیں بھی دعا دی جائے کیوں کہ وہ ہی تکالیف کے خاتمے کا باعث ہیں۔

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

تشریح:-

اس شعر میں شاعر نے غزل کے فن پر روشنی ڈالی ہے اور کہتے ہیں کہ غزل اور غزل کا فن کیا ہے اس کے مطلق مجھ سے پوچھو یہ بالکل ایسے ہے کہ جیسے چند لفظوں میں ایک ایسا جادو پھونکا جائے جو آگ لگا دے۔لوگ ان الفاظ کو سن اور پڑھ کر تڑپ اٹھیں۔

سوالات:

سوال نمبر 1: غزل کے پہلے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

غزل کے پہلے شعر کے مطابق شاعر پرانی رسم کے خاتمے کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کے مظالم کو چپ چاپ سہنے اور اس کے ظلم ڈھانے پر بھی اسے دعا دینے کی رسم کو ختم کیا جائے اور ظالم محبوب کو ظالم اور قاتل کو قاتل کہا جائے۔

سوال نمبر 2:زخم،قاتل،لاش،غم کے مناسبات کو کیا کہیں گے؟

اصناف نظم و نثر میں ایک بات یا چیز کی مناسبت سے اس کے مطلقات کو پیش کرنا صنعت مراۃ النظیر یا مناسبت لفظی کہا جاتا ہے۔ موجود غزل میں زخم کی مناسبت سے قاتل جبکہ لاش کی مناسبت سے غم کو لایا گیا ہے۔

سوال نمبر 3:گل رنگ دریچوں سے کیا مراد ہے؟

گل رنگ دریچوں سے شاعر کی مراد خوش رنگ کھڑکیاں ہیں۔ اس کی مراد وہ گوشے بھی لیے جاسکتے ہیں جو ہماری زندگی کے خوش گوار لمحات ہیں۔​