غزل

جب نام تیرا لیجئے، تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو، کہاں سے جگر آئے
واعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہ
یک جرعہ بدل ورنہ یہ منڈیلا دھر آوے
صناع ہیں سب خوار، ازاں جُملہ ہوں میں بھی
ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہُنر آوے
اے وہ!کہ تو بیٹھا ہے سر راہ یہ زنہار
کہیو! کبھو جو مؔیر بلاکش ادھر آوے

تشریح

پہلا شعر

جب نام تیرا لیجئے، تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو، کہاں سے جگر آئے

شاعر محبوب سے مخاطب ہے، کہتا ہے کہ تمہاری جفا اور بے وفائی ہمارا حال اب اس منزل کو پہنچ گیا ہے کہ جب تمھارا نام تک بھی زبان پر آتا ہے تو ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔اب وہ حوصلہ ہم کہاں سے لائیں کہ ایسی زندگی جی سکیں۔

دوسرا شعر

واعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہ
یک جرعہ بدل ورنہ یہ منڈیلا دھر آوے

شاعر کہتا ہے کہ واعظ، وعظ کرتا ہے،نصیحت کرتا ہے اور شراب پینے سے منع کرتا ہے۔دراصل وہ اس شراب کی مستی اور مے حانے کی کیفیت سے واقف نہیں ہے۔اگر شراب خانے کی کیفیت سے وہ آگاہ ہوتا تو شراب کے ایک گھونٹ کے لیے وہ اپنی پگڑی تک گروی رکھ دیتا۔

تیسرا شعر

صناع ہیں سب خوار، ازاں جُملہ ہوں میں بھی
ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہُنر آوے

شاعر کہتا ہے کہ تمام ہنرمند اس زمانے میں خوار ہیں اور چوں کہ میں بھی ہنر رکھتا ہوں، اس لئے میں بھی بد نام ہوں۔ دراصل اس دنیا میں ہنر مند ہونا ہی سب سے بڑا عیب ہے۔

چوتھا شعر

اے وہ!کہ تو بیٹھا ہے سر راہ یہ زنہار
کہیو! کبھو جو مؔیر بلاکش ادھر آوے

شاعر کہتا ہے کہ تم سرِ راہ بیٹھے اگر کہیں دکھ اور مصیبت برداشت کرنے والے یعنی مؔیر کو اس طرف سے نکلتے دیکھو تو اس سے کہنا ٹھیک ہے، تم دکھ برداشت کر سکتے ہو۔مگر ہرگز ہرگز محبت کی دشت میں قدم مت رکھنا کہ یہ وہ جنگل ہے کہ جس میں حضرتِ خضر کو بھی سفر کرنے میں دِقت ہے۔اور ہر قدم پر وہ سفر سے باز آنے کا بہانہ کریں۔

Advertisements