Advertisement

فورٹ ولیم کالج کی نثری تصنیفات پر فارسی کی پوری چھاپ ہے۔” باغ و بہار” کو چھوڑ کر زیادہ تر نثری تحقیقات میں سادگی اور پرکاری اور بے محفل تشبیہ اور استعار کے استعمال رنگین عبارت موجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اردو نثر میں خطوط غالب ایک سنگ میل کا درجہ رکھتے ہیں۔ انیسویں صدی میں مکا تیب غالب نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔

غدر کے بعد مغربی ادب نے مشرقی ادب کو بہت متاثر کیا ہے۔ اسالیب اور موضوعات دونوں میں نمایاں اور خاطر خواہ تبدیلی آئی۔ ادب کو زندگی کا ترجمان بنانے کے ساتھ زبان کو سہل اور عام فہم بنانے پر زور دیا گیا۔ داستان، ناول، پھر مختصر افسانہ بن گیا۔ درس وتدریس نیز تبلیغ اور اصلاح میں ایسی نثر کی ضرورت محسوس کی گئی جو قاری کے دل اور ذہن کو متاثر کرے۔

اردو نثر کے ارتقاء میں سرسید احمد خان اور ان کے ادبی رفقاء نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ فراموش نہیں کیے جاسکتے۔

Advertisement

نزیر احمد نظر نے اردو ناول نگاری کو عروج دیا۔ آزاد نے تنقید، حالی نے سیرت نگاری اور شبلی نعمانی نے تاریخ اور فلسفہ کو سنبھالا۔ عبدالحلیم شرر کے تاریخی ناولوں نے اردو نثر کو جلا بخشی، رتن ناتھ سرشار کے ناول لکھنؤی زبان کے اعتبار سے اردو نثر میں اہمیت کے حامل ہیں۔ اردو نثر ترقی کے اعلی منازل طے کرتی ہوئی بیسویں صدی کے آغاز میں مرزا ہادی رسوا، راشدالخیری، حسن نظامی ، عبدالحلیم، عبدالکلام آزادپریم چند ، نیاز فتح پوری، پطرس بخاری، ڈاکٹر محمد سید عبداللہ، چکبست، اللہ، فرحت اللہ بیگ، ڈاکٹر عبداللہ، علی عباس حسنینی، شوکت تھانوی، فراق گورکھپوری وغیرہ اردو ادب کی تاریخ میں ایک نمائندہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دور میں تحقیق، عملیت، سیرتِ نگاری، خاکہ نگاری، ناول نگاری نے بہت ترقی کی۔

1935ء میں ترقی پسند ادب کی بنیاد لندن میں رکھی گئی۔ اس تحریک نے اردو ادب پر اچھا اثر ڈالا۔ منشی پریم چند اور جوش ملیح آبادی جیسے دانشوروں نے اس تحریک حمایت کی۔ادب زندگی اور سماج کا عکاسی بن گیا۔ دور جدید میں مجنون گورکھپوری، کرشن چندر، منٹو، آل احمد سرور، اپندناتھ اشک، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، مسعود حسن رضوی ادیب، وقار عظیم، احتشام حسین، قرۃ العین حیدر، عابد حسین, رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں، مشفق خواجہ ، گوپی چند نارنگ، اور مظفر حنفی وغیرہ اردو کے مستند نثر نگار ہیں۔