Advertisement
  • سبق : قدرِ ایاز
  • مصنف : کرنل محمد خان

سوال۲ : "قدرِ ایاز” کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔

تعارفِ سبق :

سبق ” قدرِ ایاز “ کے مصنف کا نام ”کرنل محمد خام“ ہے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف بتاتے ہیں کہ فوج میں بھرتی ہونے کے بعد انھیں ایک اچھا بنگلا مل گیا تھا۔ وہاں وہ اپنے صاحب زادے کے ساتھ قیام پذیر تھے اور وہیں ان کا ایک خاندانی ملازم بھی ان کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر رہتا تھا۔ مصنف کے بیٹے سلیم صاحب اپنے امتحانات سے فارغ ہوچکے تھے اس لیے اپنے ہم عصروں کے ساتھ ہر وقت کھیل کود کرنے اور ٹی وی دیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔

ایک دن سلیم نے اپنے خاندانی ملازم علی بخش کو ڈانٹ دیا تو وہ سلیم کی شکایت مصنف کے پاس لے آئے۔ دونوں فریقین سے معاملہ سننے کے بعد مصنف کو علم ہوا کہ مسئلہ کچھ بہت بڑا نہیں ہے اور ایک کپ چائے پر نمٹ سکتا ہے۔ ہوا دراصل یوں تھا کہ سلیم کا دوست امجد اس کی غیر موجودگی میں گھر آیا اور اس کا انتظار کر کے چلا گیا۔ سلیم علی بخش سے اس بات پر ناراض تھا کہ انھوں نے امجد کی تواضع نہیں کی اور اب امجد سلیم کو دیہاتی سمجھے گا۔ جب کہ علی بخش کو یہ شکایت تھی کہ سلیم نے انھیں دیہاتی کہا۔ مصنف کو لگا دیہاتی کہنا یا کہلانا کچھ اس قدر معیوب بات بھی نہیں ہے اور یہی بات انھیں سمجھانے کے لیے انھوں نے ایک قصہ چھیڑ دیا۔

مصنف بتانے لگے کہ ایک گاؤں کا چوہدری شہری اسکول میں پڑھنے چلا گیا۔ وہاں لوگ اس کا مذاق بناتے لیکن اس نے دھیان نہ دیا۔ ایک دن اس کے ماسٹر صاحب شکار پر نکلے تو رات ہوگئی اس لیے وہ گاؤں میں چوہدری کے گھر پر رک گئے۔ تمام لوگوں نے اس کی خوب خدمت کی اور انھیں اپنے مطابق بہت تواضع سے نوازا۔ اگلے دن جب ماسٹر صاحب چلے گئے اور چوہدری اسکول گیا تو پھر کچھ بچوں نے اس کا مذاق بنایا لیکن اس نے دھیان نہ دیا۔

مصنف کا واقعہ مکالمے کی شکل اختیار کرنے لگا کیونکہ سلیم صاحب مصنف کی بات بیچ میں ہی اچک لیتے۔ مصنف نے قصے کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ بچہ پھر لاہور کالج پڑھنے چلا گیا اور پھر فوج میں بھرتی ہوگیا۔ سلیم صاحب کو زرا اس چوہدری سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو اپنے ابا سے کہنے لگے کہ انھیں کبھی بلائیے ہم وعدہ کرتے ہیں ان پر نہیں ہنسیں گے۔ یہ سن کر مصنف نے بازو وا کئیے اور کہا آئیے ملئیے چھوٹے چوہدری سے۔

سلیم اور علی بخش حیران ہوئے اور پھر ان کی آنکھوں میں دیہاتی کے لیے محبت کے جذبات بھی نظر آئے۔

Advertisement

سوال ۱ : مختصر جواب دیں۔

(الف) مصنف کو کس قسم کا بنگلا رہنے کو ملا؟

جواب : مصنف کو عمدہ قسم کا بنگلا رہنے کو ملا تھا اور یہ روایت تھی کہ وہ بنگلا ولسن صاحب نے خاض اپنے لیے بنوایا تھا۔

Advertisement

(ب) سلیم میاں کا مشغلہ کیا تھا؟

جواب : سلیم میاں میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے، اس لیے دوسرے کرنیل زادوں کے ساتھ مل کر بیڈ مینٹن کھلتے تھے اور ٹیلی ویژن دیکھتے تھے۔

(ج) سلیم میاں، علی بخش پر کیوں برہم ہوئے؟

جواب : سلیم میاں، علی بخش پر اس لیے برہم ہوئے کیونکہ انہوں نے سیلم میاں کے دوست کو گول کمرے کے صوفے پر بیٹھا کر اس کی اچھی طرح تواضع نہیں کی تھی۔

Advertisement

(د) دیہاتی لڑکا پہلے دن سکول گیا تو اس نے کیسا لباس پہن رکھا تھا؟

جواب : دیہاتی لڑکا پہلے دن سکول گیا تو اس نے سر پر صافہ باندھ رکھا تھا۔ بدن پر کُرتا تہمد اور پاؤں میں پوٹھاری جوتا پہن رکھا تھا۔

(ہ) ماسٹر جی چھوٹے چودھری کے گاؤں کیوں گئے تھے؟

جواب : ماسٹر جی شکار کے شوقین تھے۔ شکار کے لیے نکلے تو چھوٹے چودھری کے گاؤں جا پہنچے اور رات وہیں بسر کرنے کا ارادہ کیا۔

Advertisement

(و) ماسٹر جی کو چائے کیسے پیش کی گئی؟

جواب : اس وقت چائے صرف مریضوں کی دوا کے طور پر استعمال ہوا کرتی تھی اس لیے ماسٹر جی کو چائے پیش کرنے کے لیے دیہات کے ایک حکیم سے چائے منگوا کر بنائی گئی اور ماسٹر جی کو پیش کی گئی۔

(ز) دیہاتی لڑکے کی کہانی سن کر سلیم میاں پر کیا اثر ہوا؟

جواب : دیہاتی لڑکے کی کہانی سن کر سلیم میاں پہلے تو حیران ہوئے پھر ان کی آنکھوں میں ایک دیہاتی کے لیے محبت کی چمک پیدا ہوئی۔

Advertisement

سوال ۳ : واحد کی جمع اور جمع کی واحد لکھیں۔

واحدجمع
شکایت شکایات
ارشاد ارشادات
قصہ قصاص
حادثہ حادثات
روایتروایات
عمارت عمارتیں
امتیاز امتیازات
مشاہدہ مشاہدات

سوال۴ : سبق "قدرِ ایاز” کے متن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے درست جواب کی نشاندہی(درست) سے کریں۔

(الف) کرنیلوں کو رہائش کے لیےکون سے بنگلے ملتے ہیں؟

٭اے کلاس
٭بی کلاس
٭سی کلاس(✓)
٭ڈی کلاس

Advertisement

(ب) الغرض ہمارے بنگلے کا مزاج ہر زاویے سے تھا :

٭مدبرانہ
٭امیرانہ(✓)
٭خاکسارانہ
٭عاجزانہ

Advertisement

(ج) تمام دیہاتیوں نے ماسٹر جی سے کون سے برخورداروں کی خیریت دریافت کی؟

٭نومولود
٭شیرخوار
٭نامولود(✓)
٭تابع دار

Advertisement

(د) ماسٹر جی کے بیٹھنے کے لیے کیا چیز منگوائی گئی؟

٭پیڑھی
٭کرسی
٭بنچ
٭چارپائی(✓)

Advertisement

(ہ) ماسٹر جی نے کس چیز کی فرمائش کی؟

Advertisement

٭کارن فلیک کی
٭لسی کی
٭چائے کی(✓)
٭کافی کی

سوال ۵ : متن کو مدِنظر رکھتے ہوئے درست اور غلط جملوں کی نشاندہی (درست)سے کریں۔

(الف) طرفین کے بیانوں سے واضح تھا کہ تنازع بہت خفیف ہے۔
درست(✓)/ غلط
(ب) سارے سکول میں ایک ہیڈماسٹر صاحب تھے جو سوٹ پہنتے تھے۔
درست / غلط(✓)
(ج) سلیم اور علی بخش ، دونوں کی آنکھوں میں ایک دیہاتی کے لیے مذاق کی چمک تھی۔
درست/ غلط(✓)
(د) دیہاتی لوگ اتنے مہذب نہیں ہوتے کہ ڈرائنگ روم میں کتے لے آئیں۔
درست(✓) /غلط
(ہ) سلیم میاں بھی ایف اے کے امتحان سے فارغ ہوئے تھے۔
درست /غلط(✓)

Advertisement

سوال ٦ : اعراب لگا کر تلفظ واضح کریں۔

قسّامِ ازم
قطعْہ زمِین
مخَل
تواضُع
تنازَع

سوال ۸ : مذکر اور مؤنث الفاظ الگ الگ کریں۔
﴿طول۔شان۔چمن۔تواضع۔اشتیاق۔﴾

مذکرطول , اشتیاق۔
مؤنث شان , چمن , تواضع۔

سوال ۹ : درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیں اور انھیں جملوں میں استعمال کریں۔

قباحت :مضائقہاپنی غلطی تسلیم کرلینے میں کوئی قباحت نہیں۔
امتیاز : برتریاللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو دوسرے پر تیاز صرف تقوی کی بنیاد پر دیا ہے۔
نوعیت : تحصیصطبیب مرض کی نوعیت جان کر دوا تشخیص کرتا ہے۔
تلافی : عوضکرونا کے چلتے ملکی معیشت کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔
مبہوت : متحیردنیا میں جاہ بجا پہلی قدرت کی نشانیاں انسان کو مبہوت کردیتی ہیں۔
دستور :رسم و رواجگاؤں کے لوگ بدل جاتے ہیں مگر ان کے دستور نہیں بدلتے۔

سوال۱۰ : سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباسات کی تشریح کریں۔

(الف)سلیم میاں جو ابھی۔۔۔۔۔۔۔ہاتھوں میں پلا تھا۔

Advertisement
  • سبق کا عنوان : قدرِ ایاز
  • مصنف کا نام : کرنل محمد خان

تشریح :

اس اقتباس میں مصنف بتاتے ہیں کہ سلیم میاں اس وقت اپنے امتحانوں سے فارغ ہوئے تھے اور اپنے ہم عصروں کے ساتھ ہر وقت بیڈ مینٹن کھیلتے نظر آتے تھے یا پھر ٹی وی کے سامنے جمے رہتے تھے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ سلیم میاں اور ان کے دوستوں کی محفل کے بیچ کسی بھی غیر کا داخلہ ممنوع تھا سوائے علی بخش کے۔ علی بخش سلیم میاں کا پرانا ملازم تھا اور وہ اس محفل کے دوران سلیم میاں اور ان کے دوستوں کی تواضع کرنے کے لیے ان کے کمرے میں جایا کرتا تھا۔ علی بخش کو سلیم میاں سے انس اس لیے بھی تھا کیونکہ سلیم کی پرورش علی بخش کے ہاتھوں سے ہوئی تھی۔

Advertisement

(ب) علی بخش کی داستان غم ۔۔۔۔۔۔۔ دیہاتی سمجھا ہو گا۔

  • سبق کا عنوان : قدرِ ایاز
  • مصنف کا نام : کرنل محمد خان

تشریح :

اس اقتباس میں مصنف بتاتے ہیں کہ ایک دن علی بخش ان کے پاس ان کے بیٹے سلیم کی شکایت لے کر آیا کہ سلیم نے انھیں دیہاتی کہا ہے۔ سلیم نے بتایا کہ اس کا دوست امجد آیا تھا اور سلیم اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا۔ علی بخش نے اسے گول کمرے میں بٹھایا نہ کوکا کولا پیش کی اور اب امجد سمجھے گا کہ ہم لوگوں کو مہمان نوازی کرنا نہیں آتی اور ہم دیہاتی ہیں۔ جب کہ علی بخش کو اس بات کا غم تھا کہ سلیم نے انھیں دیہاتی کہہ کر پکارا ہے۔

Advertisement

سوال ۱۱ : کالم (الف ) کو کالم (ب) میں دیے گئے متضاد الفاظ سے ملائیں۔

طولعرض
داخلخارج
ازل ابد
رنجمسرت
خفیفشدید
چمن ویرانہ
Advertisement

Advertisement

Advertisement