• باب نمبر 11:حصہ نظم
  • نظم کا نام:ارتقا
  • شاعر کا نام:جمیل مظہری
ہر حال میں مشیت مجھ کو بنا رہی ہے
میں اس کی قدرتوں کا شاہکار بن رہا ہوں
خود اپنی جنتوں کی تخلیق کر رہا ہوں
خود اپنی زندگی کا معمار بن رہا ہوں
یہ جبر وقدر کی اک منزل ہے درمیانی
مجبور تو ہوں لیکن مختار بن رہا ہوں
یہ راہ وہ ہے جس میں ہر سانس اک سفر ہے
منزل بھی راستہ ہے لغزش بھی راہبر ہے

تشریح:

یہ اشعار "جمیل مظہری” کی نظم "ارتقا” سے لیے گئے ہیں۔ اس نظم میں شاعر نے عظمت انسان کو بیان کیا ہے کہ انسان وہ قدرتی شاہکار ہے جو اپنی فطری صلاحیتوں اور حرکت و عمل سے ترقی کی کئی منازل طے کر سکتا ہے۔ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ بلاشبہ میرے پس پردہ ایک غائبانہ قدرت کا ہا تھ موجود ہے اور اس شاہکار کے ذریعے میں نت نئی منازل کی تخلیق میں جٹا ہوا ہوں۔ میں اپنی منازل اور جنتوں کی تخلیق خود کر رہا ہوں۔اپنی زندگی کو کس راستے لے کر جانا ہے اس کو مجھے خود طے کرنا ہے یعنی مجھے میری منزل کا اختیار سونپا گیا ہے۔ انسان بلاشبہ جبر و قدر کے فلسفہ کی جکڑ بندیوں میں قید ہےمگر اس کے باوجود وہ خود مختاری رکھتا ہے۔اس کا سفر کافی کھٹن ہے مگر اس کو بہت سوچ سمجھ کر اس کو طے کرنا ہے۔کیونکہ اس منزل پر بہت سی جگہوں پر اس سے غلطیاں انجام پا سکتی ہیں مگر سے ان غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان سے سبق حاصل کرنا ہے اور اپنی منزل کی جانب پوری تندہی سے بڑھتے جانا ہے۔

حکمت کی راہبری میں پرواز کی امنگیں
امکا کے دائروں کو پھیلا کے بڑھ رہی ہیں
وہ قوتیں جو اب تک تحت شعور میں تھیں
گہوارہ خودی میں پروان چڑھ رہی ہیں
انجام کی بصیرت خواہش پہ حکمراں ہے
آزادیاں خود اپنی زنجیر گڑھ رہی ہیں
پکڑے ہوئے ہیں دامن گو خیر و شر ہمارا
پابندیوں میں بھی ہے جاری سفر ہمارا

تشریح:

اس نظم کے یہ اشعار انسان کی ذہنی تبدیلی اور اخلاقی ترقی کے ارتقاء کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ انسان حکمت و دانائی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔اس کی اسی دانائی کے سبب منزل بھی اپنے امکاں وسیع کیے اس کی جانب بڑھ رہی ہے۔اس سب کے لئے اسے جو جدوجہد کرنی ہے وہ محض یہ ہے کہ وہ قوتیں جو اس کے تحت الشعور میں پوشیدہ ہیں ان کو حقیقت میں ڈھالنے کے لئے اپنے پردہ شعور پر انہیں اجاگر کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں اس کی بڑی کامیابی اس کی خودی کی پہچان ہوگی۔جب وہ خود کو اپنی ذات سے واقف کرا لے گا جب ہی وہ اپنی اصل قوت کو پہچان پائے گا۔ اس کا انجام بعض اوقات اس کی خواہشات پر غالب ہو کر اسے اس کی اصل منزل سے ڈگمگانے کی کوشش کرتا ہے۔مگر مسلسل کوشش ہی اس کی کامیابی ٹھہرے گی۔خواہ کیسے ہی اچھے و برے خیالات اسے کیوں نہ جکڑیں اس کا سفر جاری و ساری رہے گا اور وہ اپنی منزل کے حصول کو ضرور ممکن بنائے گا۔

جذبات رفتہ رفتہ افکار بن رہے ہیں
افکار کا نتیجہ کردار بن رہا ہے
ہمدردیوں کی شدت انصاف بن رہی ہے
پروردگی کا جذبہ ایثار بن رہا ہے
لغزش سے تجربہ ہے اور تجربے سے حکمت
تحقیق ہو رہی ہے معیار بن رہا ہے
گمراہیوں سے ہو کر ہے راستہ ہمارا
تاریخ بن رہا ہے ہر نقشے پا ہمارا

تشریح:

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ انسان کے لیے اس کی منزل کے حصول کے لئے اس کو جو جستجو اور لگن ہے یہی جذبہ اس کے فکر اور کراد کی جھلک بن جاتا ہے۔اس کے اندر قربانی کا جذبہ پرورش پانے لگ جاتا ہے اور وہ اپنی غلطیوں سے ہی سبق اور تجربہ حاصل کرتا ہے۔یہی غلطیاں اور تجربات اس کے معیار تحقیق کو بلند کرتے ہیں۔اور وہ تاریخ کے نقشے پر عظمت انسانی کا اہم کرادر بن کر ابھرتا ہے۔ اس کے غلط قدم ہی اسے صحیح راستے کی سیکھ دے پاتے ہیں اور آنے والے لوگ اس کے قدموں کے نشانوں سے اپنی منزل کا تعین کرنے لگ جاتے ہیں۔

سوالات:

سوال نمبر 1: شاعر نے انسان کی ترقی کے سلسلے میں کن روکاوٹوں کا ذکر کیا ہے؟ بتائیے۔

شاعر کا کہنا ہے کہ قدرت کی طرف سے انسان جو جبر و قدر کے جس مسئلے میں باندھا گیا ہے وہ یا بعض اوقات انسان کے لئے اس کے انجام کا خوف اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن کر حائل ہونے لگتا ہے۔

سوال نمبر 2:”لغزش سے تجربہ ہے اور تجربے سے حکمت” شاعر اس مصرعے میں کیا کہنا چاہتا ہے۔ لکھیے۔

اس مصرعے سے شاعر کی مراد ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی غلطی سے سیکھتا اور تجربہ حاصل کرتا ہے۔دوسرا انسان اسے لاکھ نصیحت کرے اس پر وہ اثر نہیں ہوتا جو وہ خود غلطی کرنے کے بعد سیکھ حاصل کرتا ہے۔ان غلطیوں سے حاصل ہونے والے تجربے میں ہی دانائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس تجربے میں انسان کی اپنی زندگی کا نچوڑ موجود ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3:انسان نے اس کا ئنات کو اپنی کوششوں سے کس طرح خوش رنگ اور کارآمد بنایا ہے؟

انسان نے اپنی محنت،لگن اور ذاتی تجربے اور جستجو سے کائنات کو خوش رنگ بنایا۔

سوال نمبر 4:”خود اپنی زندگی کا معمار بن رہا ہوں” اس مصرعے کا مطلب کیا ہے؟

اس مصرعے سے مراد ہے کہ انسان کو اس کی زندگی میں اس کی منزل کے تعین کا حق سونپا گیا ہے وہ خود اپنی زندگی کا معمار بن کر خود اپنے لیے منزل اور راستے کا تعین کر رہا ہے کہ خواہ اسے برائی کے رستے پر چلنا ہے کہ اچھائی کے راستے پر۔

عملی کام:

سوال: انسانی ارتقا اور تہذیب کی ترقی کے موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔

انسان نے جب اس لرزتی ہوئی زمین میں اپنا پہلا قدم رکھا تو اسی روز سے اس کے ذہنی، تہذیبی، سماجی اور معاشی ارتقاء کا سفر بھی شروع ہوا۔ آج انسان دیو مالائی ، طلسماتی اور افسانوی دنیا کے خطرناک اندھیروں کو چھوڑتا ہوا ایک سائنسی، جدید اور حقیقی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔

زندگی اور کائنات کے بارے میں انسان کے اعتقادات اور نظریات آج یکسر تبدیل ہو رہے ہیں۔ وہ ایک جادوئی اور افسانوی دنیا سے ایک حقیقی دنیا میں منتقل ہو رہا ہے۔ آخری برفانی زمانے کی وحشیانہ ثقافت بھی آج دم توڑ چکی ہے اور انسان ایک نئے ثقافتی اور تہذیبی ارتقاء کی طرف گامزن ہے۔ آج انسان دنیائے حیوانیت اور سفاکیت سے ترقی پا کر انسانیت کے مقام پر پہنچا ہے۔

اس سے پہلے انسان بھی دوسرے حیوانی گلوں کی طرح ننگے پیر زمین پر چرتا تھا۔ اس کا طرز عمل اور طرز زندگی دوسرے حیوانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ اس کی ذہنیت بھی حیوانوں جیسی ہوا کرتی تھی۔ نسل انسانی نے اپنے حیوانی اور پست وجود سے آگے بڑھ کر حیرت انگیز نشوونما کے مراحل کو طے کیا۔ وحشت اور حیوانیت سے انسانیت کا سفر ہزاروں برسوں پر محیط ہے۔ انسان نے یہ سفر بڑی مشکلوں اور تکالیف کا سامنا کرتے ہوئے طے کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ انسان نے بڑے حوصلے اور ہمت کے ساتھ دوسری خطرناک اور مہلک قوتوں کا مقابلہ کیا، جن کا تعلق انسان کی معاشی اور معاشرتی زندگی سے تھا۔ ان میں جہالت، جھوٹ ، حسد اور تکبر وغیرہ شامل ہیں۔ اس نے یہ ساری رفعتیں اپنی مسلسل کوششوں سے حاصل کیں۔ انسان نے آدمیت سے انسانیت کے سفر میں بے انتہا صعوبتیں برداشت کیں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسان حق کی حمایت کرتا ہے۔ برائی کا مقابلہ بڑی دلیری اور جواں مردی سے کرتا ہے۔ سچائی کا حامی ہے۔

اسی طرح انسان نے اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کے ظہور کے لیے ہارڈ ورک کے بجائے سمارٹ ورک کو ترجیح دی۔ آج کا انسان جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور آسمان کے راستوں میں محو پرواز ہے۔ لیکن یہ تمام مادی ترقی انسان کا سب سے بڑا کارنامہ ہرگز نہیں ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انسان نے رفتہ رفتہ حیوانیت کی روش کو ترک کیا اور خود کو انسان کے مرتبے پر فائز کیا۔

انسان نے اپنی درندگی کی روش کو ترک کرنے کے لئے خوب محنت کی۔ چونکہ انسان اندرونی طور پر نادر الوجود اور غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ انسان آج بھی تہذیبی ترقی کی راہ پر پوری طرح گامزن ہے۔ اس کا تحقیقی اور تخلیقی کام برابر جاری ہے۔ وہ تہذیب جدید کی تولید میں مستقل طور پر مصرف عمل ہے۔ وہ تغیر اور انقلاب کی بلند فضا میں آج بھی محو پرواز ہے۔