Advertisement

صحرا نوردی

شعر 1:

کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے
یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل

معانی:👈

  • صحرا نوردی : جنگلوں ، بیابانوں میں چلنے پھرنے کی حالت۔
  • تگاپوئے دمادم : لگاتار بھاگ دوڑ ۔

تشریح:- شاعر کے استفسارات کے جواب میں خضر یوں کہتے ہیں کہ اے شاعر! میں جو صحرانوردی کے شغل سے دوچار ہوں تو تجھے آکر میرے اس عمل پر تعجب کس لیے ہے کہ میری یہ مسلسل بھاگ دوڑ اور جدوجہد عملاً زندگی کی دلیل ہے۔

Advertisement

شعر 2 :

اے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں
گونجتی ہے جب فضائے دشتِ میں بانگِ رحیل

معانی:👈

  • سماں : منظر۔
  • فضائے دشت : جنگل کا ماحول۔
  • بانگِ رحیل : کوچ کرنے ، روانہ ہونے کی آواز کا اعلان۔

تشریح:- اے گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے والے شاعر! تو نے وہ منظر نہیں دیکھا جب صحرا میں قافلے رواں دواں ہوتے ہیں اور ان کے اونٹوں کی گھنٹیاں عالم سکوت میں نغمے بکھیرتی ہیں۔

Advertisement

شعر 3 :

ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام
وہ حضر بے بر گ و ساماں ، وہ سفر بے سنگ و میل

معانی:👈

  • آہو : ہرن۔
  • بے پرواخرام : بے خوفی اور مزے سے چلنا۔
  • حضر : موجود رہنا، سفر کی ضد۔
  • بے برگ و ساماں : ساز و اسباب کے بغیر ۔ بے سنگ و میل : مسافت کے تعین کے بغیر۔

تشریح:- ریت کے ٹیلے پر ہرن بڑی بے نیازی کے ساتھ چوکڑیاں بھر رہا ہوتا ہے اور قافلے بغیر سامان کے کسی سنگ میل کی رہنمائی کے بغیر سفر کرتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ وہ ہر نوع کی پابندیوں سے بے نیاز ہوتے ہیں۔

Advertisement

شعر 4 :

وہ نمودِ اخترِ سیماب پا ہنگامِ صبح
یا نمایاں بامِ گردوں سے جبینِ جبرئیل

معانی:👈

  • نمود : ظاہر۔
  • اخترِ سیماب پا : پارے کے سے پاؤں والا یا ہلتے رہنے والا ستارہ۔
  • بامِ گردوں : آسمان کی چھت۔
  • جبین : پیشانی۔

تشریح:- اور صبح کی وقت جب سیمابی فطرت رکھنے والے ستارے طلوع ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کی بلندی سے حضرت جبرئیل کی پیشانی نمودار ہو رہی ہے۔

شعر 5 :

وہ سکوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشمِ جہاں بینِ خلیل

معانی:👈

  • سکوتِ شامِ صحرا : ریگستان میں شام کے وقت کی خاموشی۔
  • خلیل : حضرت ابراہیم علیہ السلام جنھوں نے سورج، چاند وغیرہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ میرے خدا ہیں لیکن جب وہ غروب ہو گئے تو آپ نے فرمایا غروب ہونے والے میرے خدا نہیں ہو سکتے۔ اور یوں خدائے واحد پر ان کا ایمان پکا ہوا۔

تشریح :- اے شاعر! تو اس منظر سے کیسے آشنا ہو سکتا ہے جبکہ شام کے وقت صحرا کے سکوت میں سورج غروب ہو رہا ہو یہی منظر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی وسعت نظر میں اضافے کا سبب بنا۔

Advertisement

شعر 6 :

اور وہ پانی کے چشمے پر مقامِ کارواں
اہلِ ایماں جس طرح جنت میں گردِ سلسبیل

معانی:👈

  • مقامِ کارواں : قافلے کا پڑاو ڈالنا۔
  • سلسبیل : بہشت کا ایک چشمہ، نہر۔

تشریح :- پھر جب قافلے تھک کر پانی کے چشمے پر قیام کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنت میں سلسبیل کے گرد اہل ایمان جمع ہوں۔

شعر 7 :

تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش
اور آبادی میں تو زنجیری کشت و نخیل

معانی:👈

  • تازہ ویرانہ : نئی غیر آباد جگہ۔ سودائے محبت : محبت کا مارا ہوا۔
  • زنجیریِ کشت و نخیل : کھیتی اور کھجور کے درختوں سے دلچسپی میں پھنسا ہوا۔

تشریح:- جو لوگ عشق و محبت کے جویا ہوتے ہیں وہ تو نئے نئے صحراؤں کی جستجو میں رہتے ہیں جب کہ تیری ذات محض آبادی تک محدود رہتی ہے ۔

Advertisement

شعر 8 :

پختہ تر ہے گردشِ پیہم سے جامِ زندگی
ہے یہی اے بے خبر رازِ دوامِ زندگی

معانی:👈

  • پختہ : مضبوط، پکا۔
  • گردِ پہیم : زمانے کی گردش
  • دوام : ہمیشہ

تشریح :- اے شاعر! حقیقت یہ ہے کہ مسلسل گردش اور صحرا نوردی ہی حرکت اور عمل کی دلیل ہوتے ہیں چنانچہ حقیقی زندگی کا راز ہی یہی ہے۔

زندگی

شعر 1:

بر تر از اندیشہَ سُود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

معانی:👈

  • برتر از سود و زیاں : فائدے اور نقصان سے بالاتر۔
  • تسلیمِ جاں : جان ، زندگی خدا کی راہ میں قربان کرنا۔

تشریح:- اے شاعر! زندگی تو ایک ایسا عمل ہے جو نفع نقصان کے تصور سے بلند ہوتا ہے۔ کہ زندگی کا صحیح مفہوم اس حقیقت میں ہی مضمر ہے کہ زندگی کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے ۔

Advertisement

شعر 2 :

تو اسے پیمانہَ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی

معانی:👈

  • پیمانہَ امروز و فردا : مراد وقت، زمان کا پیمانہ۔
  • پیمانہ : ناپنے کا آلہ۔
  • پیہم دواں : مسلسل، لگاتار حرکت میں رہنے والی۔
  • ہر دم جواں : ہمیشہ تروتازہ رہنے والی۔

تشریح:- اے شاعر! تو زندگی کو آج اور کل کے پیمانے سے کیوں ماپ رہا ہے۔ یہ تو ہر دم موجود رہنے والی ہے اور ہر دم جوان و زندہ شے ہے۔

شعر 3 :

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی

معانی:👈

  • آپ پیدا کر : یعنی جدوجہد اور عمل سے خود بنا۔
  • زندوں میں ہونا : جوش و جذبہ اور ولولہ والا ہونا۔
  • سرِ آدم : انسان کی حقیقت، بھید۔
  • ضمیر : باطن، بھید، باطنی قوت۔
  • کُن فکاں : قرآنی حوالہ، کائنات پیدا کرتے وقت خدا نے فرمایا ہو جا وہ ہو گئی یعنی کائنات وجود میں آ گئی۔

تشریح:- اگر تجھے زندہ جذبوں والے لوگوں میں شامل ہونے کا شوق ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ دوسروں کی جدوجہد پر قناعت کرنے کے بجائے اپنی دنیا خود پیدا کر ۔ اسی صورت میں تو یہ جان سکے گا کہ تخلیق آدم کا راز اور دنیا میں ہر شے کے وجود کا کرشمہ زندگی کے عمل سے ہی عبارت ہے۔

Advertisement

شعر 4 :

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی

معانی:👈

  • کوہ کن : پہاڑ کھودنے والا، فرہاد، شیریں کا عاشق۔
  • جوئے شیر : دودھ کی ندی۔
  • تیشہ : پتھر کاٹنے والا لوہے کا اوزار۔
  • سنگِ گراں : بھاری پتھر مراد پہاڑ جسے فرہاد نے کاٹا۔

تشریح :- اے شاعر! اگر تو فی الواقع زندگی کی حقیقت جاننے کا خواہاں ہے تو اس ضمن میں فرہاد سے رجوع کر جس نے اپنے مقصد عشق کو حاصل کرنے کے لیے پہاڑ کاٹ کر وہاں سے دودھ کی نہر جاری کرنے کا کام کیا تھا۔ اس سے خودبخود اندازہ ہو سکے گا کہ زندگی عیش و عشرت کا نام نہیں بلکہ عمل اور سخت کوشی کا نام ہے۔

شعر 5 :

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

معانی:👈

  • جوئے کم آب : تھوڑے پانی والی ندی۔
  • بحر بیکراں : وسیع سمندر جس کا کوئی کنارہ نہ ہو۔
  • تشریح :- یہ بھی جان لے کہ زندگی کا عمل غلامی میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے جب کہ آزادی میں یہی زندگی وسعت پذیر ہو کر بحر بے کنار کی مانند ہو جاتی ہے۔

شعر 6 :

آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

معانی:👈

  • قوتِ تسخیر : فتح کرنے یا اپنا تابع بنانے کی طاقت۔
  • مٹی کا پیکر : انسانی جسم۔
  • نہاں : چھپی ہوئی۔

تشریح :- ہر چند یہ اس کا تعلق خاک کے عنصر سے ہے لیکن اس میں دوسروں کو تسخیر کرنے کی بے پناہ صلاحیت بھی موجود ہے۔

Advertisement

شعر 7 :

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

معانی:👈

  • قلزمِ ہستی : وجود کا سمندر، کائنات۔
  • ابھرنا : اونچا آنا۔
  • مانندِ حباب : بلبلے کی طرح۔
  • زیاں خانہ : نقصان کا گھر۔

تشریح :- اے شاعر! اگر ہستی کو ایک سمندر تسلیم کر لیا جائے تو تیرا وجود اس میں ایک بلبلے کی مانند ہے اور سچ پوچھیے تو یہاں یہ زندگی تیرے لیے ایک آزمائش اور امتحان کی حیثیت کی حامل ہے ۔

شعر 8 :

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

معانی:👈

  • خام : کچا، جذبہ عمل سے خالی۔
  • پختہ: پکا ہوا، عمل اور جدوجہد کرنے والا۔
  • شمشیرِ بے زنہار : ایسی تلوار جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔

تشریح:- یہ جان لے کہ جب تک تیری زندگی کا عمل ناپختہ ہے تو تیرا وجود محض ایک مٹی کے ڈھیر کی مانند ہے لیکن جب پختہ ہوا تو پھر شمشیر آبدار کی طرح ہے ۔

Advertisement

شعر 9 :

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

معانی:👈

  • مرنے کی تڑپ : جہاد میں شہید ہونے کی خواہش۔
  • پیکرِ خاکی : مٹی کا ڈھانچا، انسانی جسم۔
  • جاں : روح، جذبہ عشق۔

تشریح :- خضر کہتا ہے کہ اے شاعر! اس حقیقت کا ادراک بھی تیرے لیے لازم ہے کہ جس دل میں سچائی کے لیے مرنے کی تڑپ موجود ہوتی ہے تو اس کے لیے عملِ ناگزیر ہے کہ پہلے وہ اپنے خاکی جسم میں قوت عمل پیدا کرے۔

شعر 10 :

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

معانی:👈

  • مستعار : دوسروں سے ادھار مانگے ہوئے۔
  • خاکستر : راکھ۔
  • جہاں : دنیا

تشریح :- یہ زمین و آسمان تو ایک طرح سے بنے ہوئے ہیں۔ قوت عمل تو اس امر کا نام ہے کہ انسان خاکستر سے اپنا زمین و آسمان خود تخلیق کرے۔ مراد یہ ہے کہ مستعار لی ہوئی کوئی شے اتنی کارآمد نہیں ہوتی بلکہ نفسیاتی سطح پر اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے اس لیے انسان پر لازم ہے کہ جو کچھ حاصل کرے وہ اپنی محنت اور قوت بازو سے حاصل کرے۔

Advertisement

شعر 11 :

زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جادواں پیدا کرے

معانی:👈

  • قوتِ پنہاں : چھپی ہوئی طاقت۔
  • تایہ چنگاری : یعنی زندگی کی قوت۔
  • فروغِ جاوداں : ہمیشہ ہمیشہ کی روشنی جو کبھی ختم نہ ہو۔

تشریح :- زندگی میں جو قوت پوشیدہ ہے اس کو آشکارا کرنا بھی ضروری ہے کہ یہی قوت ابدی حیثیت کی حامل ہوتی ہے ۔

Advertisement

شعر 12 :

خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے

معانی:👈

  • خاک مشرق : مراد مشرق میں واقع ممالک۔
  • بدخشاں : افغانستان کا ایک شہر جہاں کے لعل مشہور ہیں۔
  • لعلِ گراں : قیمتی لعل۔

تشریح :- کامیابی و کامرانی کے لیے مشرق میں سورج کی مانند چمکنا بھی ناگزیر ہے۔ یہی عمل ماضی کی مثبت کارکردگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اور یہاں پہلے کی طرح ممتاز دانشور، فلاسفر اور صاحب فن پیدا ہو سکتے ہیں۔

شعر 13 :

سوئے گردوں نالہَ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے

معانی:👈

  • سوئے گردوں : آسمان کی طرف۔
  • نالہَ شب گیر : رات کے وقت بلند ہونے والی گریہ و زاری۔
  • سفیر : ایلچی۔
  • رازداں : واقفِ حال۔

تشریح :- یہ بھی لازم ہے کہ تیری آسمان تک رسائی ہو تیری گرفت ستاروں پر بھی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے تو اپنا رازداں پیدا کر۔

Advertisement

شعر 14 :

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہَ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

معانی:👈

  • یہ گھڑی : یہ دور۔
  • محشر : قیامت۔
  • عرصہَ محشر : قیامت کا میدان۔
  • پیش کر : سامنے لا۔
  • عمل : نیک کام۔
  • دفتر : کتاب، مراد نامہ اعمال۔

تشریح:- اے شاعر یہ نہ بھول کہ تیرا عہد قیامت کی طرح ابتدا کا عہد ہے جس کے لیے فرد پر لازم ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی اچھا کام اعمال نامے میں موجود ہے تو اسے پیش کیا جائے۔ مراد یہ کہ محض ترقی پانے کی خالی خولی خواہش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ کامیابی کے لیے قوت عمل درکار ہوتی ہے۔

Advertisement

سلطنت

شعر 1 :-

آ بتاؤں تجھ کو رمزِ آیہَ اِنَّ المَلُوک
سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادوگری

معانی:👈

  • رمز : اشارہ، بھید، حقیقت۔
  • ان الملوک : سورہ نمل آیت 34 جب بادشاہ کسی گاؤں قصبے میں فتح کے بعد داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں۔
اقوامِ غالب : غلبے والی، حکمران قو میں۔
جادوگری : جادو، دھوکے فریب کا انداز۔

تشریح :- شاعر نے چونکہ خضر سے استفسارات میں سلطنت کے بارے میں بھی سوال کیا تھا کہ اس کی نوعیت کیا ہے چنانچہ اس کے جواب میں خضر نے کہا کہ اے شاعر! آ میں تجھے اس حوالے سے قرآن پا ک کی ایک سورہ کی معنویت بتاتا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ سلطنت صرف اور صرف طاقتور لوگوں کی طرف سے کمزور لوگوں کا استحصال کرنے اور ان پر حکمرانی کرنے کا نام ہے۔ یہ عمل تو ایک ایسے طلسم کی مانند ہے کہ اگر کوئی کمزور قوم یا فرد اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور استحصالی قوتوں کی خلاف نبرد آزما ہوتا ہے تو طاقتور حکمران اپنے سحر انگیز حربوں سے ان کی قوت مدافعت کو ختم کر دیتا ہے۔ اس طرح اپنا جابرانہ نظام مسلط کیے رکھتے ہیں۔ اے شاعر! جان لے کہ ایسے حکمران جب غلام قوموں پر اپنا طلسم بکھیرتے ہیں تو وہ طوق غلامی پر بھی فخر کرنے لگ جاتے ہیں۔

Advertisement

شعر 2 :-

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

معانی:👈

  • خواب : یعنی غفلت۔
  • سُلا دینا : ایسا چکر دینا کہ وہ جدوجہد نہ کر سکے۔
  • ساحری : جادوگری۔

تشریح :- اگر محکوم قوم پڑی خواب غفلت سے بیدار ہوتی ہے تو اس کو حکمرانوں کی جادوگری پھر سے سلا دیتی ہے۔

شعر 3 :-

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایاز
دیکھتی ہے حلقہَ گردن میں سازِ دلبری

معانی:👈

  • محمود : مراد سلطان محمود غزنوی جسے اپنے غلام ایاز سے بہت محبت تھی۔
  • ایاز : محمود غزنوی کا غلامِ خاص۔
  • حلقہَ گردن : گردن میں ڈالا ہوا لوہے کا حلقہ جو غلاموں کی پہچان تھا۔
  • سازِ دلبری : محبوب یا پیار ہونے کا باجا۔

تشریح :- اے شاعر جان لے کہ ایسے حکمران جب غلام قوموں پر اپنا طلسم بکھیرتے ہیں تو ایاز جیسے غلام اپنے آقا محمود کا گردن میں ڈالے ہوئے غلامی کے حلقہ سے بھی پیار کرنے لگتی ہے۔

Advertisement

شعر 4 :

خونِ اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری

معانی:👈

  • اسرائیل : حضرت موسیٰ کی قوم۔
  • خون جوش میں آ جانا : غیرت کے سبب طیش میں آنا۔
  • سامری : جس نے حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں سونے کا بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل سے اس کی پوجا کروائی تھی۔

تشریح :- یہ صورتحال ایک حد تک قائم رہتی ہے کہ جب غلام قوموں پر حقیقت حال واضح ہوتی ہے تو ان کی غیرت وحمیت جاگ اٹھتی ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ نے سامری کے طلسم کو توڑ کر اپنی قوم کو حقیقت حال سے باخبر کر کے بیدار کر دیا تھا اسی طرح کوئی بھی غلام اٹھ کر استحصالی قوتوں کو ختم کر دیتا ہے اور اپنی قوم کو آزادی کی نعمت سے مالامال کر دیتا ہے۔

شعر 5 :

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی ، باقی بتانِ آزری

معانی:👈

  • زیبا : لائق، موزوں۔
  • ذاتِ بے ہمتا : یعنی خدا تعالیٰ جس کا کوئی شریک نہیں۔
  • بتانِ آزری : آزر کے تراشے ہوئے بت، باطل چیزیں۔

تشریح :- اے شاعر! یہ حقیقت ہے کہ حکمرانی تو صرف رب ذولجلال کی ذات تک محدود ہے صرف خدا ہی حقیقی حکمران ہے باقی سب لوگ مصنوعی حیثیت کے حامل ہیں کہ ان کی حکومتیں عارضی ہوتی ہیں جو کبھی بنتی ہیں اور کبھی ٹوٹ جاتی ہیں ۔

Advertisement

شعر 6 :-

از غلامی فطرتِ آزاد را رُسوا مکن
تا تراشی خواجہَ از برہمن کافر تری

معانی:👈

  • فطرتِ آزادی : آزادی کی فطرت۔
  • رسوا : بدنام، ذلیل۔

تشریح :- لہذا تجھے چاہیے کہ اپنی آزاد فطرت کو غلامی سے رسوا اور بدنام نہ کرے ۔ اس کی برعکس اگر تو خدائے واحد کے چنے ہوئے کے سوا کسی اور کو اپنا آقا تصور کرے گا تو جان لے کہ تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہے ۔

شعر 7 :-

ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

معانی:👈

  • سازِ کہن : پرانا باجا، مراد پرانا بادشاہت کا نظام۔
  • مغرب : یورپ۔
  • جمہوری نظام : عوام کی حکومت۔
  • غیر از : سوائے۔
  • نوائے قیصری : قیصر ہونے کی لے، سر یعنی بادشاہت۔

تشریح :- مغرب کا نیا نظام جسے دنیا بھر کے سیاستدان اور دانشوران جمہوریت سے تعبیر کرتے ہیں فی الواقعہ وہی پرانا نظام ہے جو بادشاہت اور قیصریت سے ہم آہنگ رہا ہے ۔

Advertisement

شعر 8 :-

دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

معانی:👈

  • دیوِ استبداد : ایک آدمی کی حکومت کا جن، شیطان۔
  • جمہوری قبا : مراد عوام کی حکومت کا پردہ، لباس۔
  • پائے کوب : ناچنے والا۔
  • نیلم پری : ہندوستان کے ایک قدیم راجا اندرکے دربار کی خوبصورت نیلی پری۔

تشریح :- جمہوریت تو ایک ایسے دیو کی مانند ہے ظلم و ستم جس کا شعار ہے۔ بدقسمتی سے تو اسے انفرادی آزادی کا پیغام لانے والا تصور کرتا ہے ۔

شعر 9 :-

مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طبِ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

معانی:👈

  • مجلسِ آئین : قانون ساز اسمبلی۔
  • اصلاح و رعایات و حقوق : مراد ملک، عوام کی بہتری کے لیے اصلاحات۔
  • طبِ مغرب : یورپ کا طریق علاج۔
  • مزے میٹھے : بظاہر بڑی مزیدار دوائی یعنی دیکھنے میں جمہوری نظام بہت عمدہ ہے۔
  • خواب آوری : نیند لانا، غافل کر دینے کا عمل۔

تشریح :- بدقسمتی سے تو اسے انفرادی آزادی کا پیغام لانے والا تصور کرتا ہے اس کے علاوہ موجودہ جمہوری نظام میں عوام کی زندگی کو منظم کرنے، ان کی اصلاح کے لیے ادارے قائم کرنے اور لوگوں کو رعایتیں اور حقوق دینے کے لئے جو ادارے قائم کیے گئے ہیں وہ مغربی استعماریت کا نسخہ ہے جس کے اثرات بظاہر شیریں ہیں لیکن لوگوں کو اپنے حقوق سے غافل کر دیتا ہے ۔

شعر 10 :

گرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری

معانی:👈

  • گرمی گفتار : پرجوش باتیں ، تقریریں۔
  • اعضا : جمع عضو، رکن، ممبر۔
  • مجالس : جمع مجلس، پارلیمنٹ، اسمبلیاں۔
  • سرمایہ دار : بہت دولت والے۔
  • جنگِ زرگری : یعنی مزید دولت حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ۔

تشریح :- اور یہ اسمبلیاں اور ان کے ارکان کی پرجوش تقریروں سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ عوامی مسائل چشم زدن میں حل ہو جائیں گے لیکن غور کیجئے تو یہ سرمایہ داروں کی طرف سے مزید دولت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

شعر 11 :-

اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

معانی:👈

  • سرابِ رنگ و بو : یعنی نظروں اور دل و دماغ کو فریب دینے والی سیاسی چالیں۔
  • قفس : پنجرہ۔
  • آشیاں : گھونسلا ۔

مطلب: اے شاعر! یہ جمہوریت کا نظام تو ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں جب کہ تو اسے ملک و ملت کے مفاد کے لئے بہترین طرز عمل سمجھے بیٹھا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس سراب کو رنگ و بو سے مزین گلستان سمجھا ہوا ہے بلکہ اس قدر ناداں ہے کہ قفس کو بھی اپنے آشیاں سے تعبیر کر رہا ہے ۔

سرمایہ و محنت

شعر 1:-

بندہَ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات

معانی:👈

  • بندہَ مزدور : کارخانوں وغیرہ میں اجرت پر کام کرنے والا۔
  • پیامِ کائنات : یعنی عالمی پیغام ۔

مطلب: اے شاعر تو سرمایہ و محنت کے حوالے سے بندہَ مزدور کو جا کر یہ پیغام سنا دے اور یہ امر خود بھی ذہن نشین کر لے کہ یہ پیغام صرف میرا (خضر) ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا ہے ۔

شعر 2 :-

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

معانی:👈

  • شاخِ آہو پر برات ہونا : کچھ حاصل حصول نہ ہونا یعنی سرمایہ دار کا مختلف بہانوں سے مزدور کو اس کا حق نہ دینا۔
  • حیلہ : چال باز، مکار۔

تشریح :- چونکہ ذرا غور سے دیکھا جائے تو مختلف مسائل پر ساری کائنات پیغام دیتی نظر آتی ہے کہ مزدور یہ حقیقت ہے کہ تیری محنت کا پھل بہانے بہانے سے سرمایہ دار کھا جاتے ہیں۔

شعر 3 :-

دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کا زکات

معانی:👈

  • دست : ہاتھ۔
  • دولتِ آفریں : دولت پیدا کرنے والا۔
  • مزد : مزدوری، اجرت۔

تشریح :- تو دولت اپنی محنت سے پیدا کرتا ہے لیکن اس کا معمولی سا معاوضہ سرمایہ دار اس انداز سے دیتا ہے جیسے تجھے زکواۃ کی رقم دے رہا ہو۔

شعر 4 :-

ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات

معانی:👈

  • ساحر الموط : الموط کا جادوگر ، حسن بن صباح، اسماعیلی فرقہ کا داعی، قلعہ الموط پر 483ھ میں اس نے ایک جنت بنائی جس میں خوبصورت عورتیں رکھیں ۔ جو لوگ مرید بنتے انہیں بھنگ پلا کر مدہوش کر کے جنت میں لے جاتے ۔ چند روز وہاں رکھنے کے بعد انھیں پھر بھنگ کے نشے میں گویا دنیا میں واپس لایا جاتا اور دوبارہ جنت کے لالچ میں ان کے مخصوص مقاصد کے لئے کام کرتے۔ ہلاکو خان تاتاری نے قلعہ فتح کر کے اس سلسلہ کو ختم کیا۔
  • برگِ حشیش : بھنگ کا پتا، بھنگ پلانے کی طرف اشارہ ہے۔
  • شاخِ نبات : مصری کی ڈلی۔

تشریح :- فی الواقعہ دیکھا جائے تو سرمایہ دار حسن بن صباح کی مانند ہے ۔ حسن بن صباح اپنے معتقدین کو بھنگ پلا کر مدہوش کر دیتا تھا وہ سمجھتے تھے کہ انہیں دنیا کی بہت بڑی دولت مل رہی ہے ۔ سرمایہ دار بھی مزدوروں کو ان کے حقوق سے غافل کرنے کے لئے اسی طرح سے جل دیتا ہے اور بے چارہ محنت کش اپنی ناعاقبت اندیشی کے سبب زہر کو بھی مصری کی ڈلی سمجھ کر نگل لیتا ہے ۔

شعر 5 :-

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مُسکرات

معانی:👈

  • نسل : خاندان، قبیلہ۔
  • قومیت : یعنی ایک وطن کے لوگ ایک الگ قوم۔
  • کلیسا : گرجا، مراد مذہبی نظریات، یورپ کی عوام پر حکومت۔
  • سلطنت : آمریت۔
  • تہذیب : زندگی گزارنے کے طریقے۔
  • رنگ : انسانی رنگ جو ملکوں کے مطابق کالا، زرد، سرخ وغیرہ ہوتا ہے ان کی بنا پر تعصب پیدا کیا جاتا ہے۔
  • خواجگی : آقائی، حکمرانی۔
  • مُسکرات : جمع مسکر، نشہ لانے والی چیزیں۔

تشریح :- سرمایہ داروں نے نسل، قومیت، عبادت گاہیں ، سلطنت ، تہذیب اور رنگ کے ایسے ایسے نشے ایجاد کر رکھے ہیں او ر محنت کش انہی کو سب کچھ سمجھتے ہوئے سرمست و سرشار ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ سب عناصر سرمایہ دار کے استحصالی نظام کے ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

شعر 6 :-

کٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیے
سُکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقدِ حیات

معانی:

  • کٹ مرا : لڑ لڑ کر جان دے دی۔
  • خیالی دیوتا : مراد مذکورہ نسلی و قوی تعصبات۔
  • سُکر کی لذت : نشے کا مزہ۔
  • نقدِ حیات : زندگی کی نقدی، دولت۔

تشریح :- جب کہ عام مزدور انہی عناصر کے نشے کے سبب اپنے ذاتی اثاثے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

شعر 7 :-

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

معانی:👈

  • چال : طریقہ ، رویہ۔
  • بازی لے جانا : جیت جانا۔
  • انتہائی سادگی : بیحد بھولا پن، کم سمجھی۔
  • مات : شکست۔

تشریح :- حالانکہ بغور دیکھا جائے تو مکر و فریب کی چالوں کے سبب سرمایہ دار محنت کشوں کا سب کچھ سمیٹ کر لے جاتے ہیں اور غریب مزدور اپنی سادگی کی بنا پر ہمیشہ مار کھا جاتا ہے ۔

شعر 8 :-

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

معانی:👈

  • اٹھ : ہوش کر، بیدا ر ہو جا۔
  • بزمِ جہاں : مراد دنیا۔
  • انداز : طور طریقہ۔
  • مشرق و مغرب : پوری دنیا۔
  • تیرے دور کا : مزدورں کا یا مسلمانوں ، اسلام کی ترقی کے زمانے کا۔
  • آغاز : ابتدا۔

تشریح :- لیکن اے مزدور اس خواب غفلت سے بیدار ہو کہ یہ استحصالی نظام اب زیادہ دیر جاری نہیں رہنا چاہیے ۔ کائنات کی فضا بدل چکی ہے اور اب تو مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ بہرحال ساری دنیا میں تیرے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔ مراد یہ کہ حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں جب مروجہ استحصالی نظام بدلے گا اور سرمایہ دار مزدور کے حقوق غصب نہیں کر سکیں گے۔

شعر 9 :-

ہمتِ عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

معانی:👈

  • ہمت عالی : بلند حوصلہ، ارادہ۔
  • غنچہ ساں : کلی کی طرح۔
  • دامن : پلو۔

تشریح :- اے شاعر! اگر انسان میں بلند ہمتی اور حوصلہ ہو تو وہ شبنم کا قطرہ تو الگ رہا اسے دریا بھی بخش دیا جائے تو وہ اس کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ تو آخر کب تک قناعت کرے گا۔

شعر 10 :-

نغمہَ بیداریِ جمہور ہے سامانِ عیش
قصہَ خواب آورِ اسکندر و جم کب تلک

معانی:👈

  • بیداریِ جمہور : عوام کی بیداری کا نعرہ۔
  • سامانِ عیش : آرام و راحت کی زندگی کا باعث۔
  • قصہَ خواب آور : نیند لانے والی کہانی۔
  • اسکندر : سکندر ِ رومی۔
  • جم: جمشید، ایران کا قدیم بادشاہ۔

تشریح :- ذرا غور سے دیکھ کہ اصل حقیقت تو عوام کی بیداری میں پوشیدہ ہے ۔آخر سکندر و جمشید جیسے بادشاہوں کے مبہوت کرنے والے واقعات کب تک سنے گا ۔

شعر 11 :-

آفتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا
آسماں! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

معانی:👈

  • آفتابِ تازہ : نیا سورج۔
  • بطنِ گیتی : زمانے کا پیٹ۔
  • ڈوبے ہوئے تارے : مراد بادشاہتیں ، آمرانہ حکومتیں۔

تشریح :- دیکھ کہ زمین کے بطن سے ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے آخر ان ستاروں کا ماتم کب تک کرے گا جو عرصہ ہوئے ڈوب چکے ہیں ۔

شعر 12 :-

توڑ ڈالیں فطرتِ انساں نے زنجیریں تمام
دُوریِ جنت سے روتی چشمِ آدم کب تلک

معانی:👈

  • زنجیریں : رکاوٹیں۔
  • دوری : دور ہونے کی حالت۔

تشریح :- انسانی فطرت نے آج ان تمام زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے جسے استعماری نظام سے مسلط کی تھیں ۔ یہ درست ہے کہ آدم کا جنت سے نکلنا ایک بڑا سانحہ تھا لیکن اب اس سانحہ کو یاد کر کے کیوں ذہنی کرب کا شکار ہو جائے ۔

شعر 13 :-

باغبانِ چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار
زخمِ گل کے واسطے تدبیرِ مرہم کب تلک

معا نی:👈

  • باغبانِ چارہ فرما : علاج کرنے والا،طبیب مالی۔
  • زخمِ گل : پھول یعنی مزدور کا زخم۔

تشریح :- جس طرح پھولوں کا کھلنا ایک فطری امر ہے اسی طرح محنت کشوں کی بیداری بھی ایک فطری امر ہے ۔ اب اس میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا ۔

شعر 14 :-

کرمکِ ناداں طوافِ شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو

معانی:👈

  • کرمک : چھوٹا سا کیڑا، پتنگا، مزدور۔
  • طواف : کسی شے کے گرد چکر لگانے کا عمل۔
  • شمع : مراد سرمایہ دار۔
  • تجلی زار : روشنیوں کی کثرت کی جگہ۔
  • آباد ہونا : مراد مستقبل شاندار بنانا۔

تشریح :- اس شعر میں خضر ایک بار پھر محنت کشوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کراتا ہے کہ اپنے معمولی مفاد کے لئے سرمایہ داروں کے گرد طواف کرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا بلکہ اپنی عظمت کا احساس کرو اور اپنے حقوق جس طرح بھی ممکن ہیں حاصل کرو ۔

دنیائے اسلام

شعر 1 :-

کیا سُناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

معانی:👈

  • ترک و عرب کی داستاں : ترکوں کے ساتھ عربوں کی غداری کا ماجرا۔
  • اسلامیوں : یعنی مسلمانوں۔

تشریح:- خضر عالم اسلام کے بارے میں استفسار پر شاعر سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے شاعر! تو مجھے ترک و عرب یعنی عالم اسلام کی داستان کیا سناتا ہے۔ کہ میں اس سے پوری طرح آگاہ ہوں اور اس ضمن میں مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔

شعر 2 :-

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

معانی:👈

  • تثلیث کے فرزند : عیسائی، یعنی انگریز حکمران(عیسائیوں کے نزدیک توحیدِ خداوندی کی تین شاخیں ہیں )۔
  • میراثِ خلیل : حضرت ابراہیم کی خوبیاں یعنی اخلاق حسنہ۔
  • خشت : اینٹ۔
  • بنیادِ کلیسا : گرجے ، عیسائیت کی بنیاد۔
  • خاکِ حجاز : حجاز کی مٹی۔

تشریح :- صورت حال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کا ورثہ تو اب مسلمانوں کی بجائے عیسائیوں نے حاصل کر لیا اور حجاز کی جو خاک تھی وہ اب کلیسا کی تعمیر میں کام آ رہی ہے۔ مراد یہ ہے کہ مغرب کی سیاست نے ملت مسلمہ کی شان وشوکت کو زیر و زبر کر دیا۔

شعر 3 :-

ہو گئی رُسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیاز

معانی:👈

  • کلاہِ لالہ رنگ : سرخ رنگ کی ٹوپی، مراد پھندے والی سرخ ٹوپی جو ترک پہنا کرتے تھے۔
  • سراپا ناز : پورے طور پر فخر والے، مسلمان۔

تشریح :- یہی وجہ ہے کہ ترک جیسی اولوالعزم قوم کی سرخ ٹوپی جو ساری دنیا میں باعث افتخار سمجھی جاتی تھی اب بدنام اور رسوا ہو کر رہ گئی ہے ۔

شعر 4 :-

لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس
وہ مئے سرکش، حرارت جس کی ہے مینا گداز

معانی:👈

  • مے فروشاں : جمع مے فروش، شراب بیچنے والے۔
  • فرنگستان : یورپ۔
  • پارس : فارس یعنی ایران۔
  • مئے سرکش : نافرمانی کی شراب، مراد غیر اسلامی تصورات۔
  • مینا گداز : صراحی کو پگھلا دینے والی یعنی ایسا تمدن تہذیب جو ایران کی اسلامی روایات کو ختم کر دے۔

تشریح :- دوسری طرف اہل ایران اپنی تہذیب و تمدن اور اس کے تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور مغرب کی نقالی میں مصروف ہیں ۔

شعر 5 :-

حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

معانی:👈

  • حکمتِ مغرب : یورپ کی سیاسی چالبازی اور سیاست۔
  • کیفیت : حالت۔
  • گاز : گیس، تیزاب۔

تشریح :- یہی اسباب ہیں کہ اہل یورپ کی سیاست اور عیاری کے سبب ملت مسلمہ اس طرح پارہ پارہ ہو چکی ہے جیسے تیزاب سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیتا ہے ۔

شعر 6 :-

ہو گیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

معا نی:👈

  • مانندِ آب : پانی کی طرح۔
  • دانائے راز : صحیح صورتحال یا حقیقت سے باخبر۔

تشریح :- آج تمام دنیا میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور اے شاعر تو اس صورتحال پر مضطرب اور بے چین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تو نے حالات کا پوری طرح تجزیہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

شعر 7 :-

گُفت رومی ہر بنائے کہنہ کا باداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند

معانی:👈

  • گفت رومی : مولانا رومی نے کہا۔
  • اول آں بنیاد را ویراں کنند : پہلے اسکی بنیاد کو ویران کر۔

تشریح :- اے شاعر مولانا رومی کا قول ہے کہ کسی عمارت کو ازسر نو تعمیر کرنا ہو تو پہلے اس کی بنیاد کو اکھاڑ دیتے ہیں اس کے بعد ہی وہ نئے سرے سے بنائی جا سکتی ہے ۔

شعر 8 :-

مُلک ہاتھوں سے گیا، ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق تُرا چشمے عطا کردست غافل در نگر

معانی:👈

  • ملک ہاتھوں سے گیا : اشارہ ہے مسلمانوں کے قبضے سے دہلی بغداد اور دمشق کے نکل جانے کی طرف۔
  • آنکھیں کھلنا : ہوش آ جانا۔

تشریح :- اے شاعر اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک اور سلطنت پرغیروں نے تسلط جما لیا اور ملت اسلامیہ اقتدار سے محروم ہو گئی۔ یہ صریحاً ناقابل تلافی نقصان تھا پھر بھی اس نقصان سے یہ فائدہ ضرور پہنچا کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں ہیں۔ اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہونے لگا ہے کہ خدا نے اسے بصارت کے ساتھ بصیرت بھی بخشی ہے۔

شعر 9 :-

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
موربے پر! حاجتے پیشِ سلیمانے مبر

معانی:👈

  • مومیائی کی گدائی : ہڈی جوڑنے کی بھیک، مراد مسلمانوں کا اپنی بری حالت سنوارنے کے لیے دوسرے ملکوں سے مدد مانگنا۔
  • شکست : ہڈی ٹوٹنے کا عمل۔

تشریح :- انسانی تعمیر کے لیے مانگی ہوئی دواؤں کے حصول سے یہ امر زیادہ بہتر ہے کہ انسان ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے اور عارضی سطح پر شکست کو قبول کر لے ۔ اس لیے کہ تیرا وجود ایک معمولی چیونٹی کی مانند بھی ہو پھر بھی تجھے حضرت سلیمان جیسے عظیم فرمانروا کی روبرو حاجت روائی کے لیے دست طلب و دراز نہیں کرنا چاہیے ۔

شعر 10 :-

ربط و ضبطِ ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

معانی:👈

  • ربط و ضبط : آپس میں اتفاق، اتحاد و میل ملاپ۔
  • ملتِ بیضا : روشن قوم، ملت اسلامیہ۔
  • مشرق کی نجات : یعنی اسلامی ملکوں کی آزادی۔
  • ایشیا والے : ایشا کے لوگ، قو میں۔

تشریح :- مشرق کی نجات اسی نکتے میں مضمر ہے کہ ملت بیضا میں ہر چہار جانب اتحاد و نگانگت اور باہمی ارتباط کا سلسلہ از سر نو قائم ہو جائے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایشیا کے لوگ ابھی تک اس نکتے سے آگاہی نہیں رکھتے۔

شعر 11 :-

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر

معانی:👈

  • حصار دیں : دین کا قلعہ مراد اسلام کی طرف متوجہ ہو۔
  • ملک و دولت : ملک اور حکومت۔
  • حفظِ حرم : کعبہ کی حفاظت۔
  • حرم : اسلام۔

تشریح :- اے شاعر میری بات غور سے سن کہ ملت کی نجات اسی عمل میں پوشیدہ ہے کہ سیاست کو ترک کر کے مسلمان از سر نو اپنے دین کی طرف رجوع کریں۔ اس لیے ملک و دولت کا بنیادی مقصد تو صرف اسی قدر ہے کہ حرم یعنی مذہب اور اپنی اقدار کا تحفظ کیا جا سکے۔

شعر 12 :-

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

معانی:👈

  • نیل : دریائے نیل، مصر کا مشہور دریا۔
  • تابخاکِ کاشغر : کاشغر کی سرزمین، ترکستان کا ایک شہر۔

تشریح :- چنانچہ یہ امر ناگزیر ہے کہ حرم اور دین کا تحفظ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ دریائے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک مسلمان متحد ہو کر صف آرا ہوں یعنی افریقہ سے لے کر ترکی تک مسلمان اپنے تمام اختلاف بھلا کر ایک ہو جائیں اسی اتحاد میں ملت اسلامیہ کی نجات ہے۔

شعر 13 :-

جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا
تُرک خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہر

معانی:👈

  • رنگ و خوں : نسل، قبیلہ، علاقائی تعصب۔
  • ترک خرگاہی : شاہی خیمے والا ترک، ترک قوم۔
  • اعرابی : عربوں کی بدو قوم۔
  • والا گُہر : اعلیٰ خاندان۔

تشریح :- اے شاعر! یہ بھی گوش ہوش سن لے کہ اگر ملت میں اختلافات باقی رہے تو وہ ہمیشہ کے لیے مٹ کر رہ جائے گی اس ضمن میں کوئی تخصیص نہیں کہ اختلاف کرنے والے خواہ شاہی خیموں میں رہنے والے ترک ہوں یا بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھنے والے عرب ہوں کہ رنگ و نسل کا امتیاز ہمیشہ تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ امتیازات کو ختم کر کے دین کے حقیقی بنیاد پر پیروی کی جائے کہ دنیا میں یہی عمل کامیابی و کامرانی کا سبب بن سکتا ہے ۔

شعر 14 :-

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اُڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاک رہ گزر

معانی:👈

  • مقدم : افضل، بڑھ کر، بالاتر۔

مطلب: یہ بھی جان لے کہ رنگ و نسل کی لعنت اگر دین پر مغربی اقوام کی طرح مسلط ہو گئی تو ملت اسلامیہ اس طرح صفہ ہستی سے مٹ کر رہ جائے گی جس طرح راہ میں پڑا ہوا غبار باد سموم کے جھونکوں سے اڑ کر اپنا وجود کھو دیتا ہے ۔

شعر 15 :-

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

معانی:👈

  • خلافت کی بنا : صحیح اسلامی حکومت کی بنیاد۔
  • اسلاف کا قلب و جگر : پرانے مسلمانوں کا سا دل و دماغ یعنی توحید اور اسلام سے محبت کا جوش و جذبہ۔

تشریح :- اے شاعر یاد رکھ کہ ملت اسلامیہ اسی وقت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو کر برسراقتدار آ سکتی ہے جب کہ وہ ہر معاملے میں دین کی پیروی کرے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے اسلاف جیسی ہمت اور حوصلہ پیدا کیا جائے ۔

شعر 16 :-

اے کہ نشناسی خفی راز جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

تشریح :- اس شعر میں مسلمانوں کے مابین فرقہ بندی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لو گ ابوبکر اورامام علی کی بڑائیاں کرنے کے چکر میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو اور فرقہ پرستی کو ہوا دے کر اپنی صفوں میں انتشار پیدا کر رہے ہو ۔ تمہیں ہوش و خرد کا دامن ہاتھوں سے تھامنا چاہیے ۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تم پوشیدہ اور ظاہر باتوں میں امتیاز پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اس لیے تمہیں خبردار ہو جانا چاہیے ۔

شعر 17 :-

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

معانی:👈

  • فریاد : احتجاج، شکایت۔
  • دل تھام کر : ذرا حوصلے اور صبر کے ساتھ۔
  • تاثیر : اثر کی کیفیت۔

تشریح :- اب آخری مرحلے پر خضر یوں کہتا ہے کہ اے شاعر! ملت پر متوقع مصائب کے بارے میں خدائے ذوالجلال کے حضور جو فریاد کرنی چاہیے تھی عشق حقیقی کے طفیل وہ فریاد بھی ہو چکی ۔ اب اس کے بعد یہی مناسب ہے کہ اس فریاد کے اثرات کا جائزہ لیا جائے کہ بارگاہ ایزدی میں اس فریاد کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔

شعر 18 :-

تو نے دیکھا سطوتِ رفتارِ دریا کا عروج
موجِ مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

معانی:👈

  • سطوتِ رفتار دریا : دریا کے بہاوَ کی شان و شوکت یعنی اسلام دشمنوں کی سازشیں۔
  • عروج : بلندی ، ترقی۔
  • موجِ مضطر : بے چین لہر یعنی غیر مسلمانوں کی شورشیں۔
  • زنجیر : بیڑی یعنی ان کے لیے وبال جان۔

تشریح :- تو نے ابھی اس کی عظمت اور رفتار کی تیزی ہی دیکھی ہے اب ذرا یہ دیکھ کہ دریا کی تیز اور مضطرب موج خود اس کے لیے زنجیر کس طرح سے بنتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے مسلمانوں کو بے شک تہذیبی اور سیاسی سطح پر تو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے لیکن اس تہذیب کا اپنا کیا حشر ہو گا یہ حقیقت بھی عنقریب سامنے آ جائے گی۔

شعر 19 :-

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

معانی:👈

  • عا م حریت : سب انسانوں کے لیے آزادی۔
  • تعبیر : خواب کی وضاحت۔

تشریح :- تمام دنیا کے لیے جو آزادی اور حریت فکر کا خواب اسلام نے دیکھا تھا وہ اب تعبیر کے مراحل میں داخل ہونے والا ہے ۔

شعر 20 :-

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامانِ وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پیر دیکھ

معانی:👈

  • خاکستر : راکھ۔
  • سمندر : چوہے کی قسم کا ایک جانور جو آگ میں رہتا ہے مگر جلتا نہیں۔
  • جہانِ پیر : بوڑھی دنیا۔

تشریح :- اس کی مثال سمندر کی سی ہے۔ سمندر یعنی وہ کیڑہ جو آگ میں پیدا ہوتا ہے پھر اسی میں جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی راکھ سے خود ہی جنم لیتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عالم اسلام اپنے انتہائی زوال کے بعد اب ترقی کی راہ پر ازسر نو گامزن ہو گا ۔

شعر 21 :-

کھول کر آنکھیں مرے آئینہ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

معانی:👈

  • کھول کر آنکھیں : پوری توجہ اور غور کے ساتھ۔
  • آئینہ گفتار : باتوں کا آئینہ، مراد بصیرت سے بھری باتیں۔
  • دھندلی سی : جو پوری طرح صاف نہ ہو۔
  • آنے والے دور کی تصویر : مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات کا نقشہ، خاکہ۔

تشریح :- خضر کہتا ہے کہ اے شاعر! میری گفتگو میں تجھے آنے والے دور کی تصویر یقیناً نظر آئے گی ہر چند کہ یہ تصویر فی الحال قدرے دھندلی ہے تا ہم رفتہ رفتہ یہ تصویر واضح ہوتی چلی جائے گی ۔

شعر 22 :-

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

معانی:👈

  • آزمودہ : آزمایا ہوا۔
  • گردوں : آسمان۔
  • تدبیر : انسانی کوششیں۔
  • رسوائی : ذلت، بے بسی۔

تشریح :- لیکن اس حقیقت کو نہ بھولو کہ فلک کج رفتار کے پاس ایک آزمودہ فتنہ بھی ہے جس کا نام تقدیر ہے۔ جان لے کہ تقدیر وہ شے ہے جس کے بالمقابل تدبیر کے سارے حربے ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔

شعر 23 :-

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
بر زماں پیشِ نظر لا یُخْلَفُ الْمِیْعاد دار

معانی:👈

  • آرزو :تمناؤں۔
  • لایخلف المعاد دار : اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔

تشریح :- تو اگر مسلمان ہے تو اپنے دل میں عظمت اسلام اور ملت اسلامیہ کی ترقی و سربلندی کی آرزو زندہ رکھ اور اس قرآنی آیت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھ کہ خدا تعالیٰ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

تحریر🔺محمد طیب عزیز خان محمودی🔺
Advertisement

Advertisement