حالی نے اپنی نظم ” شعر سے خطاب“ میں شعر کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی ہے اور اپنے زمانے کی شعری اصناف بالخصوص غزل اور قصیدہ کو جھوٹ، مبالغہ آمیز اور خوشامد کا دفتر بتایا ہے۔
دبستان لکھنؤ کے شعرا رعایت لفظی، نازک خیالی اور الفاظ کے الٹ پھیر سے ایسے شاعری کر رہے تھے جو پڑھنے والوں کو مسحور تو کر سکتی تھی لیکن انہیں حرکت و عمل کے لئے ہرگز آمادہ نہ کر سکتی تھی۔ اس لیے حالی نے شعر سے خطاب کرکے کہا کہ شعر دلفریب نہ ہو تو کوئی غم نہیں لیکن اس میں دل گدازی کی کیفیت نہ ہو تو وہ قابلِ افسوس ہے۔

حالی یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک زمانہ پہلے شعراء نے جھوٹ کو اپنا ایمان شاعری بنایا تھا اور شعر کی تاثیر سے ناواقف لوگوں نے اسے حسن و آرائش کی چیز بنائی تھی، جس کی وجہ سے اہل نظر کے لئے اس کی وقعت ختم ہوگئی تھی۔ حالی نے شعر کو اپنی عمر بڑھانے کے لیے حقیقت اور سچائی کا استعمال ضروری قرار دیا اور شعر کو راہ میں درپیش رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

حالی نے شعر کو یہ نصیحت بھی کی ہے کہ ناقدریوں کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ شعر کی قدر زمانہ ضرور کرے گا۔آخر میں حالی نے اپنے وجود کو غنیمت بتایا ہے کیونکہ وہ شعر کے صحیح قدردان ہیں اور شعر پر ناز کرتے ہیں اور شعر بھی ان پر جس قدر ناز کرے، کم ہے۔