Advertisement
حسن کا بے باکیوں سے سلسلہ بنتا گیا
بے حیائی کا ولا میں راستہ بنتا گیا
تیرے میرے درمیاں جب فاصلہ بنتا گیا
دل کا غم سے غم کا دل سے رابطہ بنتا گیا
ذکر ہوتا تھا محبت کا کبھی جس گھر میں وہ
ہجر جاناں کے سبب اک میکدہ بنتا گیا
رفتہ رفتہ ساری دنیا کو بھلا بیٹھا میں جب
ذہن میں یادوں کا اسکی دائرہ بنتا گیا
اک امید ناز کی خاطر گنوا بیٹھا حیات
روگ ایسا لگ گیا جو لا دوا بنتا گیا
دانہ عاقل صاحب تدبیر زیرک ہوشیار
مبتلائے عشق ہو کر باولا بنتا گیا
ظالم و سفاک و جابر سنگ دل تھا جو کبھی
سلطنت میں آ کے پل پل پارسا بنتا گیا
رہنمائی کی ضرورت تھی جسے فیضان وہ
مال و دولت کے سبب سے رہنما بنتا گیا

Advertisement

Advertisement

Advertisement