نام و نسب و خاندان:☜

عبد اللہ نام ابو بکر کنیت اور لقب صدیق اور عتق ہے۔ والد ماجد کا نام عثمان اور کنیت ابو قحافہ ہے۔ والدہ ماجدہ کا نام سلمٰی اور ام الخیر کنیت ہے۔ والد کی جانب سے پورا سلسلہ نسب یہ ہے؛ عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن لوی القرشی التمیمی۔اور والدہ کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے؛ ام الخیر بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ اس طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ کا سلسلہ نسب چھٹی پشت میں مرہ پر نبی کریمﷺ سے مل جاتا ہے۔

ابو قحافہ عثمان بن عامر شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے۔ابتداء جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے کہ وہ اسلام کی تحریک کو بازیچہ اطفال سمجھتے تھے۔ چناچہ حضرت عبد اللہؓ کا بیان ہے کہ جب نبی کریمﷺ نے ہجرت فرمائی تو میں آپﷺ کی تلاش میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے گھر آیا۔ وہاں ابو قحافہ موجود تھے۔ انہوں نے حضرت علی کو اس طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی برہمی سے کہا تھا کہ ان لڑکوں نے میرے بچہ کو بھی خراب کر دیا ہے۔

ابوقحافہ فتح مکہ تک نہایت ہی استقلال کے ساتھ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے اور فتح مکہ کے بعد جب نبی کریمﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے تو اپنے فرزند حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ نبی کریمﷺ نے انکے ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا کہ انہیں تکلیف کیوں دی میں خود انکے پاس پہنچ جاتا۔اسکے بعد نہایت ہی شفقت سے آپ ﷺ نے انکے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین فرما کر مشرف بہ اسلام فرمایا۔

حضرت ابوقحافہؓ نے بڑی عمر پائی۔آنحضرتﷺ اور اپنے فرزند ارجمند حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے۔آخر میں نہایت ضعیف ہو گئے تھے اور آنکھوں کی بصارت جاتی رہی تھی۔آپ نے 14 ہجری میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔

آپ کی والدہ حضرت ام الخیر سلمٰی بنت صخر کو ابتدا ہی میں حلقہ بگوشان اسلام میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہے۔ان سے پہلے صرف 39 صحابہ اکرامؓ مشرف بہ اسلام ہوۓ تھے۔یہ قلیل جماعت بالاعلان اپنے اسلام کا اظہار نہیں کر سکتی تھی اور نہ مشرکین کفار کو بے بانگ دہل دین مبین کی دعوت دے سکتی تھی۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ کا کفار و مشرقین کو دعوت اسلام دینا:☜

حضرت ابو بکر صدیقؓ کا مذہبی جوش اس بے بسی پر نہایت ہی مضطرب تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک روز نہایت اصرار کے ساتھ رسول اللہﷺ سے اجازت لیکر مجمع عام میں شریعت حقہ کے فضائل پر تقریر فرمائی اور کفار و مشرکین کو شرک وبت پرستی چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ کفار ومشرکین جنکے کان کبھی ان الفاظ سے مانوس نہ تھے۔، ہایت برہم ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نہایت بے رحمی اور خدا ترسی کے ساتھ اس قدر مارا کہ بلاآخر بنی تمیم کو باوجود مشرکوں کے اپنے ہی قبیلہ کے ایک فرد کو اس حالت میں دیکھ کر ترس آ گیا۔انہوں تمام مشرکین کے پنجہ ظلم سے چھڑا کر آپؓ کو گھر تک پہنچایا۔

شب کے وقت بھی حضرت ابو صدیقؓ باوجود درد و تکلیف کے اپنے والد اور خاندانی عزہ کو دعوت اسلام دیتے رہے۔صبح ہوئی تو نبی کریمﷺ کا پتہ دریافت کرکے اپنی والدہ کے ساتھ ارقم بن ارقم کے مکان پر آۓ اور نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ حاضر ہیں۔انکو راہِ حق کی ہدایت دیجیئے۔ آنحضرتﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ حضرت ام الخیر نے بھی طویل عمر پائی چناچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کے وقت تک زندہ رہیں۔انہوں نے اپنے شوہر سے پہلے وفات پائی۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ اسلام سے پہلے ایک متمول تاجر کی حثیت رکھتے تھے اور انکی دیانت راست بازی اور امانت کا خاص شہرہ تھا۔ اہل مکہ انکو علم ، تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے۔ایام جاہلیت میں خون بہا کا مال آپؓ ہی کے پاس جمع ہوتا تھا۔اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا تو قریش اسے تسلیم نہیں کرتے تھے۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ کو زمانہ جاہلیت  سے ویسے ہی  شراب سے نفرت تھی۔جیسے زمانہ اسلام میں اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں نقصان آبرو ہے۔ آنحضرتﷺ کےساتھ پچپن ہی سے  خاص لگاؤ اور انس وخلوص تھا اور آپکے مخصوص حلقہ آداب میں داخل تھے۔اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل تھا۔

آنحضرتﷺ  کو جب خلعتِ نبوت عطاء ہوا تو آپﷺ نے مخفی طور پر احباب اور مخلصین اور محرمانِ راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا ۔۔۔۔تو مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا۔

مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے دین حنیف کی نشر و اشاعت کے لئے جدو جہد کرنی شروع کر دی اور صرف آپکی دعوت پر حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ، حضرت طلحہ بن عبد اللہؓ جو معدن اسلام کے سب سے تاباں و درخشاں جواہر ہیں، مشرف بہ اسلام ہوۓ۔ حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ ، حضرت ابو سلمہؓ ، حضرت خالد بن سعد بن عاص بھی آپ ہی کے زیرِ ہدایت سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوۓ۔

مکہ کی زندگی:☜

آنحضرتﷺ نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ اس بے بسی کی زندگی میں جان ، مال، راۓ، مشورہ، غرض ہر حیثیت سے آپﷺ کے دست بازوں اور رنج و راحت میں شریک رہے۔نبیﷺ روزانہ صبح شام حضرت ابو بکرؓ کے گھر تشریف لے جاتے اور دہر تک مجلس راز قائم رہتی۔

قبائل عرب اور عام مجمعوں میں دعوت و تبلیغ کے لئے جاتے تو یہ بھی نبی کریمﷺ کے ہم رکاب ہوتے اور نسب دانی اور کثرتِ ملاقات کے باعث لوگوں سے آپکا تعارف کراتے۔ مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد لونڈیوں اور غلاموں کی تھی جنہوں نے اپنے مشرک آقاؤں کے ظلم و ستم کے پنجوں میں جکڑنے کے باوجود توحید کو قبول کیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان بندگان توحید کو خرید کر دیا۔ چناچہ حضرت بلالؓ ، حضرت عامر بن فہیرہ اور  حضرت نذیر نہدیہ ، اور بنت نہدیہ وغیرہ نے اسی دور صدیقی میں نجات حاصل کی۔

ہجرت حبشہ کا قصد  اور واپسی:☜

ابتداً قریش نے مسلمانوں کی قلیل جماعت کو چنداں اہمیت نہ دی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ روز بروز انکی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اسلام کا حلقہ عصر و وسیع ہوتا جا رہا ہے۔نہایت ہی سختی سے انہوں نے اس تحریک کا سد باب کرنا چاہا۔ ایذاء رسانی کی تمام تر صورتیں عمل میں لانے لگے۔جب نبی کریمﷺ نے اپنے جانثاروں کو جب اس مصائب میں مبتلاء پایا تو ستم زدوں کو حبش کی جانب ہجرت کی اجازت دی اور بہت سے مسلمان حبشہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ باوجود وجاہت ذاتی اور اعزاز خاندانی کے اس دارو گیر سے محفوظ نہ تھے۔چناچہ جب حضرت طلحہ بن عبد اللہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو حضرت طلحہ کے چچا نوفل نے دونوں کو ایک ساتھ باندھ کر مارا اور حضرت ابو بکرؓ کے خاندان نے کچھ حمایت نہ کی۔ان اذیتوں سے مجبور ہو کر نبی کریمﷺ سے اجازت لی اور رخصت سفر باندھ کر عازم حبش ہوئے۔جب آپ مقام برک الغمار پر پہنچے تو ابن دغنہ رئس قارہ سے ملاقات ہوئی۔اس نے پوچھا کہ ابو بکر کہاں کا قصد ہے؟؟؟آپ نے فرمایا کہ قوم نے مجھے جلا وطن کر دیا ہے۔اب ارادہ ہے کہ کسی اور وطن جاؤں اور آزادی سے مطمئین ہو کر خدا کی عبادت کروں۔ابن الدغنہ نے کہا کہ تم سا آدمی جلاوطن نہیں کیا جا سکتا۔ تم مفلس اور بے نوا کی دستگیری کرتے ہو۔قرابت داروں کا خیال رکھتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو، مصیبت زدوں کی اعانت کرتے ہو، میرے ساتھ واپس چلو اور اپنے وطن ہی میں رہ کر خدا کی عبادت کرو۔چناچہ آپ ابن دغنہ کے ساتھ مکہ معظمہ واپس آئے۔ابن الدغنہ نے مکہ میں پھر کر یہ اعلان کر دیا کہ ابوبکر میری امان میں ہے۔

ہجرت مدینہ منورہ اور خدمت رسولﷺ :☜

کفار اور مشرکین کا ظلم ستم روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا۔آپ نے پھر دوبادہ ہجرت کا قصد کیا۔اس وقت تک مدینہ کی سرزمین نور اسلام سے منور ہو چکی تھی اور ستم رسیدہ مسلمانوں کو خلوص و محبت کے ساتھ اپنے دامن میں پناہ دے رہی تھی۔اس لئے اس مرتبہ آپ نے مدینہ منورہ کو اپنی منزل قرار دیا اور ہجرت کی تیاری شروع کر دی۔لیکن بارگاہِ نبوت سے حکم آیا کہ ابھی عجلت سے کام نہ لو۔امید ہے کہ خدا پاک کی جانب سے مجھے بھی ہجرت کا حکم ہوگا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے نہایت ہی تعجب سے پوچھا” میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں کیا آپکو بھی ہجرت کا حکم ہوگا؟؟؟۔۔۔۔۔ارشاد ہوا۔۔۔۔ہاں” عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ  مجھے بھی ہمراہی کا شرف نصیب ہو۔ "آپﷺ نے فرمایا ہاں تم بھی ساتھ چلوگے”۔اس بشارت کے بعد ارادہ ترک کر دیا اور چار ماہ تک منتظر رہے۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ نبی کریمﷺ عمومًا صبح شام حضرت ابو بکر صدیقؓ کے گھر تشریف لاتے۔ایک مرتبہ منھ چھپاۓ خلافِ معمول وقت تشریف فرما ہوۓ اور ارشاد فرمایا کہ کوئی ہو تو ہٹادو میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا کہ گھر میں صرف گھر والوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔یہ سن کر آپﷺ اندر تشریف لاۓ اور ارشاد فرمایا کہ مجھے ہجرت کا حکم ہو گیا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پھر ہمراہی کی تمنا ظاہر کی۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں تیار ہو جاؤ۔۔۔وہ تو چار مہینہ سے منتظر تھے۔فورًا تیار ہو گئے۔ام لامؤمنین حضرت عائشہؓ اور حضرت اسماءؓ نے جلدی جلدی رخصت سفر درست کیا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پہلے ہی دو اونٹ تیار کر لیے تھے۔ ایک نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا۔اور ایک پر خود سوار ہوۓ۔اس طرح نبی کریمﷺ اور صدیق اکبرؓ کا مختصر قافلہ راہِ مدینہ منورہ ہوا۔

غزوۂ بدر میں شرکت:☜ 

غزوۂ بدر حق و باطل کا اول اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔خدا کے برگزیدہ پیغمبر ایک سائے دار جگہ کے نیچے اپنی محدود جماعت کے ساتھ حق وصداقت کی حمایت میں کارزار تھے۔اور وہی پیر مرد جس نے اپنے واعظ سے عثمان بن عفانؓ ابو عبیدہ بن جرحؓ اور عبد الرحمٰن بن عوف جیسے اولو العزم صحابہ اکرام کو حلقہ بگوش اسلام فرمایا، نہایت جاں بازی کے ساتھ تیغ بکف اپنے ہادی کی حفاظت میں مصروف تھا۔اور کفار و مشرکین ہر جانب سے نرغہ کرتے آتے اور یہ ایک ایک کو شجاعت خداد سے بھگا دیتا۔

نبی کریم ﷺ کفار کی کثرت دیکھ کر محزون ہوتے اور سربسجود ہو کر خدا سے دعا فرماتے۔۔۔۔۔اے خدا مجھکو بے یارو مدد گار نہ چھوڑ اور اپنا عہد پورا کر ! اے خدا !!! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اس روۓ زمین پر تیری پرستش نہ ہو۔ اس حزن و یاس میں نبی کریمﷺ قدیم مونس باوفا اور ہمدم غمگسار  شمشیر برہنہ آپکیﷺ حفاظت میں مشغول ہوتا۔تسلی اور دلدہی کے کلمات اسکی زبان پر جاری ہوتے۔ اس خوف ناک جنگ میں بھی ابو بکر صدیقؓ نبیﷺ کی خدمت سے کبھی غافل نہ ہوۓ۔

ایک مرتبہ رداء مبارک آپﷺ کے شانہ اقدس سے گر گئی تو تڑپ گئے اور فورًا اٹھا کر شانہ مبارک  پر رکھ دی۔پھر رجز پڑھتے ہوۓ غنیم کی صف میں گھس گئے۔در حقیقت یہی وہ راد افشگی جوش اور حب رسول کا جذبہ تھا۔جس نے قلت کو کثرت کے مقابلہ میں سر بلند کیا۔

غزوۂ احد میں شرکت:☜

بدر کی شکست مکہ قریش کے دامن پر نہایت بدنما دھبہ تھا۔انہوں نے جوش انتقام میں نہایت ہی عظیم الشان تیاریاں کی تھی۔ چناچہ معرکہ احد اسی جوش کا نتیجہ تھا۔اس جنگ میں مناہدین اسلام  باوجود تعداد قلت پہلےتو غالب آئے لیکن اتفاقی طود پر پانسہ پلٹ گیا۔بہت سے مسلمانوں کے پاۓ ثبات متززل ہو گئے لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ آخر وقت تک ثابت قدم رہے۔ نبی کریمﷺ سخت مجروح ہوئے اور لوگ آپکوﷺ پہاڑ پر لاۓ تو حضرت ابو بکرؓ بھی ساتھ تھے۔ ابو سفیان نے پہاڑ کے قریب آکر پکارا کہ کیا محمد قوم میں ہیں؟؟؟کوئی جواب نہ ملا تو حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کا نام لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار بھی نبی کریمﷺ کے بعد حضرت ابو بکرصدیقؓ ہی کو رئیس الامت سمجھتے تھے۔

غزوۂ بنی مصطلق میں شرکت  :☜

٦؁  ھ میں غزوۀ بنی مصطلق پیش آیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اس معرکہ میں بھی آپﷺ کے ہمرکاب ہوئے۔ یہ مہم کامیابی کے ساتھ واپس آئی اور شب کے وقت مدینہ کے قریب تمام لشکر نے پڑاؤ ڈالا اور واقعہ افک پیش آیا۔

واقعہ حدیبیہ :☜

نبی کریمﷺ نے اسی سال چودہ سو صحابہ اکرامؓ کو اپنے  ہمراہ لیکر زیارت کعبہ کا عزم فرمایا۔ جب مکہ پہنچے تو خبر ملی کہ قریش مزاحم (روکینگے)ہونگے۔یہ سن کر نبی کریمﷺ نے صحابہ اکرامؓ سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ہم قتل و قتال کے نہیں بلکہ زیارت بیت اللہ کے قصد سے حاضر ہوئے ہیں۔اس لئے تشریف لے چلیں اور جو کوئی اس راہ میں سد راہ ہوگا ہم اس سے لڑینگے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ﷽ چلو! غرض آگے بڑھ کر مقام حدیبیہ میں قیام فرمایا اور طرفین سے مصالحت کی سلسلہ جانبانی شروع ہوئی اور اسی اثنا میں مشہور ہوا کہ حضرت عثمانؓ جو سفیر کر دیئے گئے تھے شہید ہو گئے۔یہ سن کر نبی کریمﷺ نے تمام جاں نثاروں سے جنگ بیعت لی۔یہی وہ بیعت ہے جو تاریخ اسلام میں بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔

امارت حج:☜

٩؁ ھ میں نبی کریمﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو امارت حج کے منصب پر فائز فرمایا اور ہدایت کی کہ منہ کے عظیم الشان اجتماع میں یہ اعلان کر دے کہ اگلے سال کوئی مشرک حج نہیں کریگا۔ اور نہ کوئی برہنہ شخص خانہ کعبہ کا طواف کریگا۔ چونکہ سورہ برأت اسی زمانے میں نازل ہوئی تھی اور حضرت علیؓ حج کے موقعہ پر اسے سنانے کے لیے گئے تھے۔اس لئے بہت سو کو یہ شک پیدا ہوا کہ امارت حج کی خدمت بھی حضرت ابو بکرؓ سے لیکر حضرت علی کو ہی تفویض کی گئی تھی۔ چناچہ ہہ شدید غلطی ہھ اور حضرت علیؓ کی ہی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ ہی اس شرف کے تنہاء مالک تھے۔

اخلاق و عادات

حضرت ابو بکر صدیقؓ فطرتًا  اخلاقِ حمیدہ سے متصف تھے۔ایام جاہلیت میں عفت پارسائی، رحم دلی، راست بازی، دیانت داری انکے مخصوص اوصاف تھے۔یہی وجہ ہے زمانہ جاہلیت میں دیت کی تمام رقم انہی کے پاس جمع ہوتی تھی۔ ورعٰ و تقوٰی حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اپنے میدان اخلاق کا سب سے درخشاں گوہر ہے۔ شراب نوشی فسق و فجور گو اس زمانہ میں عالم گیر تھا۔تاہم انکا دامنِ عفاف کبھی ان دھبوں سے داغدار نہیں ہوا۔فیاضی، مفلس و بے نوا کی دستگیری، قرابت داروں کا خیال، مہمان نوازی، مصیبت زدوں کی اعانت غرض ہر قسم کے تمام محاسن و محامد ان میں پہلے سے موجود تھے۔ شرف ایمان نصیب ہوا تو نبی کریمﷺ کی صحبت نے ان اوصاف کو اور بھی چمکا دیا۔

مرض الموت و وفات :☜

حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کو ابھی سوا دو برس ہی گزرے تھے اور اس قلیل عرصہ میں مدعیان نبوت مرتدین و منکرین زکوة کی سرکوبی کے بعد فتوحات کی ابتداء ہی ہوئی تھی کہ پیامِ اجل پہنچ گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ایک دن جب موسم نہایت سرد خنک تھا تو آپ نے غسل فرمایا ۔غسل کے بعد بخار آ گیا اور مسلسل پندرہ یوم تک قائم رہا۔ اسی اثناء میں آپ مسجد میں تشریف لانے سے بھی معذور ہو گئے۔ چناچہ آپ کے حکم سے حضرت عمرؓ امامت کے فریضہ کو انجام دیتے تھے۔

مرض جب روز روز بڑھتا گیا اور افاقہ سے مایوسی ہوتی گئی تو صحابہ اکرام کو بلاکر جانشیبی کے متعلق مشورہ کیا اور حضرت عمرؓ کا نام پیش کیا گیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے عرض کیا کہ  حضرت عمرؓ کے اھل ہونے میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے۔بس صحابؓہ کو حضرت عمرؓ کے تشدد کے باعث پس وپیش تھی۔ چناچہ حضرت طلحہؓ  عیادت کے لئے آۓ تو شکایت کی کہ کیا آپ حضر عمرؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔حالاکہ جب وہ آپکے سامنے اس قدر متشدد تھے تو خدا جانے آئندہ کیا کرینگے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ جب ان پر خلافت کا بار آیئگا تو خود بخود نر ہونا پڑیگا۔

الغرض حضرت ابو بکر صدیقؓ نے سب کی تشفی کرنے کے بعد حضرت علیؓ کو بلا کر عہد نامہ خلافت لکھوانا شروع کیا۔ابتدائی کلمات لکھے جا چکے تھے کہ آپ کو غش آ گیا۔حضرت عثمانؓ نے یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کا نام اپنی جانب سے بڑھا دیا۔کچھ دیر بعد ہوش آیا تو حضرت عمر سے کہا کہ پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے پڑھا تو بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور کہا کہ اللہ تمہیں جزاء خیر دے تم نے میرے دل کی بات لکھ دی۔غرض عہد نامہ مرتب ہو  کا تو غلاموں کو دیا کہ عوام میں پڑھ کر سنا دے اور خود بالا خانہ پر تشریف لے جاکر حاضرین سے فرمایا کہ میں نے اپنے وزیز بھائی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا بلکہ اسکو منتخب کیا ہے جو تم میں سب سے بہتر ہے۔

تمام حاضرین نے اس انتخاب پر سمعنا واطعنا کہا۔۔۔۔اسکے بعد حضرت عمرؓ کو کچھ اہم نصائح کی اور فرمایا کہ آج کونسا دن ہے؟؟؟ عرض کیا گیا کہ دوشنبہ  !!! پھر فرمایا کہ نبی کریمﷺ کا وصال کس روز ہوا تھا؟؟؟ عرض کیا گیا دوشنبہ کو!!! "فرمایا تو پھر میری آرزو یہی ہے کہ آج رات تک میں اس عالم فانی سے رحلت کر جاؤں” چناچہ یہ آخری آرزو بھی پوری ہوئی یعنی دوشنبہ کا دن ختم کرکے  منگل کی رات کو 63 برس کی عمر میں اس عالم فانی سے جاوداں ہوئے۔            انا للہ وانا الیہ راجعون۔

Advertisements