حکایت نظم یا نثر میں ایسا مختصر قصہ ہے جس سے کوئی اخلاقی سبق ملتا ہو۔ اکثر حکایت کے کردار چوپائے اور پرندے وغیرہ ہوتے ہیں جن کے قول وعمل میں انسانی قول وعمل سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ یعنی حکایت دراصل تمثیلی کہانی ہے۔ بہت سی حکایات میں انسانی کردار بھی ملتے ہیں۔

ادب کی تاریخ میں حکایت کا سراغ چھٹی صدی قبل مسیح سے ملتا ہے۔ حکایات لقمان اس کی اولین مثال ہے۔ قدیم ہندوستانی عوامی قصے کہانیوں کو بھی حکایت کا نام دے سکتے ہیں۔ مثلاً پیچ تنتر ، جاتیک کہانیاں وغیرہ۔ ادب کے علاوہ بہت سی مذہبی روایات اور کتابوں میں بھی حکایات کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ توریت ، انجیل اور قرآن میں بہت سے اخلاقی قصے شامل ہیں۔ سعدی کی گلستان و بوستان کی حکایتوں کے اردو میں متعدد ترجمے ہو چکے ہیں۔ ملا وجہی کی سب رس اور نشاطی کی طوطی نامہ میں بھی کئی حکایات ملتی ہیں۔