غزل

گدا نواز کوئی شہہ سوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے
عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے
سمندِ عمر کو اﷲ رے،شوق آسائش
عناں گستہ و بے اختیار راہ میں ہے
جنوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریک حال ہمارا غبار راہ میں ہے
سفر ہے شرط ،مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

تشریح

پہلا شعر

گدا نواز کوئی شہہ سوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے

جب کوئی گھوڑا دوڑ ے گا تو غُبار اٹھے گا،یہ فطری ہے۔شاعر اس کا ایک دوسرا شاعرانہ سب بتاتا ہے۔کہتا ہے کہ کوئی چھوٹوں کو سرفراز کرنے والا شہہ سوار اس راستے سے گزرا ہے کہ جو غُبار اس قدر بُلندی پر پہنچ گیا ہے۔

دوسرا شعر

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے

شاعر کہتا ہے کہ زندگی ہی میں عدم یعنی دوسری دنیا کے جہاں مرنے کے بعد جانا ہے،کی فکر ضروری ہے۔اس کو دھیان میں رکھنا اور اعمال دُرست کرنا لازم ہے کہ اس جہان کے بیج کوئی مقام اب نہیں ہے کہ جہاں قیام کر کے عاقبت سنوار سکتے ہیں۔

تیسرا شعر

سمندِ عمر کو اﷲ رے،شوق آسائش
عناں گستہ و بے اختیار راہ میں ہے

شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے گھوڑے کو یا اﷲ یہ کیا آرام و سکون کا شوق ہے کہ زندگی کے جس گھوڑے پر انسان سوار ہے،کہاں رُک جائے، کس طرف کو مُڑجائے معلوم نہیں ہے۔اس کے باوجود انسان بڑے اطمینان اور آرام و سکون کے ساتھ اس پر سوار ہے۔اس کو اس کی بے اختیاری کا بالکل خوف نہیں ہے۔

پانچواں شعر

سفر ہے شرط ،مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

چل نِکلنا کسی کام کے لئے شرط ہوتی ہے۔پھر حالات خود بخود سازگار ہو جاتے ہیں۔شاعر کہتا ہے اس سفر کا آغاز کرنا شرط ہے کہ مسافر نوازوُں کی کچھ کمی نہیں ہے۔راستے میں ہزاروُں سایہ دار درخت اُسے نوازنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔

Advertisements