غزل

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
مثلِ تصویرِ نہالی میں ہوں، ہم پہلوئے دوست
ہجر کی شب ہوچکی روزِ قیامت سے دراز
دوش سے نیچے نہیں اُترے ابھی گیسوئے دوست
فرشِ گُل بستر تھا اپنا، خاک پر سوتے ہیں اب
خشت زیرِ سر نہیں، یا تکیہ تھا زانوئے دوست
یاد کرکے اپنی بربادی کو، رو دیتے ہیں ہم
جب اُڑاتی ہے ہوائے تُند خاکِ کوئے دوست
اس بلائے جاں سے آتشؔ! دیکھیے کیوں کر نبھے
دل سِوا شیشے سے نازُک،دل سے نازُک خوئے دوست

تشریح

پہلا شعر

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
مثلِ تصویرِ نہالی میں ہوں، ہم پہلوئے دوست

شاعر کہتا ہے کہ پیرہن کے تار تار یعنی لباس کے ایک ایک دھاگے میں محبوب کی خوشبو سما گئی۔میں خیرت زدہ تصویر کی مانند یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ میں ہی ہوں یا پھر محبوب کا پہلو ہے،جس میں اتنی خوشبُو ہے۔

دوسرا شعر

ہجر کی شب ہوچکی روزِ قیامت سے دراز
دوش سے نیچے نہیں اُترے ابھی گیسوئے دوست

شاعر کہتا ہے کہ جُدائی کی رات قیامت کے دن سے طویل ہو گئی ہے۔ یعنی بہت طویل ہوگئی ہے۔ شعر کا حُسن،صنعتِ حُسنِ تضاد میں ہے۔جُدائی کی رات اور قیامت کے دن میں جو تضاد ہے وہ شعر کے حُسن کو بڑھا رہا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جُدائی کی رات بہت طویل ہوگئی ہے۔لیکن محبوب ہے کہ اس پر کچھ اثر ہی نہیں ہوتا۔ہماری بے قراری حد سے بڑھ گئی ہے اور اس کی لٹ بھی بے قرار نہیں ہوتی کہ وہیں کی وہیں ہے۔شا نےسے نیچے بھی نہیں اُترتی۔

تیسرا شعر

فرشِ گُل بستر تھا اپنا، خاک پر سوتے ہیں اب
خشت زیرِ سر نہیں، یا تکیہ تھا زانوئے دوست

زمانے کی گردش کسی کو ایک حال میں نہیں رہنے دیتی۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے بِستر بہت نرم و نازُک گویا گُلوں کا فرش ہوا کرتا تھا اور اب خاک پر سوتے ہیں۔ اس زمانے میں محبوب کا زانو ہمارا تکیہ تھا اور اب یہ عالم ہے کہ اینٹ سر کے نیچے رکھنے کو نہیں ہے۔

چوتھا شعر

یاد کرکے اپنی بربادی کو، رو دیتے ہیں ہم
جب اُڑاتی ہے ہوائے تُند خاکِ کوئے دوست

شاعر کہتا ہے کہ جب تیز ہوا محبوب کے کوچے کی گرد،مٹی کو اڑاتی ہے تو ہمیں اپنی بربادی یاد آ جاتی ہے کہ اسی کوچے میں ہم بھی خاک ہوئے تھے اور اپنی تباہی و بربادی یاد آتے ہی ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔گویا ہم رو دیتے ہیں۔

پانچواں شعر

اس بلائے جاں سے آتشؔ! دیکھیے کیوں کر نبھے
دل سِوا شیشے سے نازُک،دل سے نازُک خوئے دوست

غزل کے مقطعے میں شاعر کہتا ہے کہ اے آتش اس بلائیں نازل کرنے والے محبوب سے کس طرح نِبھ سکتی ہے،گُزر ہو سکتی ہے کہ ہمارا یہ دل ہے کہ شیشے سے بھی نازُک گویا بہت نازُک،کمزور اور اس کی ہمارے نازُک دل سے بھی نازُک۔وہ اپنی حرکتوں سے کیوں کر باز آ سکتا ہے اور ہمارا دل کیوں کر سلامت رہ سکتا ہے۔

Advertisements