Advertisement

غزل

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں
ہوش یاں سد راہ علم رہا
عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں
تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم
دل کی امیدواریاں نہ گئیں
مر کے بھی خاک راہ یار ہوئے
اپنی الفت وقت شعاریاں نہ گئیں
طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں

تشریح

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

شاعر کہتا ہے کہ خوب صورت لوگوں یعنی محبوب لوگوں کو دیکھتے ہی ہمارا دل مچل اُٹھتا ہے۔ان سے دوستی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کو دیکھتے ہی اس میں بے قراری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور مزے دار بات یہ ہے کہ اس کا ہمیشہ خمیازہ اسے بُھگتنا پڑتا ہے۔پھر بھی اس دل کی بےقراری ہی جاتی ہے اور نہ ہی محبوب لوگوں سے اس کی دوستی۔

Advertisement
عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں

عقل جو صبر آشنا ہے اس نے طرح طرح کی تدابیر کر کے دیکھ لیا لیکن سب بے سود کہ محبت کی بے قراریاں بڑھتی ہی رہیں۔ ختم نہیں ہوسکیں۔

Advertisement
تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم
دل کی امیدواریاں نہ گئیں

شاعر کہتا ہے کہ محبوب جو مکمل ناز ہے۔اس کے ستم بھی جاری رہے اور دل کی امیدواری، کہ کبھی ہماری آہیں رنگ لائیں گی اور وہ ہم پر کرم کرے گا، بھی برابر قائم رہی۔

Advertisement
مر کے بھی خاک راہ یار ہوئے
اپنی الفت وقت شعاریاں نہ گئیں

شاعر کہتا ہے کہ ہم وفا پرست تھے اور وفا شاعری ہماری شخصیت کا ایسا جز و بن گئی کہ مرنے کے بعد بھی یہ چیز گئی نہیں۔ہم ہر وقت محبوب کے کوچے ہی میں پڑے رہتے تھے اور مرنے کے بعد اسی محبوب کے کوچے کی خاک ہو گئے۔گویا یہ ہماری وفا شاعری کی دلیل ہے۔

طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں

مومنؔ اردو کے ایک بڑے غزل گو شاعر کا تخلص ہے۔اس کے کلام میں نازک خیالی کے ساتھ ساتھ رنگینی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔اب حسرتؔ کہتے ہیں کہ اے حسرتؔ طرز مومن میں تمہارا کلام مرحبا ہے۔اس کی رنگینی دیکھتے ہی بنتی ہے اور تمہارے کلام کی رنگین نگاری قائم ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement