آپ بیتی ایک صنف ہے جس میں لکھنے والا اپنی زندگی کے بعض اہم اور قابل ذکر واقعات و تجربات کو دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے۔ آپ بیتی دراصل اپنے بارے میں لکھتا ہے۔ اس میں لکھنے والے کا ایماندار ہونا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ آپ بیتی لکھتے ہوئے بہت سی چیزیں اسے سچ بولنے سے روکتی ہیں۔

چوں کہ ہر شخص اپنے سماج ، اپنے طبقے اور اپنے فرقے کے سامنے جواب دہ ہے اس لیے بعض عقائد و نظریات، اقدار اور قوانین اسے سچ لکھنے اور کہنے سے باز رکھتے ہیں۔ بعض حضرات کو ایسی بہت کی باتوں کا اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا جسے عرف عام میں جرم یا گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ادیوں کی لکھی ہوئی آپ بیتیاں اپنے اسلوب اور تکنیک کے باعث گلشن کا تاثر پیدا کرتی ہیں۔

بعض حضرات کی آپ بیتی میں خود ستائی اور احساس تفاخر پایا جا تا ہے۔ اس قسم کی آپ بیتیاں بہت جلد اپنی وقعت کھو دیتی ہیں۔آپ بیتی کے عناصر بہت سے ادبیوں کے یہاں ان کی کتابوں کے مقدمات ، دیباچوں یا ان کے مکاتیب میں مل جاتے ہیں مثلا باقر آ گاہ کے نثری دیباچوں میں ان کے ذاتی احوال ملتے ہیں۔ اسی طرح غالب کے ایک خط میں ان کی زندگی کے سلسلے وار واقعات کا مختصر بیان ملتا ہے۔

حالی نے بھی مختصرا اپنی آپ بیتی لکھی ہے جسے مولوی عبدالحق نے مقالات حالی میں شامل کر دیا ہے۔ پہلی معروف آپ بیتی سر رضا علی کی اعمال نامہ ہے۔ اس کے بعد اردو میں کثرت سے آپ بیتیاں لکھی گئی ہیں۔ چند اہم خودنوشت سوانح عمریوں میں آپ بیتی (خواجہ حسن نظامی )، کالا پانی ( جعفر تھانیسری )، آپ بیتی (عبدالماجد دریا آبادی ) ، گرد راہ ( ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری ) ، جو رہی سو بے خبری رہی’ ( بیگم ادا جعفری)، ڈگر سے ہٹ کر ( بیگم سعیدہ بانو احمد )، یادوں کی برات ( جوش ملیح آبادی)، اپنی تلاش میں (کلیم الدین احمد )، آٹھ جلدوں پر مشتمل ‘ کاروان زندگی (سید ابوالحسن علی ندوی )، شہاب نامہ (قدرت اللہ شہاب ) ، اس آباد خرابے میں (اختر الایمان ) اور شام کی منڈیر سے (وزیر آغا ) وغیرہ شامل ہیں۔