غزل

خوشبو دل کہ رہے جس میں آرزُو تیری
خوشا دماغ، جسے تازہ رکھے بُو تیری
پڑھا ہے ہم نے بھی قرآن قسم ہے قرآں کی
جواب ہی نہیں رکھتی ہے گُفتگُو تیری
شبِ فراق میں اے روزِ وصل تا دم صُبح
چراغ ہاتھ میں ہے اور جُستجُو تیری

تشریح

خوشبو دل کہ رہے جس میں آرزُو تیری
خوشا دماغ، جسے تازہ رکھے بُو تیری

شاعر کہتا ہے کہ وہ دل جس میں تیری آرزو و سمائی ہو، کا کوئی جواب نہیں ہے۔وہ کیوں خوش نہیں ہوگا اور وہ دماغ خوش نصیب ہے جس کو تیری خوشبو معطر رکھتی ہو۔گویا جو دماغ تیری خوشبو سے تازہ رہتا ہے وہ بہت خوش ہے۔

پڑھا ہے ہم نے بھی قرآن قسم ہے قرآں کی
جواب ہی نہیں رکھتی ہے گُفتگُو تیری

شاعر محبوب کی طرزِ تکلّم کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میرے محبوب کا طرزِ تکلّم ایسا ہے کہ جس کا کوئی جواب نہیں ہے۔بات صرف اتنی سی ہے مگر جو نادر تشبیہہ شاعر اس کے لئے لایا ہے وہ بے مثال ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہم نے بھی قرآنِ پاک پڑھا ہے۔اس کے انداز بیان کا مذکور نہیں ہے کہ وہ بہت بڑھیا ہے۔لیکن ہمیں اسی کی قسم ہے کہ تمہارے طرزِ تکلّم کا انداز سب سے نرالا ہے۔

شبِ فراق میں اے روزِ وصل تا دم صُبح
چراغ ہاتھ میں ہے اور جُستجُو تیری

شاعر روز وصل سے مُخاطب ہے۔کہتا ہے کہ اے روز وصل یعنی مُلاقات کی گھڑی ہم نے تجھ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بہت تکالیف اٹھائی ہیں کہ جُدائی کی رات سے دن کے اُجالے تک ہاتھ میں چراغ اٹھائے تیری تلاش کی ہے۔تب کہیں جا کر تجھے پایا ہے۔

Advertisements