Advertisement
خوشی سے رنج کا بدلہ یہاں نہیں ملتا
وہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتا

ہزار ڈھونڈیے اس کا نشان نہیں ملتا
جب بھی ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا

مجاز اور حقیقت کچھ اور ہے یعنی
تری نگاہ سے تیرا بیاں نہیں ملتا

بھڑک کے شعلۂ گل تو ہی اب لگا دے آگ
کہ بجلیوں کو مرا آشیاں نہیں ملتا

وہ بدگماں کہ مجھے تاب رنج زیست نہیں
مجھے یہ غم کہ غم جاوداں نہیں ملتا

تری تلاش کافی الجملہ ماحصل یہ ہے
کہ تو یہاں نہیں ملتا وہاں نہیں ملتا

بتا اب اے جرس دور میں کدھر جاؤں
نشان گرد رہ کارواں نہیں ملتا

مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی
وہ مہماں ہوں جسے میزبان نہیں ملتا

تجھے خبر ہے ترے تیر بے پناہ کی خیز
بہت دنوں سے دل ناتواں نہیں ملتا

کسی نے تجھ کو نہ جانا مگر یہ کم جانا
یہ راز ہے کہ کوئی رازداں نہیں ملتا

مجھے عزیز سہی قدر دل تمہیں کیوں ہو
کمی تو دل کی نہیں دل کہاں نہیں ملتا

دیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانیؔ
کوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement