Advertisement

داخلیت ’داخل‘ کا اسم صفت ہے جس کے معنی اندر، باطن اور اندر پہنچا ہوا کے ہیں۔ اصطلاح کے طور پر داخلیت کا مفہوم یہ ہے کہ کلام میں ذاتی واردات و کیفیات، نازک احساسات اور لطیف جذبات کو پیش کیا جائے۔ جس کلام میں کوئی ذاتی تجربہ ذاتی کتھا اور اپنے دل کی کہانی پیش کی گئی ہو اسے داخلیت قرار دیا جاتا ہے۔ گویا داخلیت کا تعلق گردوپیش کی نظر آنے والی خارجی دنیا سے ہے۔ داخلیت کی اصطلاح عام طور پر شاعری کے ساتھ مخصوص سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا لکھتے ہیں:
” داخلیت سے مراد یہ ہے کہ شاعر باہر کی دنیا سے گذر نہیں رکھتا بلکہ اپنے دل کی دنیا میں جانک کر اس کی واردات کا اظہار کرتا ہے۔ اگر باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اُسے بھی شدید داخلیت میں ڈبو کر پیش کرتا ہے۔“ داخلیت کی ایک مثال اس شعر میں دیکھے؀

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

ادب میں داخلیت سے مراد یہ ہے کہ شاعر اپنے قلبی واردات اپنے ذاتی جذبات و احساسات میں ہی اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اگر وہ بیرونی طور پر نظر ڈالتا بھی ہے تو ذات کی ہی عینک سے دیکھتا ہے۔ یہ رویہ کافی حد تک وراثتی ہے تاہم ماحول کی بہتری اور حالات کی درگونی وغیرہ بھی انسان کو داخلیت کا شکار کر دیتے ہیں۔ جیسے میر کی شاعری اور دبستان دہلی کی شاعری داخلیت کی حامل ہے اور لکھنؤ سکول کی شاعری میں خارجیت کا عنصر موجود ہے۔جس مجوزہ فن میں خون جگر کی روداد موجود ہو وہ داخلیت کی شاعری ہوتی ہے۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement