Advertisement
درد گر بیکراں نہیں ہوتا
کوئی گریہ کناں نہیں ہوتا

درد ہو تو جبھی کراہتا ہوں
روز آہ و فغاں نہیں ہوتا

آئینہ دیکھا تو مِرے جیسا
کوئی تھا پر عیاں نہیں ہوتا

مے کدہ وہ قیام ہے کہ جہاں
کوئی پیر و جواں نہیں ہوتا

جواں بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن
بوڑھا کوئی جواں نہیں ہوتا

راز داں ہوتے ہیں وہ گھر اکثر
جن گھروں میں دھواں نہیں ہوتا

کچھ ہماری طرح بھی ہوتے ہیں
ہر کسی کا مکاں نہیں ہوتا

درد تو آج بھی بہت ہے مگر
لفظوں میں اب بیاں نہیں ہوتا

لوگ اکثر یہی بتاتے ہیں
میں جہاں ہوں وہاں نہیں ہوتا
شاعر: اِندر سرازی
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement