حسرت موہانی کی غزل گوئی پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام حسرت موہانی ہے۔ یہ غزل کلیاتِ حسرت سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر

حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی موسی کاظم سے ملتا ہے۔ آپ حق گو ، بے باک اور درویش مزاج انسان تھے۔ آپ جدید اندازِ غزل کے شاعر تھے۔ آپ کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ایک رسالہ اردو معلی کے نام سے جاری کیا تھا۔ آپ کا کلام کلیاتِ حسرت کے نام سے موجود ہے۔ نکاتِ سخن آپ کی مشہور کتاب ہے۔

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
کہ یہ شیوہ نہیں اہلِ رِضا کا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ہماری اس دعا میں کوئی خواہش کوئی فرمائش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا ہے ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ساری چیزیں طلب کریں بلکہ اہلِ رضا تو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہتے ہیں اور اس کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔

طلب میری بہت کچھ ہے مگر کیا
کرم تیرا ہےاک دریا عطا کا

اس شعر میں کہتے ہیں کہ ہم تو انسان ہیں ہم بہت کچھ طلب کرتے ہیں لیکن ہماری وہ بہت ساری طلب ہمارے رب کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ اس رب کے عطا کا دریا اتنا وسیع ہے کہ ہماری تمام خواہشات پوری کرنے سے بھی اس دریا میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ شاعر یہاں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تجھ سے اپنی اوقات کے مطابق فریاد کرتے ہیں لیکن تو ہمیں اپنی رحمت کے مطابق عطا کر۔

نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم
تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اپنے محبوب پر نثار ہوگئے۔ ہمیں ہمارے محبوب کی اداؤں نے گھائل کردیا اور یہ اچھا ہی ہوا کیونکہ وفا نبھانے والوں کی خاصیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب پر نثار ہوجائیں اور ان کی ہر بات کو آنکھیں بند کرکے مان لیں۔

گنہ گارو ! چلو، عفوِ الہی
بہت مشتاق ہے عرضِ خطا کا

اس شعر میں شاعر گنہ گاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ لوگوں چلو ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ بیشک اس رب کی رحمت بہت وسیع ہے اور وہ عطا کرنے والا اور خطا معاف کرنے والا ہے، تو ہم سب اس کے پاس چل کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔

جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرت
تمھیں حق ان سے کیا چُون و چِرا کا

اس شعر میں شاعر انسانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تمھیں جتنا ملے تمھیں اس میں خوش رہنا چاہیے اور اگر تمھیں جفا بھی ملے تو تمھیں اسے وفا سمجھنا چاہیے۔ تمھیں کوئی حق نہیں کہ تم رب کی بارگاہ میں چوں و چرا کرو۔ اس شعر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تمھارا محبوب تمھارے ساتھ جفا بھی کرے تو تم اسے وفا سمجھو۔ وہ تمھارا محبوب ہے اور تمھیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ان کے عمل کے متعلق کسی قسم کا اعتراض کرو۔

سوال: درج ذیل اشعار کی تشریح کیجیے :
”دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا“

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ہماری اس دعا میں کوئی خواہش کوئی فرمائش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو عطا کیا ہے ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ساری چیزیں طلب کریں بلکہ اہلِ رضا تو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہتے ہیں اور اس کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔

گنہ گارو ! چلو ، عفو الٰہی
بہت مشتاق ہے عرض خطا کا

اس شعر میں شاعر گنہ گاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ لوگوں چلو ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ بیشک اس رب کی رحمت بہت وسیع ہے اور وہ عطا کرنے والا اور خطا معاف کرنے والا ہے، تو ہم سب اس کے پاس چل کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔

سوال: قافیہ کی تعریف کیجیے اور ذیل کے اشعار میں قوافی کی نشان دہی کیجیے :

نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم
تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا

جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ
تمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا

جواب : وہ حروف و حرکات جو اشعار کے آخر میں آئیں، قافیہ کہلاتے ہیں۔ قافیے کے حروف تبدیل ہوتے ہیں۔

قوافی : ان اشعار میں خوئے وفا اور چون و چرا قافیے ہیں۔

سوال: اس غزل کی ردیف لکھیے۔

جواب : اس غزل کی ردیف ” کا “ ہے۔

سوال نمبر 2: درج ذیل الفاظ و مرکبات کے معنی لکھیے :

الفاظمعنی
خوئے وفاوفا کی خوبی
جفاسزا
عفوالہیٰاللہ تعالیٰ کا عفو درگزر
چون و چراسوال و جواب
تقاضامانگنا

سوال نمبر 3: درج ذیل الفاظ کی جمع لکھیے :

الفاظجمع
دعادعاؤں
شیوہشیواؤں
مشتاقمتشاقوں
عطاعطاؤں
خطاخطائیں

سوال نمبر 4: درج جوابات میں سے درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے :

(الف) اس غزل کے شاعر کا نام ہے :

  • (۱) حسرت
  • (۲) چراغ الحسن
  • (۳) تفضل الحسن
  • (۴) سید فضل الحسن ✔

(ب)غزل میں قافیہ ہمیشہ آتا ہے :

  • (۱) ردیف کے بعد
  • (۲) ردیف سے پہلے ✔
  • (۳) آخری شعر میں
  • (۴) مقطعے میں

(ج) مطلع کہتے ہیں غزل کے :

  • (۱) آخری شعر کو
  • (۲) ہر شعر کو
  • (۳) درمیانی شعر کو
  • (۴) پہلے شعر کو ✔

(د) "اہل رضا” کا مطلب ہے :

  • (۱) اللہ جن سے راضی ہوگیا
  • (۲) جو اللہ سے راضی ہوگئے ✔
  • (۳) رضا کار لوگ
  • (۴) جو لوگوں کو راضی کرتے ہیں

(ہ) تیرا کرم عطا کا ہے :

  • (۱) چمن
  • (۲) دریا ✔
  • (۳) موسم
  • (۴) پھول

سوال نمبر 5: کالم (الف) کے الفاظ کو کالم (ب) کے لفظوں سے ملائیے :

کالم (الف)کالم (ب)
مدعامقصد
طلبخواہش مند
عطاخواہش
نثارقربان
مشتاقبخشش

سوال نمبر 6: اس غزل کے قافیے کے ہم آواز دس الفاظ لکھیے۔

  • ۱) مدعا
  • ۲) رضا
  • ۳) عطا
  • ۴) خطا
  • ۵) وفا
  • ۶) خفا
  • ۷) پتا
  • ۸) چرا
  • ۹) چبا
  • ۱۰) قضا