Advertisement

شاعر : ناصر کاظمی۔

Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام ناصر کاظمی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

اک ایسے دور میں جب غزل معتوب تھی، ناصر کاظمی ایسے منفرد غزل گو کے طور پر ابھرے، جنھوں نے نہ صرف اجڑی ہوئی غزل کو نئی زندگی دی، بلکہ فطرت اور کائنات کے حسن سے خود بھی حیران ہوے، اور اپنے تخلیقی جوہر سے دوسروں کو بھی حیران کیا۔ احساس تحّیر ہی ناصر کی شاعری کی وہ خوشبو تھی، جو فضاؤں میں پھیل کر اس میں سانس لینے والوں کے دلوں میں گھر کر لیتی ہے۔

(غزل نمبر ۱)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے دلِ غمزدہ میں کچھ تبدیلی سی آئی ہے کئیں وقتوں سے جو یہ افسردگی چھائی ہے وہ چھٹ رہی ہے۔ دل کی کثافت کچھ کم ہوگئی ہے اور ماحول بہتر ہورہا ہے۔ اس میں مثبت تبدیلی ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے اردگرد تازہ ہوا کے جھونکے چل رہے ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Advertisement
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرا دل بھی ایک گھر جیسا ہی ہے جس کے مکین سے خالی درودیواروں سناٹے ہی سناٹے ہیں۔ مگر اب یہ تاریکی ختم ہوچلی ہے دل میں بنی عداوت کی دیوار اب ختم ہوچکی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا بہت رنگیں ہے ہر طرف بہاریں ہیں مگر میرا بے چیں دل اس دنیا میں اب نہیں لگتا میں بیزار ہوچکا ہوں اور مجھے نہیں پتا کے کس چیز کی کمی ہے جس نے مجھے بے چین کردیا ہے۔
ـــــــــــــــــــ

Advertisement
تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کہ میرا محبوب اگر محفل میں شامل نہیں تو کیا اس کا تصور میرے ساتھ ہمہ وقت رہتا ہے وہ مجھے پکارتا نہیں ہے مگر اس کی خاموشی کی صدائیں بھی میں دل کے کانوں سے سن سکتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ تم سے بچھڑے کئیں برس گزر گئے تمہارے یادیں اور تمہارا عکس میرے سوچ کے دریچوں میں دھندلا سا گیا ہے میری یاد کا جزیرہ تیری یادوں سے خالی ہورہا ہے مگر اب بھی کچھ باقی ہے تو وہ تیری آواز ہے تیری آواز میری سماعتوں میں اب بھی باقی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Advertisement
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ میری زندگی کی ساری رونقیں اور روشنیاں تیرے ہونے سے تھیں جب سے تو مجھ سے بچھڑا ہے میری زندگی تاریک ہوگئی ہے سب رونقیں ختم ہوگئی ہیں اب تو اپنی زندگی کی اس تارکی میں تیرے وجود سے روشنی کی ہر پل تجھ کو ہی ڈھونڈتا رہتا ہوں۔

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

تشریح :اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ نے خود اپنی ذات کو مایوسی اور ناامیدی سے نکالنے کے لیے حوصلہ دیا ہے کہ بھلا شبہ بہت غم دیکھے ہیں مگر پریشان نہیں ہونا کہ اچھا وقت بھی آۓ گا کیونکہ وقت کتنا بھی برا کیوں نہ ہو گزر ہی جاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Advertisement