Advertisement

شاعر : حسرت موہانی

Advertisement

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام حسرت موہانی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر 

حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی موسی کاظم سے ملتا ہے۔ آپ حق گو ، بے باک اور درویش مزاج انسان تھے۔ آپ جدید اندازِ غزل کے شاعر تھے۔ آپ کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ایک رسالہ اردو معلی کے نام سے جاری کیا تھا۔ آپ کا کلام کلیاتِ حسرت کے نام سے موجود ہے۔ نکاتِ سخن آپ کی مشہور کتاب ہے۔

Advertisement

(غزل نمبر ۱)

دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی
روبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر محبت کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاشق کو اپنے محبوب کے دیدار کی بہت چاہ ہوتی ہے لیکن محبوب کا دیدار بہت کم نصیب ہوا کرتا ہے۔ لیکن جب محبوب کا دیدار میسر آجاۓ تو محبت کے آداب محبوب کو دیکھنے کی خوائش پر حاوی ہو جاتے ہیں اور نظریں محبوب کے سامنے اٹھنے سے انکاری ہو جاتی ہیں۔

ہم رضا شیوہ ہیں تاویل ستم خود کر لیں
کیا ہوا ان سے اگر بات بنائی نہ گئی 

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنے محبوب کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا محبوب مجھ پر بے توجہی کے ظلم و ستم کرتا ہے اور جب اس سے پوچھا جاۓ کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو میرا محبوب اتنا سادہ ہے کہ اس کے پاس خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہوتا ۔اس لئے ہم اپنے دل کو سمجھا کر خود سے ہی یہ اظہار کر لیا کرتے ہیں کہ ہماری ہی کوئی غلطی ہوگی۔ ہمارا محبوب تو بے قصور ہے۔

Advertisement
یہ بھی آداب محبت نے گوارا نہ کیا
ان کی تصویر بھی آنکھوں سے لگائی نہ گئی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں ہم پر ہمیشہ آداب محبت حاوی رہے کہ محبوب کے سامنے بولنا تو دورکنار، ہم سے تو محبوب کے سامنے نظریں تک نہ اٹھیں۔ لوگ تو ہجر کی صورت میں عاشقی کی ہر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اور اپنے محبوب کی تصویر سینے سے لگا لیتے ہیں لیکن ہم سے تو یہ بھی نہ ہو سکا ۔ہم سے تو اپنے محبوب کی تصویر آنکھوں تک سے نہ لگائی گئی۔

ہم سے پوچھا نہ گیا نام و نشاں بھی ان کا
جستجو کی کوئی تمہید اٹھائی نہ گئی 

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ جب ہمارا محبوب ہمارے قریب نہیں ہوتا تو ہم سوچتے رہتے ہیں کہ اس سے یہ یہ بات کریں گے لیکن جب ہمارا سامنا ہمارے محبوب سے ہوتا ہے تو باتیں تو دور کی بات ہم سے ہمارے محبوب کا نام خاندان تک نہیں پوچھا جاتا کیوں کہ ہمارے دل میں محبوب کی بہت عزت ہے۔

Advertisement
دل کو تھا حوصلۂ عرض تمنا سو انہیں
سرگزشت شب ہجراں بھی سنائی نہ گئی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنی حالت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنے محبوب کے سامنے گۓ تو ہم میں محبوب سے بات کرنے کی جستجو بھی تھی اور حوصلہ بھی لیکن محبوب کے حسن نے ہم پر ایسا سحر طاری کیا کہ ہم سے کوئی بات نہ بنائی گئی اور نہ ہی جدائی کی راتوں کے حال احوال بتائے گئے۔

غم دوری نے کشاکش تو بہت کی لیکن
یاد ان کی دل حسرتؔ سے بھلائی نہ گئی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں ہم اپنے محبوب کے ظلم و ستم ، بے توجہی اور برے رویہ سے محبوب سے متنفر ہو کر اس سے دور ہو گئے۔ اور اس دوری نے ہمیں بہت بے چین کیا۔ دماغ نے مشورے دیے کہ اسے بھول جاؤ لیکن اپنے دل کی آواز پر لبیک کہہ کر ہم سے محبوب کی یاد بھلائی نہ گئی۔

Advertisement

(غزل نمبر ۲)

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنی طبیعت پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک طرف تو میں قید و بند میں چکی پیس رہا ہوں اور دوسری طرف میں اپنے مزاج کے مطابق شاعری لکھ رہا ہوں۔ اور اے لوگوں سنو یہ قید مجھے ظالموں کے خلاف آواز اٹھانے پر ملی ہے اور یہ سزا مجھے لوگوں کو حق کی طرف لانے پر مل رہی ہے۔

جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر محبوب کے ظلم و ستم کو موضوع بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم اپنے محبوب کے ہر رویہ پر راضی ہیں۔ محبوب چاہے تو ہماری طرف نظر کرم کی بھیک دے دے یا بھلے ہی بے توجہی کی مار مارے۔ ہم نے کبھی شکایت نہیں کی ۔ہم سے اس بات پر بھلے قسم لے لی جاۓ کہ ہم اپنے محبوب کے ہر طرح کے رویہ میں راضی ہیں۔

Advertisement
دشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسر
اے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر ساقی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ درد کی شدت کو کم کرنے کے لئے ایک ہی طریقہ زیادہ مؤثر ہے انسان خود کو مدہوش رکھے۔ ہم بھی اپنے محبوب کے رویہ سے بہت پریشان ہیں۔ محبوب ہم پر لطف و کرم کی بارش نہیں کرتا۔ اس بیچینی سے بچنے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم ہوش میں نہ رہیں۔ اے ساقی ہمیں پلائے جا تاکہ ہم ہوش میں نہ آئیں اور درد کی شدت کم رہے۔

عشاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک
نازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر محبت کے بندهن کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں عاشق کا دل بہت نازک ہوتا۔ اس سے چاہے سارا زمانہ منہ پھیرے اسے فرق نہیں پڑتا مگر محبوب کی تھوڑی سے بے توجہی عاشق کے دل کے لئے بے قراری کا سبب بن جاتی ہے اور محبوب کے انداز کی نازکی تو سب جانتے ہیں کہ محبوب کو کب کونسی بات بری لگ جاۓ معلوم نہیں پڑتا۔ اس لئے محبت کا رشتہ جو ان دو نازک چیزوں سے مل کر بنتا ہے وہ بھی اسی اعتبار سے بہت نازک ہوتا ہے۔

Advertisement
ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا
منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی

تشریح :
مندرجہ بالا شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ انسان کو اجتماعی آزادی تو ضرور میسر ہونی چاہیے لیکن انفرادی آزادی کا میں قائل نہیں ہوں۔ انسان کو کسی نا کسی کی قید میں ضرور ہونا چاہیے اب چاہے وہ مذہب ہی قید ہو یا محبت کی قید۔ عشق حقیقی کی قید ہو یا عشق مجازی کی۔ اس سے انسان اپنے دائرے میں رہتا ہے، حدود پار نہیں کرتا۔ انسان کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ کسی کا بن جاۓ یا کسی کو اپنا بنا لے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement