دل ناداں! تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر سادہ عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر معنویت لئے ہوئے ہے۔ اس شعر میں انہوں نے استفہامیہ انداز بیان اپنایا ہے۔شاعر پہلے مصرعے میں اپنے دل کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے ناسمجھ دل تجھے کیا ہو گیا ہے، تو محبوب کے سب ظلم و ستم سہنے کے بعد بھی اس سے بیزاری کا اظہار نہیں کر رہا ہے۔ اگر اے دل تیرا یہی حال رہا تو پھر اس کا کیا علاج ہوگا۔ اب تو عشق کرنے سے باز آ جا اور محبوب کی طرف سے منھ موڑ لے ورنہ تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

یہ شعر بھی مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ہے۔ وہ اس شعر میں کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے محبوب سے ملنے کے لئے بےچین رہتے ہیں اور ہم اسے دل کی گہرائیوں سے پسند کرتے ہیں لیکن وہ ہے کہ ہم سے بے زار رہتا ہے۔ہماری طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔ آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ وہ ہماری طرف نگاہ ہی نہیں ڈالتا۔ اس شعر میں صنعت تضاد ہے اور استفہامیہ انداز بیان اپنایا گیا ہے۔

میں بھی منھ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ تم ہمارے احوال دوسروں سے پوچھتے پھرتے ہو۔ ہمارے منھ میں بھی زبان ہے، ہمارے پاس بھی تم سے کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔شاعر دوسرے مصرعے میں خواہش کرتا ہے کہ اے میرے محبوب کاش تم ہم سے پوچھو کہ ہماری خواہش ہمارا مقصد کیا ہے۔ ہمارے پاس بھی بہت غم اور شکایتوں کا انبار لگا ہوا ہے۔

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

شاعر کہتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے وفا کی امید ہے۔ جن کو یہ ہی نہیں معلوم کہ وفا ہوتی کیا ہے۔ وفا کہتے کسے ہیں؟وہ تو صرف ظلم و ستم کرنا جانتے ہیں جبکہ ہم اپنے محبوب کی بے وفائی کے باوجود اسے چاہتے ہیں اور اس کے بے وفا ہونے پر بھی ہمیں ایک امید لگی رہتی ہے کہ شاید اسے ہم پر ترس آجائے۔

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے

غالب اس شعر میں اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تو میرا بھلا کریگا تو خدا بھی تجھے اس کا اجر عظیم دیگا اور دوسرے مصرعے میں غالب خود کو فقیر بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس ایک درویش کا تجھ سے یہی سوال ہے، تو میری جھولی عشق سے بھر دے اور مجھ پر رحم فرما ، تو خدا بھی تجھے اس کا بہترین صلہ دیگا۔

ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

یہ شعر غزل کا مقطع ہے۔اس میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جو کوئی بھی چیز تمہیں مفت ملے اسے لے لو اور وہ محبوب سے بھی یہی کہنا چاہتا ہے کہ ویسے تو میں کچھ بھی نہیں ہوں، میری کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن جب تمہیں مفت میں مل رہا ہوں تو کیا برائی ہے اور ٹھکرانے سے کیا فائدہ ہے۔

سوچیے اور بتائیے

سوال: ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا۔ اس مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے ؟

جواب: مرزا اسد اللہ خاں غالب اس مصرعے میں اپنے محبوب سے مخاطب ہیں کہ اگر تو میرا بھلا کریگا تو خدا تجھے اس کا اجر دیگا۔

سوال: شاعر کو وفا کی امید کس سے ہے ؟

جواب: شاعر کو وفا کی امید ان سے ہے جو وفا کرنا ہی نہیں جانتے۔

سوال: مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ اس مصرعے میں شاعر کی کیا مراد ہے ؟

جواب: شاعر کہتا ہے کہ اگر دنیا والے تمہیں کوئی چیز مفت دے رہے ہیں تو تم اسے لے لو۔ اس میں برائی کیا ہے اور ساتھ ہی وہ اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ مجھے حاصل کرنے میں تو تمہیں کوئی تکلیف اٹھانی نہیں پڑ رہی ہے تو پھر تم ہماری طرف بھی متوجہ ہو جاؤ۔

نیچے دے ہوئے لفظوں سے مصرعے مکمل کیجیے۔
﴿وفا۔ زبان۔ مدعا۔ مشتاق۔ ماجرا ﴾

  • میں بھی منھ میں زبان رکھتا ہوں۔
  • یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔
  • ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار۔
  • کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے۔
  • جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔