دل چرا کر نگاہ ہے خاموش
ہوش اور مست ہو کے اتنا ہوش

مست کو چاہیے بلا کا ہوش
خم دیے اور دیا نہ اذن خروش

ہر مسافر سے پوچھ لیتا ہوں
خانہ برباد ہوں کہ خانہ بدوش

ہوس جلوہ اور نظر غافل
کہ نظر ہے صلاۓ جلوہ فروش

شاید اب منزل عدم ہے قریب
یاد خاک وطن ہے طوفان جوش


فضل تیرا شفیع طاقت و زہد
عدل عاصی نواز عصیاں پوش

حجر نے کی مفارقت فانیؔ
لے مبارک ہو موت کا آغوش