Advertisement

مثنوی زہرِ عشق کا تنقیدی جائزہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نواب مرزا شوق اور مثنوی زہرِ عشق۔

نواب مرزا کا اصل نام تصدق حسین خاں تھا۔ لکھنؤ کے ایک معزز گھرانے کے فرد تھے۔ ان کا خاندانی پیشہ طبابت تھا۔ شاعری میں وہ آتش کے شاگرد تھے۔ وہ اپنے وقت کے مشہور حکیم بھی تھے لیکن اردو ادب کی تاریخ میں ان کی شہرت تین مثنویوں بنا پر ہوئی ہے۔ ان میں دو مثنویاں ”فریب عشق“ اور ”بہار عشق“ 1864اور 1860 کی تصنیف ہیں۔ تیسری مثنوی ”زہر عشق“ جو سب سے زیادہ مشہور ہے 1864اور 1860کےدرمیان لکھی گئی۔

Advertisement

”زہر عشق“ ایک بے نام نوجوان لڑکے اور لڑکی کی محبت کی چھوٹی سی کہانی ہے۔ اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن نظم میں اثر و کیفیت اس قدر ہے کہ عشق و محبت کی ذرا سی بات سچی معلوم ہوتی ہے۔ شاید اسی بنا پر اس مثنوی کو پڑھنا عیب سمجھا جاتا تھا اور اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

Advertisement

اردو میں ہزاروں کتابیں ایسی ہیں جن میں ان معاملات کو بہت کھل کر بیان کیا گیا ہے اور ان کے سامنے زہر عشق بالکل سادہ اور معصوم معلوم ہوتی ہے۔ یہ شاعر کا کمال ہے کہ سچائی کے ساتھ ان واقعات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یہ مثنوی نہایت پر اثر بن گئی ہے۔ جو اشعاراس وقت ہمارے سامنے ہیں وہ مثنوی سے لیے گئے ہیں جب ہیروئن خودکشی کرنے سے پہلے ہیرو سے ملاقات کرتی ہے اور وہ اسے نصیحت کرتی ہے۔ دنیا کو اتنی سمجھ آتی اور زندگی کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 1: سرائے فانی سے کیا مراد ہے؟

جواب: سرائے فانی سے مراد دنیا ہے۔ جو بھی چیز یہاں کی ہے وہ عارضی ہے اور فنا ہونے والی ہے۔ اور جو بھی بادشاہ یہاں پر اپنے محلوں میں رہتے تھے وہ آج قبر کی تنگ کوٹھری میں پڑے ہوئے ہیں۔

سوال نمبر 2: رشک یوسف سے کیا مراد ہے؟

جواب: رشک یوسف سے مراد وہ حسین و جمیل صورت والے ہیں جن کو اپنی صورت پر ناز تھا اور آج وہ کہاں ہیں انہیں زمین نگل رہی ہے اور وہ قبر میں پڑے ہوئے ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر 3: دنیا کی ناپائیداری پر پانچ جملے لکھیے۔

  • 1- دنیا ایک ایسی سرائے فانی ہے جہاں ہر کوئی چیز فنا ہونے والی ہے۔
  • 2- دنیا سے وہ لوگ بھی چل بسے ہیں جو کبھی زمین کا عطر اپنے جسم میں نہیں ملتے تھے اور نہ دھوپ میں کبھی باہر نکلتے تھے۔
  • 3- دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ بھی اس زمین نے نگل لیے اور آج ان کی قبروں کے نشان تک باقی نہیں ہیں۔
  • 4- تکبر کرنے والے، گھمنڈ میں چور رہنے والے انسان بھی اس زمین نے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور ان کا نام لیوا آج بھی دنیا میں کوئی نہیں ہے۔
  • 5- اپنی صورت پر ناز کرنے والے بھی اس دنیا سے چل بسے ہیں۔ لہذا یہ دنیا فانی ہے یہاں ہر چیز کو زوال ہے۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement