Advertisement
اکرم علی مورخہ ۲۳/مارچ/۲۰۲۱
رونکتا،سکندرہ چوک، آگرہ
میرے عزیز دوست عشران میاں
السلام علیکم
مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ تمہاری والدہ صاحبہ اس دنیاۓ فانی سے انتقال کر گئیں۔ اِنَالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
یہ قدرت کا بنایا ہوا نظام ہے، جو پیدا ہوتا ہے اسے کسی دن مرنا بھی پڑتا ہے۔ کوئی انسان اس نظام میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ مرنے والے کی موت پر شدید رنج و غم کا احساس ہوتا ہے۔ آنسو بہاۓ جاتے ہیں۔ ماتم کیا جاتا ہے مگر آخر کار اللہ کی مرضی کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے۔ اور صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔
تمہاری والدہ بہت نیک خاتون تھی۔ ان کی جدائی صرف تمہیں کو نہیں بلکہ سبھی کو غمزدہ کر گئی۔ اللہ ان کو اپنی رحمت سے جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور سبھی کو صبر کی طاقت عطا فرمائے (آمین)
میں تمہارے غم میں دل سے شریک ہوں۔ میرے لائق کوئی کام ہو تو تحریر کرنا۔
فقط
محمدعشران تمہارا شریک
Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement