ایک ماں جب اپنے بچوں کو جنم دیتی ہے تو اس سے زیادہ اور اس خوشی سے زیادہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی ماں کو کوئی اور خوشی عزیز ہوگی۔ بچے جنہیں پھول، فرشتہ ،اللہ کی رحمت اور نہ جانے کے کن کن چیزوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور دی بھی کیوں نہ جائے، وہ ہوتے ہی اتنے معصوم اور پیارے ہیں۔ جب وہ کم عمری میں اپنی ماں کو بھلا برا کہتے ہیں تو اسے کچھ سمجھ نہیں ہوتی اور اس بات سے ماں کو بھی خاصہ کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور کبھی کبھار تو وہ اس بات کو اس طرح سے نظر انداز کرتی ہے جیسے اس بچے نے اس ماں کے پیار میں پیارے بول بول دیے ہوں۔

جب وہ بچے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنی ماں کا بٹوارہ تک کر دیتے ہیں اور اپنے تلخ جملوں سے اسے اذیت دیتے ہیں اور اس کے سارے احسانوں کو اپنے قدموں تلے روندتے چلے جاتے ہیں اور وہ بیچاری ماں چپ چاپ ان کی اذیت ناک حرکات کو تکتی رہتی ہے اور اس تلخی کو برداشت کرتی رہتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہماری ایک ماں دھرتی ماں بھی ہے جسے سیاستدان مذہب کے ٹھیکیدار ، عام و خواص اور نہ جانے ایسے کتنے افراد ہیں جنہوں نے اپنی اس ماں کا بٹوارہ کردیا اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ جس ماں کی کوکھ میں پرورش پا کے یہ بڑے ہوئے ہیں، جو تمام تر اذیت ناک کیفیات کو برداشت کرتی رہتی ہیں اور اف تک نہیں کرتی۔ اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ اس ماں کی کوکھ اجڑ چکی ہوگی۔