Advertisement

غزل

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا
آنکھ نہ لگنے سے سب احباب نے
آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا
زندگی ہجر بھی اک موت تھی
مرگ نے کیا کار مسیحا کیا
جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے
راز مرا صبر نے افشا کیا
رحم فلک اور میرے حال پر
تونے کرم اےستم آرا کیا
سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے
مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا
دشمن مومنؔ ہی رہے بُت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

تشریح

پہلا شعر

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

شاعر کہتا ہے کہ آج ہماری حیران آنکھوں نے وہ کھیل دکھا دیا کہ پوچھیے مت۔ وہ محبوب جو ہماری جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا، آج ہماری حیران آنکھوں کا دیر تک تماشا کرتا رہا۔ یعنی دیکھتا رہا۔

Advertisement

دوسرا شعر

آنکھ نہ لگنے سے سب احباب نے
آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

عشق میں عاشق کو نیند سے مطلب۔ اب شاعر کہتا ہے کہ ہماری جو آنکھ نہیں لگتی تھی یعنی ہمیں نیند نہیں آتی تھی تو ہمارے احباب نے یعنی دوستوں نے یہ چرچا کردیا، یہ پھیلا دیا کہ ہماری آنکھ لگی ہے۔ یعنی ہمیں محبت ہو گئی ہے۔ آنکھ نہ لگنے اور آنکھ لگ جانے کی مہاروں کے استعمال نے شعر میں حُسن پیدا کر دیا ہے۔

Advertisement

تیسرا شعر

زندگی ہجر بھی اک موت تھی
مرگ نے کیا کار مسیحا کیا

شاعر کہتا ہے کہ جدائی کی زندگی کون سی راحت افزا تھی۔ بلکہ ایک مصیبت تھی اور ایسی مصیبت جو موت سے بدتر ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر موت آتی ہے تو ہمارے لیے گویا اس نے مسیحا کا کام کیا ہے کہ کم ازکم جدائی کی مصیبت سے نجات دلادی ہے۔

Advertisement

چوتھا شعر

جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے
راز مرا صبر نے افشا کیا

شاعر کہتا ہے کہ میں اس ظالم محبوب کے ظلم کا شکوہ ہرگز نہ کرتا۔ کبھی اس کے ستم کی شکایت نہ کرتا۔ وہ تو میرے صبر نے یہ راز افشا کر دیا کہ وہ میرے صبر کو بار بار آزماتا رہا اور مجھ پر ظلم کرتا رہا اور لوگوں کو اس کا علم ہوگیا۔ ورنہ میں کبھی شکایت نہ کرنا۔

چھٹا شعر

سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے
مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا

شاعر کہتا ہے کہ بے شک آپ کا بیان درست۔ آپ کا وعدہ سچا۔ آپ اپنا وعدہ وفا بھی کریں گے۔ مگر موت بھی اپنے وعدہ وفا کرتی ہے۔ دوسرے دن پر نہیں ٹالتی۔ گویا ہماری یہ حالت کہ جان لبوں پر آتی ہے اور آپ کا طویل مُدّتی وعدہ۔ کیا کہنے۔

Advertisement

ساتواں شعر

دشمن مومنؔ ہی رہے بُت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

مومن کے معنی ایمان لانے والا۔ اب ایمان رکھنے والے کے بُت کیونکر دوست ہو سکتے ہیں۔اب مومن کہتے ہیں کہ ہمارے شاعرانہ نام یعنی تخلص کے سبب سے بُت ہمیشہ ہم سے خفا رہے بلکہ دشمن رہے۔اور ہمیشہ یہی صورت رہتی وہ کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement