Advertisement

ذکر میر میر کی خود نوشت سوانح عمری ہے۔ میر اردو کا پہلا شاعر ہے۔ جس نے سب سے پہلے خود نوشتہ لکھا۔ ذکر میر کے بارے میں نثار احمد فاروقی لکھتے ہیں” اس کتاب کی اہمیت دو گناہ ہے ایک انفس دوسری آفاقی۔ انفسی یہ کہ اس سے میر کے اپنے حالات جن کے متعلق کسی وجہ کا امکان نہیں، کم و بیش تفصیل سے معلوم ہوتے ہیں”

Advertisement

ذکر میر، میر کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات کا آئینہ ہے۔ ذکر میر کے ذریعے وہ تمام موضوعات ہمارے سامنے آتے ہیں جو کہ میر کی شاعری کا اہم جزو ہیں۔اس میں کائنات کے مسائل خودداری،صبر، پاکیزگی ،قربانی،شائستگی، ایثار جیسے نامیاتی پہلوؤں کا آئینہ ملتا ہے۔ ساتھ ہی ذکر میر کے مطالعے سے بہت سی غلطیاں دور ہو جاتی ہیں جو کہ بعض ناقدین کی پیدا کردہ ہیں۔

Advertisement

محمد حسین آزاد میر تقی میر کو آرزو کا شاگرد بتاتے ہیں۔جبکہ ذکر میر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میر خدائے سخن آرزو کے شاگرد نہ تھے اور نہ ہی خان آرزو نے میر کی تعلیم میں کوئی دلچسپی لی۔

Advertisement

اردو ناقدین اور تذکرہ نویس ذکر میر کے بغیر میر کی اور ان کے فن کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ذکر میر دو حصوں میں ہے۔ حصہ اوّل میں ان کے بچپن یعنی والد کی وفات کا ذکر ہے۔میر کی ابتدائی تعلیم فقر اور استغفاء کے بارے میں ذکر میرکے اس حصے سے پتہ چلتا ہے۔میر کو بچپن سے ہی سوزو گداز میل گیا تھا۔مصیبتیں اور پریشانیاں برداشت کرنے کی عادت بچپن سے ہی پڑ گئی تھی۔والد کی وفات ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

ذکر میر کا دوسرا حصہ تاریخ ہند پر زیادہ روشنی ڈالتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد میر دہلی پہنچے۔ نادر شاہ کے حملے شروع ہوگئے، ادھر وہ لوگ تھے جو ان کے والد کے مرید تھے اور عقیدت مند میر کی خاک پا کو بھی آنکھوں سے لگاتے تھے۔ انہوں نے میر کی طرف سے آنکھیں موند لیں۔ احمد شاہ درانی کے برابر حملے ہو رہے تھے۔ محمد شاہ کا انتقال ہوگیا۔ صفرر جنگ نے دھوکہ دے کر نواب بہادر جاوید خان کو مار ڈالا۔ ن تمام واقعات کا ذکر ”ذکر میر“ میں تفصیل سے ملتا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement