تعارف

ذکیہ سلطانہ یکم ستمبر ۱۹۴۴ء کو لکھنو میں پیدا ہوئیں۔ والد حکیم تھے اور گھر میں حکمت کے ساتھ شعر و ادب کا بھی چرچا عام تھا۔ مشہور فکشن رائٹر شفیق فاطمہ شفق ان کی پھوپھی تھیں جن سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ویسے بقول سلطان آزاد وہ افسانہ نگاری میں رضیہ سجاد ظہیر کی شاگردہ رہی ہیں۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم لکھنو میں ہی حاصل کی اور نفسیات میں ایم- اے کرنے کے بعد بی- ایڈ کی ڈگری لی۔ چند برسوں تک لاریٹو کا نونٹ کالج لکھنؤ میں نفسیات کی لکچرار رہیں پھر استعفیٰ دے کر پٹنہ چلی آئیں۔ یہاں سدھارتھ کالج میں چند برس درس و تدریس سے وابستہ رہیں پھر مختلف طرح کی سماجی و ادبی تنظیموں سے وابستہ ہو گئیں۔ دسمبر ۱۹۷۲ء میں سید شفیع مشہدی سے ( جو خود بھی اہم افسانہ نگار اور شاعر ہیں) شادی ہوئی۔ اس کے بعد قلمی نام ذکیہ مشہدی اختیار کر لیا۔

ادبی زندگی

ذکیہ سلطانہ کی ادبی زندگی کا آغاز شادی سے قبل ہی ہو چکا تھا۔ طالبِ علمی کے دوران ان کا ایک افسانہ اسکول میگزین میں چھپا تھا۔ پھر ان کی ایک کہانی’’ صبح نو‘‘ پٹنہ میں شائع ہوئی۔ مگر ذکیہ مشہدی کے قلمی نام سے افسانہ نگاری کی شروعات ۱۹۷۶ء کے آس پاس ریڈیو کے رسالہ ’’آواز‘‘ اور ’’ آج کل‘‘ دہلی میں کہانیوں کی اشاعت سے ہوئی۔ اس کے بعد وہ تواتر کے ساتھ تین ادبی محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔

اب تک انہوں نے کم و بیش چھ درجن افسانے لکھے ہیں جو ہند و پاک کے اہم رسائل میں شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مختلف اداروں کے لئے انگریزی اور ہندی کتابوں کے اردو تراجم بھی کیے ہیں۔ یہ کتابیں زیادہ تر نفسیات اور متعلقہ علوم سے متعلق ہیں۔ نیشنل بک ٹرسٹ کے لئے انہوں نے جیلانی بانو کے افسانوں اور مشہور ناول ’’ ایوان غزل‘‘ کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں زبانوں سے اچھی واقفیت رکھتی ہیں۔ ان کی ادبی سرگرمیوں کا تیسرا پہلو مختلف موضوعات پر لکھے گئے تنقیدی مضامین سے عبارت ہے۔ حال کے برسوں میں انہوں نے سماجی و ثقافتی موضوعات پر بھی اپنے مخصوص انداز میں قلم اٹھایا ہے۔

افسانہ نگاری

ذکیہ مشہدی کے افسانوں میں ایک حساس اور درد مند دل ہر جگہ نمایاں ہے۔ انہوں نے زندگی کی مختلف نا ہمواریوں کو تخلیقی وژن کے ساتھ اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ کسی نسائی تحریک سے باضابطہ طور پر وابستہ نہیں رہیں مگر ان کے یہاں عورتوں کے رنج و الم اور حسرت و یاس و غم کی تصویریں اکثر پیش ہوتی رہی ہیں۔ ان کے افسانے عام طور سے بیانیہ کی تکنیک میں لکھے گئے ہیں جنہیں ایک خاص طرح کا اسلوب اور لب و لہجہ انفرادیت عطا کرتا ہے۔ اپنے افسانوی مجموعہ ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘ کی ابتداء میں محترمہ نے خود لکھا ہے کہ ’’ افسانہ نگار ہونے کے لئے صرف تین چیزیں ضروری ہیں۔ ایک حساس دل، زبان پر دسترس اور گرد و پیش سے آگاہی۔‘‘

افسانوی مجموعہ

ذکیہ مشہدی کا ایک افسانوی مجموعہ “پرائے چہرے” ۱۹۸۴ء میں منظر عام پر آچکا ہے۔ تعلیم بالغاں کے سلسلے میں کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی نوخواندہ لوگوں کیلئے لکھ چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں دو گولڈ میڈل اور متعدد خطائف مل چکے ہیں۔

ذکیہ مشہدی بہار کی ایک ایسی خاتون افسانہ نگار ہیں جنہوں نے بہت جلد شہرت اور مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ وہ صرف دس بارہ برسوں سے لکھ رہی ہیں لیکن اس مختصر عرصے میں انہوں نے افسانہ نگاری کے میدان میں اتنا اونچا مقام حاصل کرلیا ہے کہ ان کے بہت سے ہم عصر اور بہت سے پرانے لکھنے والے بھی قد میں ان سے چھوٹے نظر آتے ہیں۔ یہ سب ان کی کوششوں اور کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ ان کے یہاں تجربے کی کوشش نہیں ہے بلکہ اپنی بات کہنے کی سعی ہے جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہیں۔

کہانی کہنے کا انداز انہیں خوب آتا ہے، طوائفوں کی نفسیات پر بھی انہوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور پوری درد مندی کے ساتھ اس پر روشنی ڈالی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے نگار نگ اور تنوع خیالات کی ترجمانی اور عکاسی کی ہے۔ جن کا تعلق انسانی فکر اور جذبات سے ہے۔ ان پر بہت حد تک لکھنؤی تہذیب کی چھاپ ہے۔ ان کے اب تک پانچ افسانوی مجموعے

  • پرائے چہرے
  • تاریک راہوں کے مسافر
  • صدائے باز گشت
  • نقش ناتمام
  • یہ جہاں رنگ و بو

منظر عام پر آ کر موضوع بحث رہے ہیں اور ان تمام افسانوی مجموعے کے کئی ایسے افسانے ہیں، جو افسانوی ادب میں قابلِ قدر اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں، اس امر کا اعتراف کئی نقادوں نے بھی کیا ہے۔

کہانیاں

  • ذکیہ کی کہانیوں میں
  • موتیا کی خوشبو،
  • بانٹ یہ لمحے کوئی چرایا ہوا سکھ،
  • چاند کے ہاتھ،
  • حساب اور پرستش،
  • چرایا ہوا سکھ،
  • بیوی کی نیاز،
  • ڈاکٹر دیوتا،
  • حجو،
  • منظوروا،
  • بھراسمندر،
  • ایک مکوڑے کی موت،
  • صدائے بازگشت،
  • ہر ہرگنگے،
  • پرس،
  • ماں،
  • انگوٹھی،
  • بکسا،
  • فاختہ،
  • بھیڑیئے سیکولر تھے وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہر کہانی اپنی مثال آپ ہے۔ کسی کو کسی پر فوقیت دینا مشکل ہے۔

ذکیہ مشہدی کا شمار اردو کی مشہور اور مقبول افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ منفرد اسلوب، کردار، واقعات اور وحدت تاثر کی انفرادیت سے بھرپور ان کے افسانے عصری حسیت اور آگہی کے ساتھ ساتھ فکری اور فنّی سطح پر بھی کافی بلند نظر آتے ہیں اور جغرافیائی حدوں کو توڑ کر دور دور تک پسند کئے جاتے ہیں۔ ان کا جو لب و لہجہ اور افسانوی انداز ہے وہ نہ صرف قاری کو متاثر کرتا ہے بلکہ دیر پا اثرات مرتسم کرتا ہے۔

بہار میں فی الوقت فکشن نگار خواتین کا جو سب سے چمکتا ہوا ستارہ ہے اس کا نام ذکیہ مشہدی ہے۔ جہاں دوسرے ستاروں کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ ان کی کہانیاں آکٹوپس کی طرح قارئین کو جکڑ لیتی ہیں اور پڑھنے والا کبھی آنسو پوچھتا ہے کبھی سر دھنتا ہے اور کبھی کتاب بند کر کے جہاں سے ان کی کہانی ختم ہوتی ہے وہاں سے وہ دوسری کہانی اپنے ذہن میں بننا شروع کر دیتا ہے۔ ان کا تعلق اودھ کی سر زمین سے رہا ہے۔ ان کی زبان بالکل دھلی دھلائی ہوتی ہے۔ ان کی کہانیوں کا پلاٹ ایسا ہوتا ہے کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے شعوری طور پر تیار کیا گیا ہے۔

اعزازات

ان کی نثری خدمات کے اعتراف میں ۲۰۱۶ء میں انھیں غالب ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
محترمہ کے افسانے کئی اہم زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ کمیٹی نے انھیں ۲۰۲۰ میں انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Advertisements