Advertisement
ہندو سے لڑیں نہ گبر سے بیر کریں
شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں
جو کہتے ہیں یہ کہ ہے جہنّم دنیا
وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں

تشریح

یہ رباعی مولانا الطاف حسین حالی کی لکھی ہوئی ہے۔ اس میں حالی ہندو اور غیر مسلم لوگوں سے متعلق کہتے ہے۔ کہ اے انسان تم کسی سے نہ لڑو۔بلکہ آپس میں محبت کے ساتھ رہو۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ ہندو اور غیر مسلم میں سے کسی سے دشمنی مت کرو۔ بلکہ تم خود بھی ہر برائی سے بچو اور ہر کسی کے ساتھ برائے کے بدلے بھلائی کرو۔ لڑائی جھگڑے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا جہنم ہے، تو شاعر کہتا ہے ان لوگوں سے کہہ دو کہ وہ اس جنت کی آکر سیر کر لیں۔ حالی اس کے ذریعے سب کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر انسان دنیا میں کسی سی دشمنی نہ کرے، سب کے ساتھ محبت سے رہے تو یہ دنیا جنت کی مانند ہو جائے گی۔

Advertisement
فطرت کی دی ہوئی مسرت کھو کر
اوروں کو نہ کر ملول ،غمگیں ہو کر
یہ عمر بہرحال گزر جائے گی
ہنس ہنس کر اسے گزار یا رو رو کر

تشریح

یہ رباعی تلوک چند محروم کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ اے انسان تو فطرت کی دی ہوئی خوشیاں کھو کر اور غمگیں ہو کر دوسرے لوگوں کو اداس مت کر۔ یہ عمر تو کسی طرح گزر ہی جائے گی کیونکہ اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے تو کوئی نہیں رہ سکتا۔اس لئے یہ تمہارے اوپر منحصر ہے کہ اس زندگی کو تم رو رو کر گزارو یا پھر خوش وخرم ہو کر۔ وہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے۔

Advertisement
چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سوا
سانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سوا
اے شمع !تری حیات فانی کیا ہے
جھونکا کھانے ،سنبھلتے رہنے کے سوا

تشریح

یہ رباعی مرزا یاس یگانہ چنگیزی کی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے شمع تیرے پاس جلتے رہنے کے علاوہ اور موت کے سانچے میں ڈھلنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور تیری زندگی تو فانی ہے اور اے شمع تیری زندگی جھونکا کھانے اور سنبھلتے رہنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں۔ سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟

جواب: ”وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں“ اس مصرعے سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا کو جہنم کہتے ہیں ان سے مولانا حالی مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ آکر اس بہشت یعنی جنت کی سیر کریں۔

سوال: دوسری رباعی میں شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟

جواب: دوسری رباعی میں شاعر نے یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں جو یہ زندگی ملی ہے اسے گزارنا تو ہے ہی۔ اب وہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم ہنس ہنس کر گزاریں یا پھر رو رو کر گزاریں۔

Advertisement

سوال: تیسری رباعی میں حیات فانی کا رشتہ کس چیز سے قائم کیا گیا ہے ؟

جواب: تیسری رباعی میں حیات فانی کا رشتہ شمع سے قائم کیا گیا ہے۔

مصرعوں کو مکمل کیجے۔

  • 1۔ شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں
  • 2۔ یہ عمر بہر حال گزر جائے گی
  • 3۔ جھونکا کھانے سنبھلتے رہنے کے سوا
Advertisement

Advertisement

Advertisement