سیاح افلاک جناب رسول پاک ﷺ کی سیرت اسوۃ حسنہ پر اعتراض کرنا اور کجی نکالنا دشمنان اسلام کا پرانا وطیرہ رہا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے یہ ناپاک حرکت کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ تھوک پلٹ کر ان ہی کے منہ پر پڑا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے کبھی لبرلز کی طرف سے تو کبھی سیکیولرز کی طرف سے کبھی ہندوؤں کی طرف سے تو کبھی عیسائیوں کی طرف سے ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے مبارک نکاح اور رخصتی کی عمر کو لے کر اعتراضات کرتے نظر آرہے ہیں۔ حال ہی میں ہندستان کی حکومت کی ایک ملعون عورت نوپور شرما نے بھی یہی مغلظات بک کر اپنی اصلیت بتا دی۔ اس کے بعد ہمارے کچھ کچے ذہن کے مسلمانوں کے ذہن میں سوالات اٹھتے ہیں اور تشفی بخش جوابات نہ ملنے کے بعد وہ سوالات وہم اور وسوسہ کی شکل اختیار کرتے ہیں اور انہی اوہام وساوس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ لبرلز و سیکیولرز ان سادہ لوح مسلمانوں کو دین سے بیزار کرنے میں لگ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہمارے بھولے بھالے مسلمان ان کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

Advertisement

جواب کی طرف جانے سے پہلے عرض کرتا چلوں کہ یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کا نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عقد میں آنا، تمام امتیوں کی امی جان بننا یہ سب الله پاک کی طرف سے انتخاب تھا۔ خود نبی اکرم ﷺ کی اپنی خواہش نہ تھی جیسا کہ بخاری شریف میں روایت ہے کہ؛
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَى أَنَّكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ وَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَاكْشِفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے دومرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ، ان کا چہرہ کھولیے۔ میں نے چہرہ کھول کردیکھا تو تم تھیں ، میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 3895
(کتاب مناقب الانصار)

جب یہ عقدِ نکاح تھا ہی ربّ عز و جل کی طرف سے تو اس کے بعد کم سے کم کسی مسلمان کیلیے یہ وہم و وسوسہ رکھنا کہ یہ بے جوڑ تھا، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 53 سال اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی عمر 9 سال تھی یہ ظلم اور انسانیت کے خلاف تھا، اپنے ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عین مشیت الٰہی کے مطابق ہی ہے اور اُس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ظاہری حکمت و علت میں بعد میں عرض کرتا ہوں، اس سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ان ناپاک ارادوں پر کچھ تحقیقی اور تنقیدی نظر ڈالنی چاہیے۔

مؤرخین کی رائے

کتب تاریخ کا مطالعہ اگر کیا جائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا طویل العمر صحابیات میں سے ہیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ بڑی خدا رسیدہ عبادت گذار اور بہادر خاتون ان کی عمر تمام مورخین نے سو سال لکھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں۔ سن وفات 73ھ ہے۔ اس حساب سے سیدہ اسماء کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی اور سن دو ہجری میں رخصتی ہوئی تو اس کے مطابق رخصتی کے وقت 19 سال عمر بنتی ہے نا کہ 9 سال۔

جیسا کہ البدایہ والنہایہ میں ہے؛
اسلمت اسماء قديما وهم بمکة فی اول الاسلام… وهی آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين.. بلغت من العمر ماته سنة.
اسماء مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر فوت ہونے والی ہیں۔ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں‘‘۔
( البدايه والنهايه 8 / 346 طبع بيروت)

اسی طرح تھذیب و التھذیب میں ہے؛
اسلمت قديما بعد اسلام سبعة عشر انسانا… ماتت بمکة بعد قتله بعشره ايام وقيل بعشرين يوماً وذلک فی جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين۔
مکہ معظمہ میں سترہ آدمیوں کے بعد ابتدائی دور میں مسلمان ہوئیں اور مکہ مکرمہ میں اپنے بیٹے (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے دس یا بیس دن بعد فوت ہوئیں اور یہ واقع ماہ جمادی الاولیٰ سن 73ھ کا ہے‘
(علامه ابن حجر عسقلانی، تهذيب التهذيب 12 ص 426 طبع لاهور، الامام ابوجعفر محمد بن حرير طبری، تاريخ الامم والملوک ج 5 ص 31 طبع بيروت، حافظ ابونعيم احمد بن عبدالله الاصبهانی م 430ه، حلية الولياء وطبقات الاصفياء 2 ص 56 طبع بيروت)

مزید حوالہ جات

اسلمت قديما بمکة وبايعت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.. ماتت اسماء بنت ابی بکرالصديق بعد قتل ابنها عبدالله بن الزبير وکان قتله يوم الثلثاء لسبع عشرة ليلة خلت من جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين۔
’’سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں قدیم الاسلام ہیں۔ آپ نے رسول اللہ کی بیعت کی۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے چند دن بعد فوت ہوئیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت بروز منگل 12 جمادی الاولیٰ 73ھ کو ہوئی ہے‘‘۔
(محمد ابن سود الکاتب الواقدی 168ه م 230ه الطبقات الکبریٰ ج 8 / 255 طبع بيروت)

کانت اسن من عائشة وهی اختها من ابيها.. ولدت قبل التاريخ لسبع وعشرين سنة.
’’سیدہ اسماء، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عمر کی تھیں۔ باپ کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ ہجرت سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں‘‘۔
(امام ابن الجوزی، اسدالغايه فی معرفة الصحابة ج 5 ص 392 طبع رياض)

اسلمت قديما بمکة قال ابن اسحق بعد سبعة عشر نفسا.. بلغت اسماء مائة سنة ولدت قبل الهجرة لسبع وعشرين سنة.
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں ابتداً مسلمان ہوئیں۔ ابن اسحاق نے کہا سترہ انسانوں کے بعد سو سال عمر پائی ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں‘‘۔
( الاصابة فی تميز الصحابة 4 ص 230 م 773ه، سيرة ابن هشام م 1 ص 271 طبع بيروت،، الکامل فی التاريخ 4، ص 358 طبع بيروت، علامه ابوعمر يوسف ابن عبدالله بن محمد بن عبدالقرطبی 363ه، الاستيعاب فی اسماء الاصحاب علی هامش الاصابة 463ه ج 4 ص 232 طبع بيروت)

اسی تحقیق کی تائید متفق علیہ وہ احادیث بھی کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جنگ بدر اور احد میں شریک تھیں۔ جنگ احد کے موقع پر آپ ام سلیم کے ہمراہ پانی کے مشکیزے اٹھائے مسلمانوں کو پانی پلاتی پھر رہی تھیں (بخار ی کتاب الجہاد و السیر، باب غزوالنساء وقتالھن مع الرجال)

یہ تائید اس طرح ہوگی کہ اگر ہجرت کے وقت بیبی پاک کی عمر 9 سال تھی تو جنگ بدر اور احد میں 10 اور 11 سال کی عمر ہونی چاہیے، اور اتنی کمسن لڑکی کو نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم میدان جنگ میں آنے کی اجازت ہرگز نہ دیتے جبکہ 15 سال سے چھوٹے لڑکوں کو جنگ میں آنے سے منع فرما چکے تھے، تو ایک کمسن لڑکی کو کیسے اجازت عطا فرما سکتے ہیں؟
اس تحقیق سے معترضین کو جواب تو کافی اور وافی مل جائے گا لیکن دو اعتبار سے یہ جواب نا قابل قبول ہے؛

  • اولاً: در اصل حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھما کی عمر کا فرق تاریخی کتب کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ دس سال کا فرق ہے اور عبارت وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين حالانکہ اصل عبارت میں عشر کی جگہ عشرین ہے جس کا مطلب کہ دونوں بہنوں کی عمر میں بیس سال کا فرق ہے اور جب بیس سال کا فرق ہوگا تو نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر 9 سال ہی بنتی ہے ، جو کہ کتب آحادیث سے صحیحہ اسناد سے ثابت ہے تو جو توجیہ موجود بھی ہے اور احادیث صحیحہ کے موافق بھی ہے یہی توجیہ قبول کی جائے گی ورنہ منکرین حدیث ہر اس حدیث کو ماننے سے انکار کردیں گے جو ان کے مزاج و عقل کے خلاف ہو اور اپنی من چاہی تاویلات و توجیہات کریں گے اور اس طرح انکار حدیث کا دروازہ کھولنا اسلام کی بنیادوں کیلیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا اور کئی نئے فتنوں کیلیے دروازہ کھولنا ثابت ہوگا۔ اس کی ایک مثال اس کے تحقیق کا اگر تقابل احادیث مبارکہ سے کیا جائے تو یہ جواب نہ صرف کمزور بنتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دین کی بنیادوں پر بھی ضرب پڑتی ہے وہ کیسے ؟

حال ہی میں ایک اہلسنت کے بہت بڑے نام نے اسی حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ بخآری شریف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دو سو سال بعد لکھی گئی۔ ابھی میں کچھ بات کہوں آپ سنیں اور کچھ دنوں بعد وہ آگے کسی سے کہیں لازمی کچھ نہ کچھ بیان میں تبدیلی ہوگی اور جب وہ آگے کہے گا تو لازمی کچھ اور تبدیلی ہوگی۔
مجھے یہ سن کر بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ شاید ان حضرت نے تدوین حدیث کے مراحل و مراتب اور اصول حدیث کے تحت جو رواۃ اور مرویات کی شرائط ، احتیاط موجود ہیں وہ پڑھیں بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا یہ جواب دینے کے بعد آپ بجز بخآری شریف کہ کسی بھی حدیث کی کتاب کو دلیل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ؟ یقیناً نہیں کر سکتے اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ خود کو اہل قرآن کہہ کر حدیث کا انکار کرتے ہیں آپ ان ہی کی زبان بول رہے ہیں خدارا ہوش میں رہتے ہوئے بولیے۔

  • ثانیاً؛ یہ رائے مؤرخین کی تو کہی جا سکتی ہے محدثین کی رائے اس کے خلاف ہے اور ظاہر ہے جب بھی حدیث و تاریخ میں تقابل ہو تو رجحان ہمیشہ حدیث ہی کو دی جائے گی اتنی موٹی بات تو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی جانتا ہی ہے۔

محدثین کی رائے

جبکہ محدثین کی تحقیق اور روایات کے مطابق رخصتی کے وقت عمر مبارک 9 سال ہی تھی جیسا کہ بخاری شریف میں ہے
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ ( ہجرت کرکے ) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آکر مجھے بخار چڑھا اوراس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہوگئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں ، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی انہوںنے مجھے پکا را تو میں حاضر ہوگئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جارہاتھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں ، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر وبرکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو ، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 3894
صحیح مسلم حدیث نمبر 3479
سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4933
سنن نسائی حدیث نمبر 3380
ابن ماجہ حدیث نمبر 1876

صحاح ستہ کی پانچ کتب میں یہی حدیث مبارکہ آئی ہے کہ رخصتی کے وقت عمر مبارک 9 سال ہی ہے، اور یہی درست بھی ہے لیکن اس پر کم عمری کا اعتراض کرنا در حقیقت اس وقت کے عرف و رواج، بلوغت و صغر پن سے لاعلمی کی وجہ سے ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ تاریخ اسلامی کی کتب میں ایسے بہت واقعات نقل کیے گئے ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب کے معاشرے میں دس سال کی عمر میں ماں بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی اور اس عمر میں نکاح کرنا رواج کے مطابق ہی تھا۔ ان لوگوں کے لئے یہ کوئی نئی اور حیرت کی بات نہیں تھی۔

کم سنی میں نکاح کے چند واقعات

(1) ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔ (سیر اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔

(2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ حجرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے۔
( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
(3) وہیں ہشام بن عروہ جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی روایت کی ہے انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی۔
(الضعفاء للعقیلی جلد4رقم 1583، تاریخ بغداد 222/1

(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایا کہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی۔
(کامل لابن عدی جلد5ر قم 1015)

(5) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے کرائی۔
(تاریخ ابن عساکر جلد70) ۔

(6) امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المہلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا۔
سنن دارقطنی جلد3کتاب النکاح رقم 3836)

نو سال کی عمر میں ماں بننا یہی بتا رہا ہے کہ ان کی رخصتی 8 سال کی عمر میں کی گئی تھی۔

اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے صنعا میں 21 سالہ عورت کو نانی بنے دیکھا ہے، کہ ایک عورت کو 9 سال کی عمر میں حیض آیا اور 10 سال کی عمر میں اس نے ایک بچی کو جنم دیا، پھر یہ بچی بھی 9 سال کی عمر میں جوان ہوئی اور اس نے بھی 10 سالہ عمر میں ایک بچی کو جنم دیا”
"السنن الكبرى” از بیہقی (1 / 319)

بلکہ خود حضرت عائشہ کی ترمذی شریف میں قول موجود ہے کہ
عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا بَلَغَتْ الْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌٌ
جب لڑکی 9 سال کو پہنچ جائے تو وہ عورت ہی ہے۔
ترمذی حدیث نمبر 1109
اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرب میں اس وقت 9 سال کی عمر میں شادی معمول اور عرف کے مطابق تھا ، پھر یہ کہ خود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیرمعمولی نشوونما کی صلاحیت ہے لہذا موجودہ دور پر اور وہ بھی عرب کے علاوہ دیگر ملکوں پر اس وقت اور اس علاقے میں قیاس کرنا کسی طور درست نہیں ہے۔

دوسری بات کہ عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قدوقامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔ بلکہ خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے جسمانی نشوونما کا خاص اسی غرض کی بنا پر خاص خیال کرتی تھیں بلکہ ٹوٹکے استعمال کرتی تھی تاکہ جلد از جلد میری رخصتی کی جائے۔

ابن ماجہ میں مروی ہے کہ
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ، تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَكَلْتُ الْقِثَّاءَ، بِالرُّطَبِ، فَسَمِنْتُ، كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ»
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:میری والدہ(ام رومان زینب )مجھے موٹا کرنے کی تدبیر کیا کرتی تھیں تاکہ میری رخصتی کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں روانہ کریں۔لیکن (کسی تدبیر سے )یہ مقصد حاصل نہ ہوا حتی ٰ کہ میں نے تازہ کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھائی تو انتہائی متناسب انداز کی فربہ ہو گئی۔
ابن ماجہ کتاب الاطعمہ حدیث نمبر 3324

ایک نکتہ

اس کے ساتھ اس نکتہ کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو خود ان کی والدہ نے بغیر اس کے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیا گیا ہو، خدمتِ نبوی ﷺ میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی سب سے زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ان کی رخصتی کردی ہو اور اگر تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ عرب میں عموماً لڑکیاں ۹/برس میں بالغ نہ ہوتی ہوں تو اس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے کہ استثنائی شکل میں طبی اعتبار سے اپنی ٹھوس صحت کے پس منظر میں کوئی لڑکی خلافِ عادت ۹/برس ہی میں بالغ ہوجائے، جو ذہن و دماغ منفی سوچ کا عادی بن گئے ہوں اور وہ صرف شکوک و شبہات کے جال بننے کے خوگر ہوں انھیں تو یہ واقعہ جہالت یا تجاہل عارفانہ کے طور پر حیرت انگیز بناکر پیش کرے گا لیکن جو ہرطرح کی ذہنی عصبیت و جانبداری کے خول سے باہر نکل کر عدل و انصاف کے تناظر میں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں وہ جان لیں کہ نہایت مستند طریقہ سے ثابت ہے کہ عرب میں بعض لڑکیاں ۹/برس میں ماں اور اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

چھوٹی عمر میں رخصتی کی حکمت

قرآن پاک نے رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا۔ نہ صرف مسلمانوں کیلیے بلکہ تمام انسانیت کیلیے حیات مبارک کا ہر ہر پہلو مشعل راہ ہے اور تا قیامت رہنمائی کرتا رہے گا۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیرونی اقوال و افعال تو صحابہ کرام ہر وقت دیکھتے اور سنتے تھے، پھر دوسروں تک وہ احادیث پہنچاتے تھے، لیکن اندرونِ خانہ کا معاملہ مکمل طور پر اس انداز سے محفوظ کرنے کیلیے کہ رہتی دنیا کیلیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ بنے کسی ایسے فرد کا ہونا ضروری تھا جو ان اعمال و اقوال کو محفوظ کرے۔

تجربہ اور مشاہدہ گواہ ہے کہ ذہنی استعداد کی قوت سیکھنے اور حاصل کرنے کیلیے جو سب سے بہترین عمر ہے وہ یہی 9، 10 سال کی عمر سے لیکر 18 ،20 سال کی عمر ہے۔ اس عمر کے حصے میں انسان کا دماغ خالی لوح کی مانند ہوتا ہے۔ عام طور پر جو چیز اس عمر میں نقش ہوجائے ساری عمر حافظے میں محفوظ رہتی ہے۔ اس کا مشاہدہ آپ قران پاک کے حفظ کرنے کیلیے بچوں کی بہترین عمر یہی ہے، اس سے کر سکتے ہیں اور یہی عمر کا حصہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے خدمت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں گزارا جبکہ دیگر ازواج مطہرات کی عمریں استفاده و تحصیل سے زیادہ تھی۔

کوئی اور ایسا فرد گھر کے اندر ہونا ضروری تھا جو یہ علوم دینیہ کے خزانے کو محفوظ کر کے دوسروں تک پہنچائے، اور یقیناً یہ کام ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے بخوبی کیا جس کے نتائج و اثرات واضح طور پر سامنے آئے چنانچه
کانت عائشة أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا فی العامة» (استیعاب علی الاصابة: جلد۴/ ص۲۵۸ ) "
حضرت عائشہ تمام لوگوں میں زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ علم والی اور عام طور پر نہایت پختہ رائے رکھنے والی تھیں۔”

اسی کتاب میں امام ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ حضرت مسروق فرماتے تھے کہ
«رأيت مشيخة من أصحاب رسول اللهﷺ الأکابر يسئلونها عن الفرائض»
"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے جلیل القدر اصحاب کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ سے فرائض کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے”

ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ میرے والد مکرم فرمایا کرتے تھے
«ما رأيت أحدا أعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة رضی الله عنها»
"میں نے کسی کو حضرت عائشہ سے زیادہ عالم نہیں پایا۔ فقہ، طب، شعر ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی ان کا ہم پلہ عالم نہ تھا۔”

امام زہری جوصحابہ کرام کے حالات سے بہترین واقفیت رکھنے والے اور علم حدیث اور فقہ کے مسلمہ امام ہیں، ان کا بیان ہے کہ
«لو جمع علم عائشة إلی علم جميع أزواج النبیﷺ وعلم جميع النساء لکان علم عائشة أفضل»
"اگر حضرت عائشہ کا علم ایک پلہ میں رکھا جائے اور تمام ازواجِ مطہرات اور دیگر تمام عورتوں کا دوسرے پلہ میں اور یہ تمام علم سے آراستہ ہو کر آئیں تو پھر بھی حضرت عائشہ ہی کے علم کا پلہ بھاری رہے گا۔”

ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے
«ما أشکل علينا أمر فسألنا عنه عائشة إلا وجدنا عندها فيه علما»
"مشکل سے مشکل مسئلہ بھی حضرت عائشہ سے دریافت کیا جاتا تو اس کے متعلق بھی علم کا خزانہ ان کے پاس موجود نظر آتا تھا۔”

حاصل کلام

  • یہ نکاح مشیت الہی سے ہی ہوا۔
  • اس وقت عام طور پر اس عمر میں لڑکی بالغ ہوجاتی تھی۔
  • اس عمر میں نکاح عرب کے عرف و رواج کے مطابق تھا۔
  • یہ رخصتی نبی کریم ﷺ کے تقاضہ کے بغیر والدین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرضی کے مطابق ہوا۔
  • اصل حکمت دین کی ترویج تھی جس کا فائدہ تا صبح قیامت جاری رہے گا۔
تحریر ابو عمر غلام مجتبیٰ قادری