غزل

روز جزا جو قاتل دلجو خطاب تھا
میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا
پھرنے سے شام وعدہ تھکے یہ کہ سو رہے
آرام شکوۂ ستم اضطراب تھا
کیا کیا شکن دیے ہیں دل زار کو مگر
اس کے خیال میں ورق انتخاب تھا
عاشق ہوئے ہیں اب کہیں اسی پہ ہوں
شب حال غیر مجھ سے زیادہ خراب تھا
وقتِ وداع ہے بے سبب آزردہ کیوں ہوئے
یوں بھی تو ہجر میں مجھے رنج و عذاب تھا
ہوں کیوں نہ محو خیرت نیرنگ ہائے شوق
جو دل میں شعلہ تھا وہی آنکھوں میں آب تھا
کیا جی لگا ہے تذکرۂ یار میں عبث
ناصح سے مجھ کو آج تلک اجتناب تھا

تشریح

پہلا شعر

روز جزا جو قاتل دلجو خطاب تھا
میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا

محبوب ہر بات سے مکر جاتا ہے۔ لہٰذا ظلم و ستم اور قتل کر کے مکر جانا گویا اس کا وطیرہ ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ میرا قاتل، میرا پیارا محبوب میرا قتل کر کے مکر گیا‌۔ لیکن حشر کے دن جب وہ محو گفتگو تھا اور اس دوران میرا ذکر آجانا اور میری پرش کرنا، دراصل میرے خون ہی کا جواب تھا۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا ہوتا تو پھر بات چیت میں میرا ذکر کیوں کر آتا۔ بہت عُمدہ شعر ہے سوال اور جواب کے استعمال نے اس میں حسن پیدا کردیا ہے۔

دوسرا شعر

پھرنے سے شام وعدہ تھکے یہ کہ سو رہے
آرام شکوۂ ستم اضطراب تھا

پِھرنا ،مُکرنا بھی ہوتا ہے اور لوٹنا بھی۔ اسی مناسبت سے تھکنا آیا ہے۔ گویا محبوب اپنے وعدے سے مکر گیا اور ہم بے قراری کے عالم میں اس کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔ عاشق کو نیند آئے کیا معنی؟لیکن جب آدمی تھک جاتا ہے تو نیند آ جاتی ہے۔ گویا عاشق کو نیند آگئی۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اس بے قراری کے سِتم کا گِلا شکوہ ہمیں آرام کی صورت میں ملا۔چونکہ سونا آرام کرنا ہی تو ہے۔

چوتھا شعر

عاشق ہوئے ہیں اب کہیں اسی پہ ہوں
شب حال غیر مجھ سے زیادہ خراب تھا

شاعر کہتا ہے کہ اس لاغر دل کو محبوب نے کیسے کیسے شکل دیے ہیں۔ کیسے کیسے اس لاغر دل کو توڑا ہے۔ اس کو اذیت دی ہے۔مگر پھر بھی معلوم نہیں کیوں محبوب کا خیال اس دل کے لئے ورق انتخاب کی طرح ہے۔ گویا پسند کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کے خیال میں رہتا ہے۔

پانچواں شعر

وقتِ وداع ہے بے سبب آزردہ کیوں ہوئے
یوں بھی تو ہجر میں مجھے رنج و عذاب تھا

گلباً اس شعر میں مومن نے وداع کا مطلب دنیا سے رخصت ہونے کے معنوں میں لیا ہے۔گویا عاشق دنیا سے رخصت ہو رہا ہے اور معشوق کے چہرے پر رنجیدہ زندگی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔اب شاعر کہتا ہے کہ ہمارے رخصت ہوتے وقت آپ ناحق رنجیدہ ہو رہے ہیں کیوں کہ ہم یہاں ابھی تو وصل کے لطف سے محروم تھے بلکہ اس کے برعکس ہجر کی اذیت برداشت کر رہے تھے۔اب اگر جدا ہو رہے ہیں تو رنج کیوں کر۔

چھٹا شعر

ہوں کیوں نہ محو خیرت نیرنگ ہائے شوق
جو دل میں شعلہ تھا وہی آنکھوں میں آب تھا

شاعر کہتا ہے کہ عشق کی نیرنگیوں سے،اس کے طلسم سے کوئی حیرت زدہ کیوں نہ ہو جائے کہ آگ پانی کی ضد ہے۔مگر یہاں جو آگ دل میں تھی وہی آگ آنکھوں میں بہ صورت آنسو آب ہو گئی ہے۔ یہ جادُو ہی تو ہے۔ مشہور ہے کہ دل جلتا ہے تو آنسو نکلتے ہیں۔

ساتواں شعر

کیا جی لگا ہے تذکرۂ یار میں عبث
ناصح سے مجھ کو آج تلک اجتناب تھا

ناصح ہمیشہ نصیحت کرتا رہتا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ ناصح سے آج تک ہم کو خوا مخواہ پرہیز تھا۔اس سے بھوتوں کی بات تک نہیں کرتے تھے۔مگر آج جب اس سے محبوب کا تذکرہ کیا تو اس نے دل لگا کر سُنا گویا ہمیں ناخق ہی پرہیز تھا اور اس سے محبت کی بات نہیں کی۔

Advertisements