Advertisement

غزل

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
خو رنج رشک غیر کی بھی ہم کو ہوگی
اب اور کچھ نکالیے آزاد کی طرح
دل میں ہوائے بُت میں کیا حصول
رہنا حرم میں مومن مکار کی طرح
نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں
کمبخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے
آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
نے جائے واں بنے ہے نہ بن جائے چین ہے
کیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے
کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

تشریح

پہلا شعر

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

شاعر کہتا ہےہم جو آپ سے دل لگائے بیٹھے ہیں اور آپ کی بے پروائی کے سبب سے اکثر روتے رہتے ہیں۔ کچھ مضائقہ نہیں کہ اگر کہیں آپ کا دل بھی کسی سے اٹکا یعنی الجھا تو پھر دیکھنا کہ آپ بھی ہماری ہی طرح پہروں رویا کریں گے۔

Advertisement

دوسرا شعر

خو رنج رشک غیر کی بھی ہم کو ہوگی
اب اور کچھ نکالیے آزاد کی طرح

محبوب عاشق کو آزار دینے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرتا ہے۔ عاشق سے بے رُخی اور غیر سے میل جول بڑھانا بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب رقیب سے آپ کے میل جول سے جو ہمیں تکلیف ہوتی تھی اس کی اب ہمیں عادت سے ہوگئی ہے۔ یعنی اس کے عادی ہو گئے ہیں۔اس لئے اب ہم تکلیف دینے کی کوئی اور صورت نکالیے کہ اس صورت سے ہمیں رنج نہیں پہنچتا۔

Advertisement

تیسرا شعر

دل میں ہوائے بُت میں کیا حصول
رہنا حرم میں مومن مکار کی طرح

شاعر کہتا ہے کہ دل سے کوئی بات ہو تو ہو ورنہ محض دکھلاوا لا حاصل ہے۔اب دل میں بت کدے کی ہوس،خواہش ہو اور ظاہراً فریبی مومن کی طرح کعبے میں رہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا۔

Advertisement

چوتھا شعر

نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں
کمبخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح

شاعر کہتا ہے کہ عشق میں اس دل کو نہ ہی جدائی کی برداشت ہے اور نہ ہی وصل میں آرام ہے۔ یعنی اس بد نصیب دل کو کسی طرح بھی چین نہیں ہے، سکون نہیں ہے۔

پانچواں شعر

پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے
آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح

شاعر کہتا ہے کہ ہم محض آسمان کے ظلم و ستم سے کہاں برباد ہوتے۔ گویا ایک طرف سے رنج و الم ہوتے تو برداشت کرلیتے۔ لیکن ہماری جان پر کئی طرح کی آفتیں آئی ہیں۔ تب ہماری یہ حالت ہوئی۔

Advertisement

چھٹا شعر

ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے
کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

شاعر کہتا ہے کہ عشق میں ہم اس مقام کو پہنچ چکے ہیں کہ نہ ہی محبوب کے پاس جائے بغیر اس دل کو چین ملتا ہے اور نہ ہی وہ جائے ہی بنتا ہے۔ اب ہم کیا کریں۔ ہمیں تو ہر صورت مشکل ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement