Advertisement
رہتی ہے سب کے پاس تنہائی
پھر بھی ہے کیوں اداس تنہائی

دل نہیں لگتا پھر کہیں اس کا
آ گئی جس کو راس تنہائی

عشق نے پھینکا تھا پہن کے اسے
پہنے ہے جو لباس تنہائی

ساتھ سب کا دیا ہے اب لیکن
خود ہے کتنی اداس تنہائی

زندگی بھر کے ساتھی ہیں میرے
جام ساقی گلاس تنہائی

کون جانے ہوا ہے کیا اِندرؔ
رہتی ہے کیوں اداس تنہائی
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement