باب نمبر11:حصہ نظم

سبق کا نام: غزل: زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے

شاعر کا نام:راجندر منچندابانی

اشعار کی تشریح:

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے
میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے

تشریح:

یہ شعر راجندر منچندا بانی کی غزل سے لیا گیا ہے۔اس شعر میں شاعر نے وقت کے تسلسل اور آنے والے وقت کی گردش کو بیان کیا ہے۔شاعر کا کہنا ہے کہ کئی زمانے اور جگہیں میرے سامنے موجود تھیں۔وقت اپنی کئی مسافتیں طے کر چکا تھا۔لیکن میں مدتوں کی اس مسافت کی طوالت کا ساتھ نہ دے سکا اور اس سفر کی یہ لمبائی دیکھ کر میں اس کے سامنے بے بس ہو گیا اور وہیں ڈھیر ہوگیا۔

دکھا کے لمحۂ خالی کا عکس لاتفسیر
یہ مجھ میں کون ہے مجھ سے فرار کرتے ہوئے

تشریح:

اس شاعر میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے کسی خالی لمحے کا وہ عکس دکھا یا گیا جس سے آنے والے وقت کے کسی بھی عکس یا تصور کی وضاحت ممکن نہ تھی۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اندر بھی یہ آنے والا وقت کوئی تبدیلی لا رہا ہو اور میرے اندر اس تبدیلی کا شائبہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میری ذات میں کوئی فرار اختیار کرکے کوئی نیا شخص اس کی جگہ لے رہا ہو۔

بس ایک زخم تھا دل میں جگہ بناتا ہوا
ہزار غم تھے مگر بھولتے بسرتے ہوئے

تشریح:

اس شعر میں شاعر ںے یہ بیان کیا ہے کہ وقت ہر ایک یاد اور زخم کا مرہم ہوتا ہے۔ وقت اور میری ذات میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا پتا دے رہی ہیں کہ جیسے بہت سے زخم،بہت سے گھاؤ بھر چکے ہوں۔ان سب زخموں کی جگہ بس ایک ہی زخم نے لے لی ہو۔ باقی زخموں کا غم بھی موجود تو ہے مگر ان کا غم اب پہلے جیسا تازہ نہیں بلکہ ان کا احساس ایک بھولے بسرے غم کی صورت میں موجود ہے۔

وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے بدلتے وقت اور احساسات سے جہاں دیگر تبدیلیوں کا پیش کیا ہے وہی رشتوں میں بھی تبدیلی آئی۔رشتے اپنا پہلے جیسا حسن برقرار رکھنے سے قاصر تھے۔یہی وجہ ہے کہ شاعر کو اس کے مخاطب سے بات کرتے بھی چپ لگ گئی۔کیوں کہ اب رشتوں میں پہلے سی گرم جوشی کی بجائے کمزور پڑتے رشتوں کا احساس تھا۔

عجب نظارا تھا بستی کا اس کنارے پر
سبھی بچھڑ گئے دریا سے پار اترتے ہوئے

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے وقت کے خلیج کو پار کرتے دکھایا ہے کہ وقت کی تبدیلی نے حالات کو اس قدر بدلا کہ پہلے جب ایک بستی کے لوگ ساتھ میں اور مہر و محبت سے زندگی بسر کر رہے تھے۔وہی وقت کے سمندر میں بہہ کر لوگ ایسے بیگانے ہو گئے جیسے دریا کے پار اترنے والے اپنی بستی کے باسیوں سے بچھڑ جاتے ہوں۔یعنی لوگ نئی منزلوں جے مسافر ٹھہرے۔

میں ایک حادثہ بن کر کھڑا تھا رستے میں
عجب زمانے مرے سر سے تھے گزرتے ہوئے

تشریح:

شاعر اس شعر میں خود کو بنیاد بناتے ہوئے کہتا ہے کہ وقت اور حالات کی تبدیلی کے یہ تمام واقعات کچھ اس طور پر پیش آئے کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں کوئی حادثہ ہوں یعنی یہ سب تبدیلیاں اس برق رفتاری سے پیش آئیں کہ شاعر کو اپنی ذات پر حادثہ ہونے کا گمان ہوا۔یہ احساس اجاگر ہوا کہ کئی طرح کے زمانے اور مصبیتیں،حالات و واقعات گزر چکے ہوں۔

سوالات:

سوال نمبر 1:زمان ومکاں کے بکھرنے کا کیا مطلب ہے؟

زمان و مکان کے بکھرنے سے مراد ہے دور،زمانہ یا وقت اور جگہیں سامنے موجود ہوں۔زمان و مکاں کے بکھرنے سے مراد کئی طرح کے حالات و واقعات کا پیش آنا یا موجود ہونا ہے۔

سوال نمبر 2:”رشتوں کا حسنِ آخر” سے کیا مراد ہے؟

رشتوں کا حسن آخر سے مراد ہےرشتوں کے مٹتے ہوئے احساسات یا رشتوں کا کھوتا ہوا حسن۔

سوال نمبر 3:شاعر نے اپنے آپ کو "حادثہ” کیوں کہا ہے؟

شاعر نے اپنے اوپر اور اپنے اردگرد واقع ہونے والی پے رد پے تبدیلیوں یا حالات و واقعات کے باعث خود کو حادثہ سے تشبیہ دی ہے کہ۔ جیسے ان سب کے سبب کی وجہ شاعر کی ذات ہو۔